دل کی نماز کی ترغیب دینے والے شیخ کے مرید بننے کاحکم
سوال
پیری مریدی میں لوگ بہت شامل ہو رہے ہیں ۔ کیا ’دل کی نماز‘ کی ترغیب دینے والے شیخ کا مرید بننا جائز ہے؟ یانہیں۔ بینواتوجروا۔ (فتویٰ نمبر ۲؍۱۴۰۶ھ)
جواب
متقی ، پرہیز گاراور شریعت کے پابند پیر کا مرید بننا جائز ہے۔جو لوگ شریعت کے خلاف زندگی گزارتے ہوں ، اجنبی عورتوں سے بے پردہ ملتے ہوں اور خلافِ شریعت کاموں کا حکم دیتے ہوں ، مثلاً دل کی نماز کی ترغیب دیتے ہوں ایسے لوگوں کا مرید بننا جائز نہیں۔ فقط واللہ تعالی اعلم العبد محمد اشرف علی عفی عنہ ۸ ؍ محرم ؍ ۱۴۰۶ھ
(۱)
لا یلزم البیعۃ الرسمیۃ فی طریقۃ من طرق المشائخ نعم تستحب فمن اتیٰ بھا ووفی توفی اجرھا (کفایۃ المفتی کتاب السلوک والطریقۃ ج؛ ۲ومن لم یکن لہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) مصدقا فیما اخبر، ملتزما لطاعتہ فیما امر فی الامور الباطنۃ التی فی القلوب ، والاعمال الظاھرۃ التی علی الابدان لم یکن مؤمنا ، فضلاً ان یکون ولیا للّٰہ تعالیٰ ولو طار فی الھواء ومشی علی الماء الخ ولو حصل لہ من الخوارق ما ذا عسی ان یحصل فانہ لا یکون مع ترکہ لفعل الماموروعزل المحظور الا من اھل الاحوال الشیطانیۃ المبعدۃ لصاحبھا عن اللّٰہ تعالیٰ المقربۃ الی سخطہ وعذابہ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص ۴۵۲) ص۷۷)