Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

پانچ ماہ کے ساقط شدہ بچے کی نمازِ جنازہ کا حکم

پانچ ماہ کے ساقط شدہ بچے کی نمازِ جنازہ کا حکم

سوال

عرض یہ ہے کہ ایک حاملہ عورت کے بچہ کے اعضاء مکمل بن گئے تھے اور وہ پانچ ماہ کا حمل تھا ،بچہ ماں کے پیٹ میں زندہ بھی تھا ،لیکن اس کو ساقط کردیے ہیں اس لیے کہ بچہ کی کمر میں کچھ گڈہ وغیرہ آگیا تھا ،البتہ اس بچہ کے اعضاء وغیرہ مکمل ہیں ،ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد اس میں کوئی زندگی نہیں  پائی گئی ،لہذا اس کی نماز ِ جنازہ کا حکم کیا ہے اور اس کا نام رکھنا چاہئے یانہیں ؟۔ فتوی عنایت فرماکر مشکو رفرمائیں ۔ فقط والسلام مستفتی محمد رفیع
نزدِ مسجدبلال  ویلگوڑ  مورخہ 23 جولائی 2026 ء 

جواب

نمازِجنازہ اسی بچہ پر پڑھی جائے گی جو زندہ پیدا ہوا ہو ۔ اور جو بچہ مردہ پیدا ہوا ہو اورماں کے پیٹ سےنکلتے وقت اس میں زندگی کی کوئی علامت موجود نہ ہو تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، البتہ اس کا نام رکھ کر اس کو غسل دیا جائے گااورایک پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کیا جائے گا ۔ تکریمِ انسانیت کے پہلو سےیہ قول راجح ہے، لہذا ساقط شدہ بچہ کانام رکھنا چاہئےامید ہے کہ وہ میدانِ حشرمیں  سفارشی بن جائے۔

ومن ولد فمات یغسل ویصلی علیہ ویرث ویورث ویسمی ان استھل بالبناء للفاعل ای وجد منہ ما یدل علی حیاتہ بعد خروج اکثرہ الخ والا یستھل غسل وسمی عند الثانی وہو الاصح فیفتی بہ علی خلاف ظاہر الروایۃ اکراما لبنی آدم کما فی ملتقی البحاروفی النھر عن الظہیریۃ واذا استبان بعض خلقہ غسل وحشر ہو المختار، الدر، قولہ وحشر الخ والمختار انہ یغسل وہل یحشر عن ابی جعفر الکبیر انہ ان نفخ فیہ الروح حشر والا لا،والذی یقتضیہ مذہب اصحابنا انہ ان استبان بعض خلقہ فانہ یحشر وہو قول الشعبی وابن سیرین ووجھہ ان تسمیتہ تقتضی حشرہ اذلا فائدۃ لھا الا فی ندائہ فی المحشر باسمہ وذکر العلقمی فی حدیث : سموا اسقاطکم فانہم فرطکم (ردالمحتار ج۲ ص ۲۲۸) 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا