مشرکہ سے نکاح کو جائز سمجھنا کفر ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کو عاق کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس اہم شرعی مسئلے کی تفصیل جانیے۔
سوال
(۱)
میراایک لڑکااوردولڑکیاں ہیں ،لڑکاتقریبا۳۲سال کاہے ،اس کی پہلی شادی ہوئی تھی، ان دونوںمیاں بیوی میں ناچاقی کی وجہ سے اس نے پہلی بیوی کوطلاق دیدی اور سات سال کاعرصہ ہواہے،ابھی ایک دودن پہلے میرے لڑکے نے ایک بدھ مذہب کی لڑکی سے رجسٹرمیریج کیاہے ،جواسلامی نقطہ نظرسے ایک قبیح فعل ہے ،میراذاتی مکان ہے ، کیامذکورہ حالت میں میرے لڑکے کواپنی جائیدادمیں حصہ دینے سے میںعاق کرسکتاہوں ؟۔
(۲)
اگر میں اپنی جائداد لڑکیوں کو وصیت کردوں اور میرے بعد میرا لڑکا عدالت سے رجوع کرے اور چونکہ اسلام میںورثہ کے لئے وصیت معتبرنہیں ہے ، کیا عدالت میری وصیت کو منسوخ کرتے ہوئے بیٹے کو حصہ دار ٹہرائے گی ۔ بینوا توجروا (فتوی نمبر ۸۰؍۱۴۳۵ھ)
جواب
(۱)
مشرکہ عورت سے نکاح حرام ہے ،اورشرعایہ نکاح غیر معتبراورباطل ہے ،مسئولہ صورت میں اگرمذکورلڑکے نے یہ سمجھاہو کہ مشرکہ سے نکاح جائز ہے تب تو(نعوذ باللہ )یہ لڑکاکافرہوگیا، مسلمان باپ کاوارث نہیں ہوگا، اوراگرلڑکانکاح ِمشرکہ کے حرام ہونے پریقین رکھتاہوتواس نکاح کی وجہ سے وہ سخت گنہگارہوا،تاہم مسلمان ہے ،اس لئے اپنے باپ کاوارث ہوگا،عاق کرنے سے لڑکاعاق نہیں ہوگا،البتہ مستفتی اپنی زندگی ہی میں مکان کے دوحصے کرکے لڑکیوں کوالگ الگ ہبہ کردے اوردونوں لڑکیوں کے حوالے کرکے ان کے قبضے (پوزیشن )میں دیدے تومکان لڑکیوں کی ملک ہوجائے گااورمستفتی کے انتقال کے بعد اس کاترکہ شمار نہ ہوگا۔
(۲)
.عدالت اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی
(۱)
ولاتنکحو المشرکات حتی یؤمن ( البقرۃآیت: ۲۲۱) وحرم نکاح الوثنیۃ بالاجماع (الدرالمختارعلی ہامش ردالمحتار ج ۳ ص ۴۵) من اعتقدالحرام حلالا او علی القلب یکفرالخ (عالمگیری ج ۲؛ص ۲۷۲) والثالث اما اختیاری وھو الوصیۃ او اضطراری وھو المیراث (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ج۶، ص۷۵۸)فقط واللہ تعالی اعلم
العبدمحمد اشرف علی عفی عنہ ۱۱ربیع الثانی ۱۴۳۵ ھ
(۲)
یعنی اگرعدالت غیر متعصب اور مسلم پرسنل لاکے قوانین سے واقف ہوتو یہ