قرآن کے دس پاروں کو چھپادینے کا عقیدہ رکھنےاورغیرشرعی افعال کرنے والے کا مرید بننے کا حکم
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے شہر والا جاہ میں ایک پیر صاحب آتے ہیں جو اپنے مریدوں کو مندرجۂ ذیل باتوں کی تعلیم وتلقین کرتے ہیں ، اور بہت سے ناواقف مرد اور خواتین ان کے فریب میں پھنس کر راہِ حق سے دور ہوتے جارہے ہیں ، جس کی وجہ سے ساری جماعت اور اہل شہر انتہائی پریشان ہیں ۔
[۱]
قرآن مجید کے چالیس پارے ہیں ، دس پارے معرفت کے ہیں ، ان کو چھپادیا گیا ہے ۔
[۲]
نماز پڑھنے کے لیے ایک حد ہے ، یعنی ایک مقررہ عمر تک پڑھے، اس کے بعد ضرورت نہیں۔
[۳]
بابا (پیر صاحب)کے ہاتھ میں ہاتھ دے دو، اس کے بعد کسی عبادت کی ضرورت نہیں ، صرف ذکر کرتے رہو تو کافی ہے ۔
[۴]
پیر صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد میں جاکر پیشانی رگڑنے اور اس کو کالا کرنے کی ضرورت نہیں ، کسی پیر یا ولی کا نام لے لو تو کافی ہوجائے گا۔
[۵]
بے پردگی کے ساتھ مردوں اور عورتوں سے مخلوط ذکر کی مجلس کراتے ہیں ۔
اس کے علاوہ دوسری بہت سی ایسی باتوں کی تعلیم کرتے ہیں جو انتہائی نازیبا اور تحریر کے قابل نہیں ہیں ۔ اس قسم کی باتوں کی تعلیم کرنے والے بابا کا کیا حکم ہے اور ان کی پیروی کرنے والوں سے اہل جماعت کا کیا سلوک ہو؟ براہ کرم تفصیلی جوابات و ہدایات سے نواز کر عنداللہ ماجور ہوں۔(فتویٰ نمبر ۶۰؍۱۴۱۲ھ)
جواب
(۱)
لا شک فی تکفیر من الخ اعتقد الخ ان جبرئیل غلط فی الوحی أو نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن (ردالمحتارج۴ ؛ص۲۳۷ )
ومن مکایدھم انھم یقولون ان کبار اھل السنۃ وائمتھم کأبی بکر وعمر وعثمان حرفوا القرآن واسقطوا کثیرا من الآیات والسور التی نزلت فی فضائل اھل البیت الخ والجواب ان اللہ تعالیٰ قال {انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون} فما کان فی حمایۃ الباری عز اسمہ کیف یمکن للبشر تنقیصہ وتحریفہ سبحانک اللھم ھذا بھتان عظیم ونعوذبک من الشیطان الرجیم ، (مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ ص۳۲)
(۲)
وتعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدۃ ۲) یامر تعالیٰ عبادہ المومنین بالمعاونۃ علی فعل الخیرات وھو البر وترک المنکرات وھو التقویٰ وینھاھم عن التناصر علی الباطل والتعاون علی المآثم والمحارم (تفسیر ابن کثیر، ج۲ ص۶)
اجمع العلماء علی ان من خاف من مکالمۃ احد، وصلتہ ما یفسد علیہ دینہ، او یدخل مضرۃ في دنیاہ، یجوز لہ مجانبتہ وبعدہ، ورب صرم جمیل خیر من مخالطۃ توذیہ‘ الخ فإن ہجرۃ اہل الاہواء والبدع واجبۃ علی مرالاوقات مالم یظہر منہ التوبۃ والرجوع إلی الحق۔ (مرقاۃ المفاتیح ج ۸ ص ۳۱۴۷ )