Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

کفریہ جملے کہنے والے کا حکم

کفریہ جملے کہنے والے کا حکم

سوال

میں محمدعمران ، میرانکاح سیمین سے چارسال قبل ہواتھا،میری بیوی بہت بدزبان اوربے احتیاط گفتگوکیاکرتی ہے دینداری کاخیال نہیں ،گذشتہ بیس دنوں پہلے کی بات ہے کہ رات کو سوتے وقت میری بیوی میرے ساتھ بدزبانی کررہی تھی ۔اس موقع پر اس نے یہ الفاظ کہے۔ ’’اللہ واللہ کوئی نہیں ہے اورمیں کسی خداکو نہیں مانتی،غیرمسلم مورتی پوجتے ہیں ، ان کے سامنے تومورتی ہوتی ہے ۔اگراللہ بھی ہوتاتونظرآتا، اللہ تونظر نہیں آتا،اس لئے اللہ واللہ کوئی نہیں ہے،اگرہوتاتومیری مددکوآتا‘‘(نعوذ باللہ) یہ بات میری بیوی نے کم از کم نودس مرتبہ کہی،میںاس طرح کے کلمات کہنے سے اسے روکتارہالیکن اس نے باربار یہی الفاظ دہرائے ،اوروہ اس وقت زیادہ غصے کی حالت میں بھی نہیں تھی،میں نے اس گفتگو کے بعد میری بیوی کواس کے میکے میں چھوڑدیا، اس کے بعد سے میں سفرمیں ہوں، میں نے مہر بھی اداکردیا تھا ، مذکورہ صورت میں مجھے یہ معلوم کرناہے کہ مذکورالفاظ کہنے سے کیامیری بیوی اسلام سے خارج ہوگئی اورکیاہمارانکاح ٹوٹ گیا؟ یہاں وضاحت کردوں کہ ان کلمات کے کہنے کے بعد اس نے توبہ واستغفار بھی نہیں کیاہے جب کہ میںاسے توبہ کرنے کے لئے بارہاکہہ چکاہوں۔ فتوی مرحمت فرماکر مشکورفرمائیں ، بینوا توجروا ۔ (فتویٰ نمبر۱۵؍۱۴۳۶ھ)

جواب

سوال میں مذکورالفاظ صریح کلماتِ کفرہیں،کہ خداکے وجود کا کھلم کھلاانکار کیاگیاہے ،پس مذکورالفاظ سے عورت دائرہ ٔ اسلام سے خارج ہوکر کافر ہوگئی ، اور شوہر سے اس کانکاح ٹوٹ گیا۔

رجل قال لآخرازخدای بترس فقال خدای کجاست یکفر الخ (عالمگیری ج ۲ص ۲۶۲)یکفراذاوصف اللہ تعالی بمالایلیق بہ الخ او نسبہ الی الجھل اوالعجزاوالنقص الخ (عالمگیری ج ۲ص ۲۵۸ ) ارتد احد الزوجین عن الاسلام وقعت الفرقۃ بغیرطلاق فی الحال قبل الدخول وبعدہ الخ ( عالمگیری ج ۱ ص ۳۳۹)

عورت پرلازم ہے کہ جلدازجلد ان کافرانہ خیالات سے توبہ کرے اورکلمہ پڑھ کر تجدیدِ ایمان کرلے اورآئندہ ایسی گفتگو سے سخت پرہیزکرے ،اگرعورت توبہ کرکے مسلمان ہوجائے تو دوبارہ تجدیدِنکاح کے بعد دونوں کاازدواجی زندگی گذارناجائز ہوگا(۱)۔فقط واللہ تعالی اعلم العبدمحمد اشرف علی عفی عنہ ۱۷محرم ۱۴۳۶

(۱)

عن ابن عباس : ان رجلا من الانصار ارتد عن الاسلام ولحق بالمشرکین فانزل اللہ تعالی کَیْفَ یَھْدِی اللہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ(آل عمران آیت :۸۶ ) الی اٰخر الایۃ فبعث بھا قومہ فرجع تائبا فقبل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذلک منہ و خلی عنہ (مسند احمد رقم الحدیث ۲۲۱۸)
من ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام الخ فان اسلم فبھا والا قتل الخ واسلامہ ان یتبرأ عن الادیان سوی الاسلام او عما انتقل الیہ بعد نطقہ بالشھادتین (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ج۴، ص۲۲۶)