Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

کیا خطبۂ جمعہ سے پہلے اُردو تقریر کرناجائز ہے ؟

کیا فجر کے بعد کھڑے ہوکر سلام پڑھنا صحیح ہے ؟

سوال

ہمارے یہاں جمعہ کے دن عربی خطبے سے پہلے جو اردو تقریر منبر کے نیچے دی جاتی ہے ، اس تقریر کے لیے وہ مائکرو فون استعمال کرنا جس سے اذان دی جاتی ہے جائز ہے یا نہیں ؟ ۔یعنی مائک کے ذریعے لوگوں کو تقریر سناناجائز ہے یا نہیں ؟۔ براہِ مہربانی آپ ہم کو اس تقریر کاحکم کیا ہے واضح طور پر معلوم کرائیں۔بینواتوجروا (فتوی نمبر ۲۲؍۱۴۰۳ھ)

جواب

اسپیکر پر تقریر کرنا تو جائز ہے لیکن جمعہ میں پہلی اذان کے بعد خطبے سے پہلے منبر کے نیچے ایک تقریر کا اضافہ حدیث وفقہ سے ثابت نہیں ، اس لیے بدعت ہے اور اسے ختم کرنا لازم ہے ۔ منبر پر اردو میں خطبۂ جمعہ بلاکراہت جائز ہے(۱) ۔

فبناء علی ھذا قال صاحب الفتاویٰ السراجیۃ ولوخطب بالفارسیۃ یجوز وفی مراقی الفلاح والرابع الخطبۃ ولوبالفارسیۃ من قادر علی العربیۃ فلما لم یذکر الکراھیۃ مع الجواز علم انہ جائز بلاکراھۃ وفی فتح اللہ المعین علی ملامسکین وعلی ھذا الخلاف الخطبۃ الخ من غیرکراھۃ فی الاصح علی ما ذکرہ السرخسی(الحجۃ القطعیۃ ص۶)فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ ۱۵؍ربیع الاول ۱۴۰۳ ھ

(۱)
مزید تفصیل کے لئے ان کتب کامطالعہ کریں: فتاویٰ عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی
القول المحکم فی خطابۃ العجم مصنفہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری ؒ بانی دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنوو جامعہ رحمانیہ مونگیر بہار ۔
کتاب الفتاویٰ ج ۳، ص۴۰ جدیدفقہی مسائل ج ۱ ص ۱۰۹۔ عالمی رابطہ اسلامی مکہ مکرمہ کی مجمع الفقہ الا سلامی کے فقہی فیصلے