Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

زندگی میں جائداد کی تقسیم

زندگی میں جائداد کی تقسیم

سوال

بخدمت امیر شریعت قبلہ دامت برکاتہم
 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 عرض خدمت یہ ہے کہ میں فضل اللہ بیگ بن علی بیگ صاحب مرحوم [عمر ۶۵ سال] مقیم تالواڑی ، ضلع ایروڈ ،میری زمین 60.2ایکڑ 60سینٹ اور ایک گھر ہے ۔ میرے چھ لڑکے ، تین لڑکیاں اور ایک بیوی ہے ۔ میں اپنی زندگ میں اپنی جائداد تقسیم کرنا چاہتا ہوں میرے لئے شریعت کی نظر میں تقسیم کا کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی رہبری فرماکر مشکورفرمائیں۔

فقط فضل اللہ بیگ بن علی بیگ صاحب مرحوم
تالواڑی ضلع ایروڈ تامل ناڈو 638461

جواب

ہرشخص زندگی میں اپنی جائیداد اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے کا شرعا حق رکھتا ہے ،صورت مسئولہ میں فضل اللہ بیگ صاحب اپنے مصارف ضروریہ کے لیے کچھ رقم الگ کرلیں او  بیوی کو بھی مناسب رقم دیدیں ،پھر بقیہ کونوحصوں میں تقسیم کرکے اپنی اولاد(چھ لڑکے اور تین لڑکیوں ) میں سے ہرایک کو ایک حصہ دیں یا پندرہ حصوں میں تقسیم کرکے چھ لڑکوں میں سے ہرایک کو دو حصے اور تین لڑکیوں میں سے ہرایک کو ایک حصہ دیں ،دونوں صورتیں جائز ہیں ،پہلی صورت افضل ہے ۔

ان التنصیف بین الذکر والانثی افضل من التثلیث الخ  (ردالمحتار ج۵ ص ۶۹۶)