قادیانی کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھنے اور اس کی اقتداء کرنے کا حکم
سوال
مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے کافر ہیں یا مسلمان ؟ جب کہ وہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مہدی تسلیم کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کو ظلی اور بروزی نبی کہتے ہیں ۔ ان کے نزدیک نبوت ختم نہیں ہوئی اور یہ سلسلۂ نبوت جاری رہے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے اور ان کی قبر کشمیر میں موجود ہے ۔ کیا انہیں سلام کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ خودسلام کرتے ہیں تو کیا جواب دیا جائے ؟۔ کیا ان کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟کیا ان کی نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے ؟ فتوی عنایت فرمائیں ، بینواتوجروا(فتویٰ نمبر ۱۴۲؍۱۴۳۰ھ)
جواب
عرب وعجم کے تمام مشاہیر علماء واکابر کامتفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی فرقہ دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہے،یہ لوگ مرتد اور کافر ہیں ۔ اِن سے میل جول رکھنا ، انہیں سلام کرنا،ان کے سلام کا جواب دینا ، اُن کی نمازِ جنازہ پڑھنااور نماز میں قادیانی کی اقتداء کرنا جائز نہیں({ FR 2183 })۔یہ متفقہ فیصلہ سالہا سال پہلے ہوچکا، اُس کے باوجود اس مرتد فرقے کے بارے میں مزید تحقیق وتفتیش کی فکر کرنا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔فقط واللہ تعالی اعلم العبد محمداشرف علی عفی عنہ ۱۴؍رمضان۱۴۳۰ ھ
(۱)
ولا ینجو من الکفر الا من اکفر ذلک الملحد (أی غلام احمد القادیانی) بلا تلعثم و تردد (اکفار الملحدین ، ص ۱۰ مجموعہ رسائل الکشمیری ، ج۳) نیزملاحظہ کریں: مقدمہ ٔبھاولپور( ملفوظاتِ محدث کشمیریؒ ص:۴۸ )
تیسرا فیصلہ: قادیانیت اور اس سے وابستگی کا حکم (المجمع الفقہ الاسلامی مکہ مکرمہ کے فقہی فیصلے ص ۲۵)