Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

قادیانی کی تجہیز وتکفین کا حکم

قادیانی کی تجہیز وتکفین کا حکم

سوال

مسلمان ڈاکو کی تجہیز وتکفین وتدفین ونماز جنازہ کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے ۔ اگر مذکورہ اسلامی احکام نافذ نہیں ہوسکتے تو کن وجوہات کی بناء پر ؟ قادیانی کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے ؟ ۔ فتوی عنایت فرماکر ممنون ہوں، بینواتوجروا(فتویٰ نمبر ۹۷؍۱۴۰۶ھ)

جواب

ڈاکو کو نہ غسل دیا جائے گا نہ کفن ، نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اورنہ اسلامی طریقے پر اس کو دفن کیا جائے گاتاکہ اس کی اہانت ہواور دوسرے اس انجام سے ڈر کر ایسی حرکتوں میں مبتلا نہ ہوں ، یہی حکم قادیانی کا بھی ہے کہ وہ مرتد ہے ۔

وھی فرض علی کل مسلم مات خلا اربعۃ، بغاۃ وقطاع طریق، فلا یغسلوا ولا یصلی علیھم، الدر،قولہ فلایغسلوا الخ انمالم یغسلواولم یصل علیھم اھانۃ لھم وزجرا لغیرھم عن فعلھم (ردالمحتار ج۲ ؛ ص۲۱۰) اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب عند الاحتیاج،الدر،قولہ فیلقی فی حفرۃ ای ولا یغسل ولا یکفن (ردالمحتار ج۲ ؛ ص۲۳۰) فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ ۲۸؍ رجب ۱۴۰۶ ھ