شوہر کی وفات کے بعد حمل ساقط کرنے کا حکم
سوال
زید کا نکاح فاطمہ کے ساتھ ہوا،فاطمہ تین ماہ کے حمل سے تھی ،اس وقت زیدکا انتقال ہوا،اب فاطمہ کے رشتہ دار حمل ساقط کروانا چاہتے ہیں ،ان سے اس کی وجہ پوچھنے پر یہ بتارہے ہیں کہ اگر فاطمہ کا دوسرانکاح کرنا ہے تو یہ بچہ کس کے پاس رہے گا۔اگر یہ بچہ پیدا نہ ہوا تو دوسرےنکاح کے لیے سہولت ہوتی ہے ،براہ کرم یہ بتائیں کہ حمل ساقط کرسکتے ہیں یانہیں ؟۔ فقط والسلام مستفتی(سید محمد صادق ) ہائوز نمبر 219/85 شرمین نگر کرنول ۔
جواب
بلاعذرِ شرعی حمل گرانا فی نفسہ ناجائز ہے، لیکن اگر اعذار ( بچہ یاماں کی جان کو سخت خطرہ ہو یا عورت کی صحت حمل کو برداشت نہیں کرسکتی یا عورت کا دودھ بندہوجانےکا اندیشہ ہو جس کی وجہ سے پہلے بچہ کو نقصان ہو اورکوئی تجربہ کا رمستند مسلمان ڈاکٹر ان امور کی تصدیق کرتا ہو) کی وجہ سےایک سوبیس دن گذرنےسے پہلےشدیدعذر کی وجہ سے حمل گرانے کی گنجائش ہے ۔ اور ایک سو بیس دن کے بعد کسی بھی صورت میں حمل ضائع کرنا جائز نہیں ہوتا ۔ پس صورتِ مسئولہ میںچوںکہ کوئی عذرِ شرعی نہیں اس لئے مذکوربیوہ کا حمل گرانا جائز نہیں ۔محض شوہر کی وفات،یا بچہ کی پرورش کی مجبوری حمل گرانے کی شرعی وجہ نہیں ۔ اگر بچہ ہوا تو اس کا حقِ پرورش سات سال کی عمر تک اوراگر بچی ہوئی تو اس کا حقِ پرورش نوسال کی عمر تک ماں کو ہوگا بشرطیکہ ماں دوسرا نکاح نہ کرے ،اگر ماں دوسرا نکاح کرلے تو مدتِ حضانت تک حقِ پرورش نانی کو ہوگا ،اس کے بعد داداکی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اپنے پاس بلالے اور اپنی تربیت اور نگرانی میں رکھے ۔
قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، الخ وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل الخ ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل (ردالمحتار ج۳ ص ۱۷۶) ویکرہ ان تسعی لاسقاط حملھا وجازلعذر، الدر،قولہ وجازلعذرکالمرضعۃ اذاظھربھاالحبل وانقطع لبنھا ولیس لابی الصبی مایستأ جر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوایباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحبل مضغۃ اوعلقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدرواتلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما وجازلانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی ،خانیۃ،(ردالمحتار ج ۶ ص ۴۲۹)