مسلمان لڑکی سے شادی کرنے کے لئے اسلام قبول کرنے کا حکم
سوال
شریعت میں اس غیر مسلم شخص کا کیا مقام ہے جو محض کسی مسلمان لڑکی سےشادی کرنے کی غرض اور دیگر مفادات کی حصول یابی کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرتا ہے؟ بینواتوجروا (فتویٰ نمبر ۴۱؍۱۴۱۶ھ)
جواب
جو شخص برضا ورغبت کلمہ پڑھ لے اور توحید ورسالت نیز دین کے دیگر بنیادی عقائد کو تسلیم کرلے وہ مسلمان ہے ، خواہ قبولِ اسلام کے بعد وہ کسی مسلمان لڑکی سے نکاح کرلے ، اس کی نیت پر شک وشبہ کرنے اور اس کے مسلمان ہونے میں تردد کرنے کا ہمیں حکم نہیں دیا گیا۔ (۱) فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمدعفی عنہ ۳؍ ربیع الثانی؍۱۴۱۶ھ
(۱)
عن اسامۃ بن زیدؓ قال بعثنا رسول اللہ ﷺ فی سریۃ فصبحنا الحرقات من جھینۃ فادرکت رجلا فقال لاالہ الا اللہ فطعنتہ فوقع فی نفسی من ذلک فذکرتہ للنبیﷺ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔أقال : لآالہ الااللہ وقتلتہ ؟ قال قلت یا رسول اللہ انما قالہا خوفا من السلاح قال افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم أقالہا ام لا ۔ فما زال یکررہا علی حتی تمنیت أنی اسلمت یومئذ ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث ۹۶باب تحریم قتل الکافر بعد أن قال لاالہ الااللہ۔، کذا فی صحیح البخاری ۴۲۶۹ و ابوداؤد ۲۶۴۳ )قال القرطبی الخ فیہ دلیل علی ترتب الاحکام علی الاسباب الظاہرۃ دون الباطنۃ ( فتح الملہم شرح صحیح مسلم ج؛۲ ص۶۲)