Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

کیا نماز فجر کے بعد مصلّے پرکھڑے ہوکر سلام پڑھنا ثابت ہے ؟

کیا نماز فجر کے بعد مصلّے پرکھڑے ہوکر سلام پڑھنا ثابت ہے ؟

سوال

ایک مسجد میں ہرروز بعدنمازِفجر فورًا دعا کے بعدامام اور تمام مقتدی اجتماعًا مصلّے پر کھڑے ہوکر بلندآوازسے سلام پڑھتے ہیں ،جب کہ مسجد میںذکر بالجہر کرنا منع ہے اور دیر سے آئے ہوئے نمازیوں کو خلل بھی ہوتا ہے، مزید یہ کہ اس پر ایساالتزام ہے کہ سلام کے لیے کھڑے نہ ہونے والوں کو مطعون کرتے ہیں ۔ ازراہِ کرم ازروئے شریعت اورحنفی المسلک کے مطابق معلوم کرائیں کہ یہ عمل جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس طرح کا عمل صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ،فقہائے کرام واولیائے عظام رحمہم اللہ نے کبھی کیا ہے یا نہیں ؟فتوی عنایت فرماکر مشکوروممنون فرمائیں ،مہربانی وکرم ہوگا۔ بینوا توجروا(فتویٰ نمبر۱۵؍۱۳۹۸ھ)

جواب

مذہب حنفی میں نماز فجر کے بعد مصلّے پر کھڑے ہوکر سلام پڑھنا ثابت نہیں ہے(۱)اور کھڑے نہ ہونے والوں کو مطعون کرنا غلط ہے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ ۶؍ذوالحجۃ ۱۳۹۷ ھ

(۱)
سعن ابن مسعود ؓ انہ اخرج جماعۃ من المسجد یہللون ویصلون علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم جھرا وقال لہم ما اراکم الا مبتدعین (رد المحتار ج۶ ص ۳۹۸)