Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

کیا فجر کے بعد کھڑے ہوکر سلام پڑھنا صحیح ہے ؟

کیا فجر کے بعد کھڑے ہوکر سلام پڑھنا صحیح ہے ؟

سوال

ہمارے شہر میں ایک مسجد کے امام صاحب چند دنوں سے نمازِصبح اور جمعہ میں دعا کے بعد فورًاچند مصلیوں کے ساتھ کھڑے ہوکر اردو اور عربی میں مخلوط سلام بآوازِ بلندپڑھنا شروع کئے ہیں۔ کچھ لوگوں کے اعتراض پر بھی وہ بلاناغہ پڑھا کرتے ہیں ۔ براہ ِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیے کہ اس طرح نمازِصبح اور جمعہ میں سلام پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا (فتویٰ نمبر ۹؍۱۴۰۳ھ)

جواب

ازروئے قرآن وحدیث مذہب حنفی میں نماز فجر اور نماز جمعہ کے بعد کھڑے ہوکر سلام پڑھنا ثابت نہیں ہے(۱) ۔ فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ ۶؍صفر ۱۴۰۳ ھ

(۱)
عن ابن مسعود ؓ انہ اخرج جماعۃ من المسجد یہللون ویصلون علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم جھرا وقال لہم ما اراکم الا مبتدعین (رد المحتار ج۶ ص ۳۹۸)(فتاوی بزازیہ علی ھامش العالمکیریہ ج ۶ ص ۳۷۸)
یکرہ الکلام فی المسجد الخ وعند قراء ۃ القرآن الخ وعند التذکیر الدر۔ قولہ وعند التذکیر ای مع رفع الصوت الخ وانما المراد رفع بعض القوم صوتہ بالتھلیل والصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عند ذکرہ ( ردالمحتار ج۶ ص ۴۱۹)