Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

حنفی کا امامت کے لیے شافعی بننا کیسا ہے ؟

ائمہ اربعہ کے نزدیک تراویح کی کتنی رکعتیں ہیں؟

سوال

ایک شخص جومستند عالم دین ہیں ، انہوں نے اپنا سابقہ مسلک حنفی ترک کرکے شافعی مسلک اختیار کرلیا،اور وہ مسلک شافعی کے متعلق ضروری علم دین سے بھی واقف ہیں ، ان کو بعد میں مسلک شافعی کی جامع مسجد میں بحیثیت امام مقرر کیا گیا ، وہ وہاں تقریباً ڈھائی مہینے سے امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن شروع میں ایک یا دو مرتبہ منبر پر سلام کرنا بھول گئے اور نکاح میںایک دو مرتبہ شروع میں ولی اور نوشہ کو یہ الفاظ ’’جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا‘‘ تلقین کرنا بھول گئے ۔ اسی طرح شروع دنوں میں نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع کے بعدقومے میں دعائے قنوت پڑھنا ایک دو مرتبہ سہوًاچھوڑدیا۔ کیونکہ پہلے سے ان کی مشق حنفی مسلک پر تھی ، مگر بعد میں ان سے ایسی کسی بھول کا ظہور نہیں ہوا، اس لئے کہ ان کو پھر مسلکِ شافعی پر بھی مشق ہوگئی۔ حالانکہ مسلکِ شافعی میں منبر پر سلام کرنا صرف سنتِ غیر مؤکدہ یا مستحب ہے اور نکاح میں مذکورہ الفاظ عربی میں تلقین کرانے کے بعداردو میں تلقین کرانا ضروری نہیں ہے ، اسی طرح سہوًا دعائے قنوت ترک کرنے سے بھی نماز باطل نہیں ہوتی ۔ اور مذکورہ امام باشرع متقی ہیں۔ اب اس میں اختلاف ہورہا ہے کہ کیاایسے حنفی مسلک چھوڑ کر شافعی مسلک اختیارکرنے والے امام کے پیچھے شافعی المسلک مصلیوں کی اقتداء جائز ہے یا نہیں ؟ (۱) کیاحنفی مسلک چھوڑ کر شافعی مسلک اختیار کرنا جائز ہے ؟۔ اور ایسا کرنے سے آدمی اسلام کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ؟اور اس طرح تبدیلیٔ مذہب کرنے والے شخص کا امامت کرنا جائزہے یا نہیں؟ (۲) خطبۂ جمعہ کی اذان سے قبل اگر خطیب منبر پر بیٹھنے کے قبل سہواً سلام نہ کیا تو خطبہ اور نماز جمعہ جائز ہوگی یا نہیں ؟ یا کوئی کراہت ہوگی (۳) کیا نکاح میں عربی کے بعد اردو میں’’جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا‘‘ تلقین کرنا ضروری ہے؟۔ اور شرعی اعتبار سے اس طرح ان الفاظ کے تلقین کرانے کی کیا حیثیت ہے ؟ (۴) نماز میں سورۂ کے بعد دوسری سورت ملانے سے پہلے ’’ بسم اللہ ‘‘ پڑھنا نیز بلند آواز سے پڑھنا کیا ضروری ہے ؟ اور اگر سورۂ فاتحہ کے بعد دوسری سورت کے درمیان سے قرأ ت شروع کریں کیا تب بھی ’’ بسم اللہ پڑھی جائے گی ؟ اگر پڑھی جائے تو سراً پڑھی جائے گی یا جہراً ؟ (۵) اگر فجر کی نماز میں سہوًا سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد دعائے قنوت چھوٹ جائے تو یاد آنے پر سجدۂ سہو کیا جاتا ہے، اگریاد نہ آنے کی وجہ سے سجدۂ سہو بھی نہ کیا اور نماز پوری کیا تو کیا اس صورت میں نماز باطل ہوجائے گی اور کیا نماز کو لوٹانا پڑے گا۔ بینواتوجروا۔ (فتویٰ نمبر۴۲؍۱۴۱۱ھ)

جواب

محض امامت کی ملازمت کے لیے مذہب بدل کر شافعی یا حنفی بن جانا جائز نہیں(۱) ۔ باقی مسائل کسی معتبر شافعی عالم سے دریافت کرلیں۔ فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ ۷ ؍ذوالحجۃ ۱۴۱۰ ھ۱

(۱)
ارتحل الی مذھب الشافعی یعزر، سراجیہ ، الدر، قولہ ارتحل الی مذھب الشافعی یعزر أی اذا کان ارتحالہ لا لغرض محمود شرعا الخ أما انتقال غیرہ من غیر دلیل بل لما یرغب من عرض الدنیا وشھوتھا فھو المذموم الآثم المستوجب للتادیب والتعزیر لارتکابہ المنکر فی الدین واستخفافہ بدینہ ومذھبہ الخ الثبات علی مذھب ابی حنیفۃ خیر واولیٰ (ردالمحتار ج۴، ص۸۰)