علماء کا مذاق اڑانا اور ڈاڑھی کی توہین کرنا صحیح ہے یانہیں
سوال
زیدایک مسجد کا سابق متولی تھا۔ ایک دن شراب پی کر نشے کی حالت میں مسجد میں داخل ہوا، امام صاحب اور مؤذن صاحب کو دیکھ کر ان سے گالی گلوچ کرنا شروع کردیا اور ڈاڑھی کی توہین کرنے لگا کہ آج کل مولوی لوگ کتے کی طرح ڈاڑھی رکھ کر امامت کرتے ہیں ۔ جب اس واقعہ کو امام صاحب اور مؤذن صاحب نے چشم دید گواہوں کے ساتھ جماعت کے صدر صاحب کو سنایا تو جماعت نے زید کو نوٹس روانہ کیا اور جمعہ کی نماز کے بعد بھی اعلان کیا کہ زید اپنی اس گستاخی کے لیے آئندہ جمعہ کی نماز کے بعد جماعت کے روبرو امام صاحب اور مؤذن صاحب سے معافی مانگے ۔ مگر زید کسی بھی قیمت پر معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ براہِ کرم یہ بتائیے کہ زید کو کس شرط پر جماعت میں رکھیں اور اگر نہ رکھیں تو کس بناء پر جماعت سے خارج کریں ۔بینواتوجروا(فتویٰ نمبر ۵۸؍۱۴۰۵ھ)
جواب
علماء کا مذاق اڑانا اور ڈاڑھی کی توہین کرنا کفر ہے ، زید پر لازم ہے کہ برسرِ عام سچے دل سے توبہ کرے ۔ اپنے ایمان کی تجدید کرے اور جن کا مذاق اڑایاتھا ان سے معافی مانگے ، اگر زید اس پر آمادہ نہ ہوتو اہلِ جماعت تمام دینی ودنیوی معاملات میں اس سے علاحدگی اختیار کرلیں ۔
وفی الظھیریۃ من قال لفقیہ اخذ شاربہ ما اعجب قبحا او اشد قبحا قص الشارب ولف طرف العمامۃ تحت الذقن یکفر لانہ استخفاف بالعلماء یعنی وھو مستلزم لاستخفاف الانبیاء علیھم السلام لان العلماء ورثۃ الانبیاء علیھم السلام وقص الشارب من سنن الانبیاء علیھم السلام فتقبیحہ کفر بلا اختلاف بین العلماء (شرح فقہ اکبر ص۱۷۳)فق
فقط واللہ تعالی اعلم العبدابوالسعوداحمد عفی عنہ ۲۵صفر ؍ ۱۴۰۵ ھ