Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

مسلمان اپنے ہر معاملے میں مرضی الٰہی کو ترجیح دے یااپنی خواہش کو؟

مسلمان اپنے ہر معاملے میں مرضیِ الٰہی کو ترجیح دے یا اپنی خواہش کو؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مسلمان کوکسی بھی معاملے میں خدا کے حکم اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو ترجیح دینا چاہیے یا اپنی خواہش کو؟ ۔ بینواتوجروا(فتوی نمبر۴۷؍۱۴۰۰ھ)

جواب

تمام معاملات میں اپنی خواہش پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو ترجیح دینا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ ہے۔

یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوا عَنْہٗ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ (سورۃ الانفال : ۲۰)عن عبداللہ بن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ رواہ فی شرح السنۃ (مشکوٰۃ المصابیح ص۳۰) فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمدعفی عنہ ۲۹؍ رجب ؍۱۴۰۰ھ

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا