مسجد کے سیلر میں خواتین کے اصلاحی بیان میں شرکت کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہماری مسجد کے سیلر (تہہ خانہ) میں مستورات کے لیے معقول پردے کےساتھ ماہانہ ایک مرتبہ علماء کرام کا اصلاحی خطاب ہوتا ہے، مسجد کے بانی اور ذمہ دارانِ مسجد کا کہنا ہے کہ ہم نے مسجد کا تہہ خانہ (سیلر) گاڑیوں کی پارکنگ او ر جنازے کی نماز کے لیے بنایا ہے، جب کہ جمعہ میں اور کبھی ضرورت پڑنے پر لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بنا پر سیلر میں بھی نماز ہوتی ہے۔ تو کیا اس سیلر میں جو مسجد کا گراؤنڈ فلور ہے، مہینے میں ایک مرتبہ مستورات پاکی کی حالت میں اصلاحی خطاب سننے کے لیے مسجد آسکتی ہیں ؟۔اور وہ جن مستورات کو شرعی عذر کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی، وہ باہر ہی سے واپس ہوجاتی ہیں یا پھر مسجد کے باہر کے حصے میں استنجاء خانے کے پاس جو جگہ ہے وہاں وہ بیٹھ کر بیان سن کر واپس ہوجاتی ہیں۔ جس طرح شہر بنگلور کے مرکز میں جب مستورات کا جوڑ ہوتا ہے تو وہ بھی وہاں گراؤنڈ فلور میں پارکنگ کی جگہ میں جمع ہوتی ہیں اور وہاں کے بیانات سے مستفید ہوتی ہیں؟۔ واضح رہے کہ ماہانہ ایک مرتبہ مستورات کے لیے علماءِ کرام کا اصلاحی خطاب ہم نے اس لیے رکھا ہے کہ یہاں کی بعض خواتین نشے کی لت میں اس حد تک مبتلا ہو چکی تھیں کہ اپنے شوہروں اور بچوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ بے حیائی کی صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ تیرہ سال کی ایک لڑکی حاملہ ہو گئی تھی۔ لہٰذا اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کی اصلاح اور خواتین کو دین کی طرف متوجہ کرنے کے مقصد سے ماہانہ ایک مرتبہ مستورات کے لیے اصلاحی بیان کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جہاں یہ منکرات ہورہے ہیں وہاں مسجد کے علاوہ کوئی بڑی جگہ نہیں ہے جہاں پر مستورات آکر دین کی بات سن سکیں ۔از روئے شرع آپ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ فقط والسلام۔ابو عبداللہ
جواب
مسجد میں مستورات کے جمع ہونےکا انتظام احکامِ شریعت کے خلاف ہےاِس لئے کہ جس طرح نمازباجماعت اداکرنےکے لیے مسجد آناجائز نہیں اسی طرح وعظ ونصیحت سننے کے لئے مسجد کے کسی حصے میں پردے کے ساتھ ہی سہی جمع ہوناعورتوں کے لئے جائز نہیں ۔ البتہ خواتین کی اصلاح اور دینی تربیت کے لیے مدارسِ نسوان میں مستورات کا اجتماع رکھناچاہئےیا اصلاحی بیان سننے کا انتظام اس طرح کرنا چاہئےکہ خواتین اپنے اپنے گھروں میں رہ کر اس سے استفادہ کریں جیسے آڈیوبیان آن لائن سنایاجائے ۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت لو أدرك رسول اللهﷺ ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل قلت لعمرة: أومنعن؟ قالت: نعم (صحیح بخاری شریف حدیث نمبر 869) ويكره حضورهن الجماعة ولو لجمعة وعيد ووعظ مطلقا ولو عجوزا ليلا على المذهب المفتى به لفساد الزمان، الدر ، قوله ولو عجوزا ليلابيان للإطلاق أي شابة أو عجوزا نهارا أو ليلا،قوله على المذهب المفتى بہ أي مذهب المتأخرين (رد المحتار ج ۱ص ۵۶۶) قوله ولا يحضرن الجماعا ت لقوله تعالى {وقرن في بيوتكن}الأحزاب 33، وقال ﷺ صلاتها في قعر بيتها أفضل من صلاتها في صحن دارها وصلاتها في صحن دارها أفضل من صلاتها في مسجدها وبيوتهن خير لهن ،ولأنه لا يؤمن الفتنة من خروجهن أطلقه فشمل الشابة والعجوز والصلاة النهارية والليلية قال المصنف في الكافي والفتوى اليوم على الكراهة في الصلاة كلها لظهور الفساد، ومتى كره حضور المسجد للصلاة فلأن يكره حضور مجالس الوعظ خصوصا عند هؤلاء الجهال الذين تحلوا بحلية العلماء أو، ذكره فخر الإسلام (البحرالرائق ج1 ص 380) ولا يحضرن الجماعات لما فيه من الفتنة والمخالفة ،مراقی الفلاح ، قوله: “والمخالفة” أي مخالفة الأمر لأن الله تعالى أمرهن بالقرار في البيوت فقال تعالى وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنّ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص 304 ) والفتوی الیوم علی الکراھۃ فی کل الصلوات لظہور الفسادکذافی الکافی وہوالمختار کذافی التبیین(عالمگیری ج ۱ص ۸۹)
(فتاوی دارالعلوم سبیل الرشاد جلد نمبر ۱۶صفحہ نمبر ۱۳۸)جلد نمبر17ص 46)
(کفایت المفتی ج5 ص 391 تا 40) (محمود الفتاوی ج7 ص 592 تا614)