Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

میت کے ناخن اور غیر ضروری بال نکالنے کا حکم

میت کے ناخن اور غیر ضروری بال نکالنے کا حکم

سوال

عرض یہ ہے کہ کیا کسی میت کے ناخن اور غیر ضروری بال یعنی بغل کے بال اور زیر ناف بال نکالنا چاہئے یا نکالنا جائز نہیں ۔ اس سلسلے میں شرعی حکم سے آگاہ فرماکر مشکو رفرمائیں ۔فقط والسلام محمد اکرم ،نزد مسجد فتح ملان پٹی ۔نندیال

جواب

میت کے کوئی بھی بال(بغل یا زیر ناف کے) نکالنا اور ناخن کاٹنا جائز نہیں ۔ اور اگر بال یا ناخن کاٹے جائیں تو بھی وہ سب میت کے ساتھ کفن میں رکھ کر دفن کیے جائیں گے ۔

ولا يسرح شعره أي يكره تحريما ولا يقص ظفره الخ ولا شعره ، الدر، قوله: أي يكره تحريما لما في القنية من أن التزيين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لا يجوز نهر، فلو قطع ظفره أو شعره أدرج معه في الكفن (ردالمحتار ج۲ ص ۱۹۸) ولایقص ظفرہ وشعرہ لانھا للزینۃ وقد استغنی عنھا والظاہر ان ہذ االصنیع لا یجوز (البحرالرائق ج۲ ص ۳۰۴) 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا