تبلیغی جماعت میں نکلنےکا حکم
سوال
حضرت جی اول مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ کی رہبری اور رشد وہدایت کے طریقے پر جو جماعت چل رہی ہے ، جس کو تبلیغی جماعت کہا جاتا ہے ، اکثر لوگ تو اس جماعت کے کام کو پسند کررہے ہیں ، بعض کا خیا ل ہے کہ یہ لا عقیدہ اور گستاخانِ رسول ہے ۔ براہ ِ کرم آپ اس جماعت اور اس کے کام کے تعلق سے مختصراً مطلع فرمائیں۔ اور یہ فرمائیے کہ کیا میں اس جماعت میں شریک ہوکر کام کرنے سے رشد وہدایت پاسکتا ہوں اور کیا مجھے راہِ نجات مل سکتی ہے ۔ خدا کی بخشش اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کا حقدار بن سکتا ہوں اورجنت کا مستحق بن سکتا ہوں ، فتوی عنایت فرماکر مشکوروممنون ہوں۔ بینوا توجروا (فتویٰ نمبر ۳ ۲۷؍۱۴۱۹ھ)
جواب
تبلیغی جماعت ایک صحیح العقیدہ جماعت ہے ، اس کا تعلق اہلِ سنت والجماعت سے ہے ، یہ مسلمانوں میں اصلاح کا فریضہ انجام دیتی ہے، اس کے ذریعے بے شمار مسلمانوں کی زندگیوں میں عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ان کے دلوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جاگزیں ہوئی اور وہ دین اور فرائضِ دین پر عمل کرنے والے بنے ، دعوت وتبلیغ کی اس محنت میں حصہ لینے والے انشاء اللہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہوں گے۔(۱)فقط واللہ تعالی اعلم
العبد محمداشرف علی عفی عنہ ۲۴؍ذوالقعدۃ۱۴۱۹ ھ
(۱)
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران ۱۰۴) كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہ(آل عمران ۱۱۰)
تبلیغی جماعت کی اہمیت وافادیت پر حضرت حکیم الملتؒامیرشریعت کرناٹک دوم مفتی محمد اشرف علی رحمہ اللہ کا نظر کشامضمون سہ ماہی مجلہ سلسبیل کے تبلیغ نمبر میں دیکھا جاسکتا ہے۔