Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں‘‘کیا یہ عبار ت صحیح ہے ؟

محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں‘‘کیا یہ عبار ت صحیح ہے ؟

سوال

براہِ کرم درج ذیل عبارت ملاحظہ فرماکر دینی وایمانی نقطۂ نظر سے عبارت کی صحت اور عدمِ صحت پر فتویٰ صادر فرمائیے۔’’ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں‘‘ ۔یہ جملہ دراصل ایک حدیث میں ہے، اس کاترجمہ نقل کرتاہوں ؛وہ یہ ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے حد سے نہ بڑھاؤ،جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو حد سے بڑھادیا، میں تو اس کا بندہ ہی ہوں مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔

عن ابن عباس سمع عمر رضی اللہ عنہ یقول علی المنبرسمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول لاتطرونی کمااطرت النصاری ابن مریم فانما اناعبدہ فقولواعبداللہ ورسولہ (صحیح بخاری رقم الحدیث ۳۴۴۵)

شریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول اوربنی آدم کے سردار ہونے کے باوجود اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہی ہیں،وہ نہ خدا ہیں، نہ خدا کے بیٹے ہیں ،نہ خدا کے اوتار ہیں کہ انسانی شکل میں خدا آگیا ہو، نہ ان میں خدائی شان ہے ،وہ بشر ہیں ، بندے ہیں ، البتہ افضل البشر اور خیر العباد ہیں ، اللہ کے مقرب ترین بندے اور خاتم المرسلین ہیں۔ بینواتوجروا(فتویٰ نمبر۲۷؍۱۴۰۲ھ)

جواب

قرآن وحدیث اور فقہ وعقائد کی روشنی میں مذکورہ عبارت صحیح ہے ۔فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمدعفی عنہ ۸؍ ربیع الاول؍۱۴۰۲ھ

قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (سورۃ الکہف ۱۱۰)مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَااَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا(سورۃ الاحزاب ۴۰)مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ (سورۃ الفتح۲۹)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اناسید ولد آدم یوم القیامۃ ولافخروبیدی لواء الحمدولافخر ومامن نبی یومئذ اٰدم فمن سواہ الاتحت لوائی (سنن ترمذی رقم الحدیث ۳۶۱۵)وذکر اللّّٰہ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم باسم العبد فی اشرف المقامات فقال فی ذکر الاسراء سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہ، الآیۃ(شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص۸۵)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا