ماتھے پر ٹیکا لگانا اور مندر میں نکاح کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس اہم مسئلے کا شرعی حکم اور تفصیل جانیے۔
سوال
زید ایک امیر شخص ہے جس کی ذاتی جائداد کے علاوہ موروثی جائداد بھی ہے اور مزید آمدنی کے وسائل بھی ہیں ۔ زید کو ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں ۔ دونوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں اور اپنے شوہر وںکے ساتھ علاحدہ مقیم ہیں ۔ لڑکا جدید تعلیم وفنون سے آراستہ ہے اور عمر تقریباً اٹھائیس سال ہے، والدین کی مرضی کے خلاف کسی کافرہ لڑکی سے رشتہ جوڑے ہوئے ہے ۔ والدین نے بہت سمجھایا بجھایا ، نرمی اور سختی سے کام لیا ۔ اس کے باوجود وہ اسی کافرہ سے شادی کرنا چاہا تووالدین نے تنبیہ کی کہ اگر وہ اس کافرہ سے شادی کرے گا تو عاق کردیا جائے گا، اورجائداد سے اس کو کچھ نہ دیا جائے گا۔ اس کے باوجود زید گھر چھوڑ کرچلا گیا اور کافرہ سے رجسٹر شادی رچایا اور پھر بعد میں کسی بت کدہ میں جاکر کافرانہ رسوم اداکیے اور شادی کرلی۔ شریعت کے مطابق نکاح نہیں ہوا ، دونوں ماتھے پر ٹیکا بھی لگائے ہوئے ہیں۔ کیا ایسا شخص شریعت کے مطابق اپنے والدین سے حقِ ولدیت کھوچکا ؟۔ کیا موروثی جائداد جو کہ ایک قدیم عمارت تھی ، جسے ڈھادیا گیا تھااور بعد میں کثیر رقم بطور قرضہ لے کر جدید عمارت تعمیر کی گئی ہے اور اس سے کافی آمدنی ہورہی ہے، اس میراثی جائیداد میں سے اس لڑکے کو کوئی حصہ ملے گا ؟۔ از راہِ نوازش اس کا جواب فتویٰ کی شکل میں دے کر ممنون و مشکور فرمائیں۔بینواتوجروا(فتویٰ نمبر ۶۵؍۱۴۱۹ھ)
جواب
کافرانہ طریقے پر ماتھے پر ٹیکا لگانا اور مندر میں جاکر کافرانہ رسم کے مطابق کافرہ سے نکاح کرنا کفر ہے،پس صورتِ مسئولہ میںیہ شخص مرتد ہے اور اپنے والدین کی وراثت میں حصہ پانے کا اہل نہیں،محروم ہے ۔
من تشبہ بقوم فھو منھم ،رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ(مشکوٰۃ المصابیح ص۳۷۵) ولوشد الزنارعلی وسطہ او وضع الغل علی کتفہ فقد کفر(شرح فقہ اکبر ص۱۸۴)لا یجوز نکاح المجوسیات والوثنیات الخ (عالمگیری ج۱ ؛ ص۲۸۱) واختلاف الدین ایضا یمنع الارث والمراد بہ الاختلاف بین الاسلام و الکفر الخ ( عالمگیری ج۶ ؛ ص۴۵۴)فقط واللہ تعالی اعلم
العبدمحمد اشرف علی عفی عنہ ۱۳جمادی الثانیۃ ۱۴۱۹ ھ