خدا اور رسول کو نہ ماننے والے کی اذان اور امامت کاحکم
خدا اور رسول کو نہ ماننے والے کی اذان اور امامت کاحکم
سوال
جو شخص خدا اوررسول کو نہیں مانتا اور ہمیشہ جھوٹ بولتا ہو، کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کا مستقل اذان دینا درست ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا(فتویٰ نمبر ۳۱؍۱۴۰۵ھ)
جواب
کوئی مسلمان ایسا نہیں ہوسکتا جو خدا اور رسول کو نہ مانے، گر کوئی شخص واقعی ایسا ہو کہ خدا اور رسول کو نہیں مانتاوہ مسلمان نہیںاور اس کی اذان وامامت قطعاً جائز نہیں۔ (۱)فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمدعفی عنہ ۸؍ ربیع الاول؍۱۴۰۲ھ
(۱) والکفر لغۃ الستر وشرعا تکذیبہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شیٔ مما جاء بہ من الدین ضرورۃ الخ( الدر المختار علی ھامش رد المحتار ج؛۴ ص ۲۲۳) المؤذن الخ اذا کان بالغا عاقلا عالما بالاوقات مسلما ذکرا الخ (ردالمحتارج۱ص ۳۷۰)وان انکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا الخ فلا یصح الاقتداء بہ اصلا (الدر المختار علی ھامش رد المحتار ج ۱ ص ۵۶۲ )۔