Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

شیعہ سے سنی عورت کا نکاح درست ہے یانہیں 

شیعہ سے سنی عورت کا نکاح درست ہے یانہیں  ؟

سوال

فاطمہ بیگم سنی ہے اور ایک لڑکا شیعہ ہے ۔ یہ دونوں آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ جب کہ فاطمہ بیگم کے والدین اس سے راضی نہیں ہیں۔ کیا والدین کی رضامندی کے بغیر فاطمہ بیگم اپنا نکاح شیعہ لڑکے سے کرسکتی ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا(فتویٰ نمبر۱۱۵؍ ۱۴۲۱ھ)

جواب

شیعہ کے متعدد فرقے ہیں اور بعض فرقوں کے عقائد سُنّی عقائد سے بہت زیادہ متصادم اور ٹکرانے والے ہیں ۔ اس لیے فاطمہ بیگم شیعہ لڑکے سے نکاح نہ کرے ۔ اگر شیعہ لڑکا شیعی عقائد سے توبہ کرلے اور سنی ہوجائے تو نکاح جائز ہوگا۔ پھر بھی مناسب یہی ہوگا کہ فاطمہ بیگم اپنے والدین کی رضامندی کے مطابق اپنا نکاح کرے(۱)۔ فقط واللہ تعالی اعلم
العبد محمداشرف علی عفی عنہ ۲۷؍ربیع الثانی۱۴۲۱ ھ۱

(۱)
ان الرافضی ان کان ممن یعتقد الخ ان جبرئیل غلط فی الوحی أو کان ینکر صحبۃ الصدیق أو یقذف السیدۃ الصدیقۃ فھو کافر لمخالفتہ القواطع المعلومۃ من الدین بالضرورۃ بخلاف ما اذا کان یفضل علیا او یسب الصحابۃ فانہ مبتدع لا کافر (ردالمحتار ج۳، ۴۶) قولہ وحرم نکاح الوثنیۃ الخ وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ(ردالمحتار ج۳ ؛ ص۴۵)
قوله ولاية ندب ، أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة، بحر (ردالمحتار ج۳ ص ۵۵)