قادیانی کو نماز میں شرکت کی اجازت دینے کا حکم
سوال
سڈبیری کنیڈا میں کوئی مسجد نماز جمعہ کے لیے نہیں ہے ، سنا ہے کہ ایک صاحبِ خیر عرب نے ایک ہال اپنی جانب سے مخصوص کردیا ہے ، جس میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز اداکرنے کی اجازت دی ہے ۔ من جملہ تمام مصلیوںکے ایک شخص قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ، جن کی پاکستانی شہریت ہے اور جن کو حکومتِ پاکستا ن نے مسلمانوں کے گروہ سے خارج کردیا ہے ۔ اس قادیانی کا مصلیوں میں شریک ہوکر نمازِ جمعہ اداکرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں دوگروہ ہوگئے ہیں ۔ ایک گروہ قادیانی شخص کے مصلیوں میں شامل ہونے سے اپنی نماز کو فاسد نہیں سمجھتا ، جبکہ امام صاحب بھی حنفی ہیں ، مگر دوسرا گروہ نماز کے فاسد ہونے کے خیال سے علاحدہ مقام پر نماز اداکرتا ہے ۔ براہِ کرم ایسی صورت کے احکام کیا ہیں اور کون سا گروہ صحیح راستے پر ہے اور کونسا غلط راستے پر ؟خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام، فقہ کی رو سے کیا ہیں؟۔ تفصیل سے فتویٰ ارسال فرمائیں تاکہ ان حضرات کی رہنمائی کی جاسکے ۔ بینواتوجروا (فتویٰ نمبر ۲؍۱۴۰۲)
جواب
قادیانی فرقہ دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہے(۱) ،اس فرقے سے میل جول اور تعلق دین کے لیے سخت ضرر رساں اور عاقبت کے لیے تباہ کُن ہے ، اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ کسی قادیانی کو مسجد میں آنے اور نماز میں شریک ہونے کی بالکل اجازت نہ دیں۔اگرچہ کسی کافر کی شرکت سے دوسروں کی نماز فاسد نہیں ہوگی ۔ قرآنِ مجید میں ہے ۔
مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللّٰہِ شَاھِدِیْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِھُمْ خَالِدُوْنَ (التوبۃ ۱۷) فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ یکم محرم الحرام ؍ ۱۴۰۲ ھ
(۱)
لاتجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ (المجادلۃ ۲۲)قداخبرتعالی فی کتابہ ورسولہ فی السنۃ المتواترۃ عنہ :انہ لانبی بعدہ لیعلمواان کل من ادعی ھذاالمقام بعدہ فھوکذاب افاک دجال ضال مضل (تفسیر ابن کثیر ج ۶ ص ۴۳۱)دعوی النبوۃ بعدنبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کفربالاجماع (شرح الفقہ الاکبرص۲۰۲)من جحد القرآن ای کلہ اوسورۃ منہ اوآیۃ ،قلت وکذا کلمۃ اوقراء ۃ متواترۃاوزعم انھالیست من کلام اللہ تعالی کفر(شرح الفقہ الاکبر ص ۲۰۶)فان ہجرۃ اھل الاھواء والبدع واجبۃ علی مرالاوقات مالم یظھر منہ التوبۃ والرجوع الی الحق (مرقاۃ المفاتیح ج۸ ص ۷۵۹)عن محمد بن جبیر عن ابیہ وکان جاء فی اساری بدر قال سمعت النبی ﷺیقرء فی المغرب بالطور(صحیح البخاری رقم الحدیث ۳۰۵۰)ان جبیرا قال سمعتھامن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وانامشرک فکادقلبی ان یطیر(مسندالحمیدی ج ۱ ؛رقم الحدیث ۵۶۶)(فتاوی محمودیہ ج۲ ص ۱۳۱)(کتاب الفتاوی جلد نمبر ۳ ص ، ۳۰۴،۳۲۴)(فتاوی ختم نبوت ج ۱ ص ۳۵۴)