Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

کیا ماہِ محرم اور صفر منحوس ہیں؟

کیا ماہِ محرم اور صفر منحوس ہیں؟

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارےمیں کہ قرآن وحدیث سے کوئی مہینہ منحوس ہوناثابت ہے کیا؟جیساکہ عام طورپرمحرم وصفرکے مہینے میں کوئی اچھاکام مثلاشادی بیاہ وغیرہ اچھانہیں سمجھاجاتاہے اورماہ صفرمیں ہمارے نبی بھی بیماررہے ہیں،کسی کہنے والے نے کہاہے کہ صفرکامہینہ منحوس ہے اوراس مہینے میں آسمان سے بے شمار بلائیں نازل ہوتی رہتی ہیں،یہ کہاں تک قرآن وحدیث سے ثابت ہے یابزرگوں کے اقوال میں سے ہے کیا؟ فتوی تحریر فرمائیں ،بینوا توجروا (فتویٰ نمبر ۱۸۶؍۱۴۱۲ھ)

جواب

کوئی مہینہ خواہ محرم ہویاصفر،اسلامی تعلیمات کی روسے منحوس نہیں ،نحوست کاعقیدہ غلط اوربے بنیاد ہے (۱)۔ فقط واللہ تعالی اعلم  العبدابوالسعوداحمد عفی عنہ ۲۶جمادی الاولی؍۱۴۱۲ھ

(۱)
عن ابی ھریرۃ ؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا عدویٰ ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر ( صحیح بخاری رقم الحدیث ۵۷۵۷،صحیح مسلم رقم الحدیث ۲۲۲۰)
قال رسول اللہ ﷺ لا عدویٰ ولا صفر خلق اللہ کل نفس فکتب حیاتھا ورزقھا و مصائبھا(ترمذی شریف رقم الحدیث ۲۱۴۳)
ان المراد بہ شھر صفر وذلک ان العرب کانت تحرم صفر و تستحل المحرم الخ فجاء الاسلام برد ما کانوا یفعلونہ من ذلک فذلک قال صلی اللہ علیہ وسلم لا صفر (فتح الباری ج۱۳ ، ص۶۴)نحوست ایام بولادتِ رحمتِ عالمیاں علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والتسلیمات زائل گشتہ است (مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ۲۵۶، ج۱، ص۴۲۴) (اغلاط العوام ص ۱۸۸)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا