دیندار انجمن‘‘کی بنیاد کس نے ڈالی ؟ اور اس فرقے کا حکم’’
سوال
صدیق دیندار چن بسویشورکیا قادیانی تھا؟ اور دیندار انجمن کیا قادیانی فرقہ ہے ؟ صدیق دیندار چن بسویشور اور دیندار انجمن کے ارکان کے سلسلے میں علماء دین کا کیا فتویٰ ہے ؟دیندار انجمن کے اراکین کے ساتھ مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے ۔ دیندار انجمن کے اراکین اور صدیق دیندار کے ماننے والے بھی کلمہ پڑھتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے؟ بینواتوجروا (فتویٰ نمبر۱۱۱؍۱۴۲۱ھ)
جواب
صدیق دیندار چن بسویشور جس نے ’’دیندار انجمن ‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ ابتداء ً اس شخص کا تعلق جھوٹے مدعئی نبوت غلام احمد قادیانی سے تھا۔ پھر غلام احمد قادیانی کے مرجانے کے بعد اس کے خلیفہ بشیر الدین محمود کے ہاتھوں قادیان جاکر بیعت کی اور حیدرآباد آکر ہندوؤں کی کتابوں اور جھوٹے مدعئی نبوت کی واہیات باتوں میں تاویل کرکے اپنے آپ کو ہندوئوں کا اوتار، چن بسویشور ، یوسف موعود، مثیلِ موسیٰ ، مہدی الزماں مسیحِ موعود وغیرہ قرار دیتا رہا ۔ اور ان سب کے آگے اپنے آپ کو خدا، مالکِ روزِ محشر ، شافعِ محشر بھی گردانتا رہا۔ ان باتوں کا دعویٰ کرنا کفر ہے اور ان چیزوں کا مدعی کافر ہے ۔ حاصل یہ کہ صدیق دیندار چن بسویشور کافر اور ملحد ہے اور دیندار انجمن مذکورہ بالا تصریحات کے مطابق قادیانیوں کی جماعت ہی کاایک فرقہ ہے اورجیسے باجماعِ امت قادیانی مرتد وکافر ہیں اسی طرح صدیق دینداراور اس کے متبعین بھی کافر ، مرتداور دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہیں۔ اس فرقے سے میل جول اور تعلق دین کے لیے سخت ضرر رساں اور عاقبت کے لیے تباہ کن ہے ۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ مذکورہ بالا کفریہ عقائد کی حامل اس جماعت اور اس سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں اور ان سے بالکل علاحدگی اختیار کریں۔(۱) (احسن الفتاویٰ ج۱؛ص ۴۶) فقط واللہ
تعالی اعلم العبد محمداشرف علی عفی عنہ ۲۱ ؍ربیع الثانی ۱۴۲۱ ھ
(۱)
ومجمل الکلام وزبدۃ المرام ان الواجب لا یشبہ الممکن ولا الممکن یشبہ الواجب فلیس بمحدود ولامعدود الخ ولیس حالا ولا محلا (شرح الفقہ الاکبر ص ۳۶)
(نوٹ :احسن الفتاوی میں قادیانیوں سے قطع تعلق کاحکم ہے)