دارالعلوم سبیل الرشاد

وارثین میں ترکےکی تقسیم

وارثین میں ترکےکی تقسیم

سوال

بخدمت حضرت مفتی صاحب قبلہ دامت برکاتہم
دارالافتاء ، دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور 
میرے دادا عظمت اللہ خان کا انتقال 2005 میں ہوا تھا۔ وارثین میں بیوی (حمیدہ بی ) ، دو لڑکے (عرفان علی خان، عارف علی خان) اور دو لڑکیاں( تسنیم بانو، تبسم بانو) ہیں، پھر ابھی دو ماہ پہلےدادی بھی فوت ہوگئیں ، ان کے بھی وارث یہی دو لڑکے دو لڑکیاں ہیں ۔ مرحوم کی جائداد پونے سات سینٹ جگہ ہے ،اس میں چار سینٹ میں ایک رہائشی گھر ہے ، جس کی دوسری منزل (علاحدہ پورشن ) کو دادا نے زندگی ہی میں تسنیم بانو کو دے کر ان کے حوالے کردیا تھا۔ مرحوم کی جائداد مذکورہ وارثین میں کس طرح تقسیم کی جائے ۔ مرحوم کے ذمہ کوئی قرض نہیں ۔ مرحوم کی کوئی وصیت نہیں ۔ فقط والسلام ثانیہ علی خان ۔

جواب

مسئولہ صورت میں مرحوم عظمت اللہ خان صاحب کے ترکے کو چھ حصوں میں تقسیم کرکے دو لڑکوں (عرفان علی خان ، عارف علی خان ) میں سے ہر ایک کو دو حصے اور دو لڑکیوں(تسنیم بانو، تبسم بانو) میں سے ہر ایک کو ایک حصہ دیا جائے ۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا