Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

شیعہ لڑکے سے نکاح درست ہے یانہیں 

شیعہ لڑکے سے نکاح درست ہے یانہیں 

سوال

ایک سنی لڑکی کا نکاح شیعہ لڑکے سے ہوا،بوقتِ نکاح لڑکی کے گھر والے لڑکے کے مسلک سے واقف تھے ، اب ایک بچہ بھی ہوگیا ہے۔ اب جب کہ گاؤں والوں کو لڑکے کے مسلک کی خبر ہوئی توان لوگوں نے لڑکی والوں کو سمجھایا کہ اپنی لڑکی کو واپس بلالو ۔ مگر لڑکی والے اس بات کو نہیں مانے ، بعد میں مقامی علماء سے فتویٰ طلب کیا گیا اور یہ طے پایا کہ اس لڑکے کو سنی مسلمان بنائیں یا لڑکی کو واپس بلالیں مگر لڑکا اپنے مسلک سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ لڑکی کو گھر بلایا گیا تو وہ آنے کے لیے تیار نہیںاور کہتی ہے کہ میں اس کو بہت چاہتی ہوں اور اب ایک بچہ بھی ہے لہٰذا اب میں واپس نہیں آونگی۔ ان کے نکاح اور بچے کا کیا حکم ہے؟ اور اہل محلہ کا ان کے ساتھ کیا سلوک ہو نا چاہئے؟۔بینواتوجروا (فتویٰ نمبر ۶۶؍۱۴۲۰ھ)

جواب

 سنی لڑکی کا نکاح شیعہ لڑکے سے جائز نہیں(۱) ۔ لڑکی پر لازم ہے کہ فوراً اس سے علاحدہ ہوجائے اور اہلِ جماعت پر لازم ہے کہ لڑکی کو علاحدہ کرنے میں اپنااثرورسوخ استعمال کریں ، اگرپھر بھی لڑکی نہ مانے تواہلِ محلہ اس لڑکی سے قطع تعلق کرلیں۔فقط واللہ تعالی اعلم العبد محمداشرف علی عفی عنہ ۶؍ربیع الثانی۱۴۲۰ ھ

(۱)

ان الرافضی ان کان ممن یعتقد الخ ان جبرئیل غلط فی الوحی أو کان ینکر صحبۃ الصدیق أو یقذف السیدۃ الصدیقۃ فھو کافر لمخالفتہ القواطع المعلومۃ من الدین بالضرورۃ بخلاف ما اذا کان یفضل علیا او یسب الصحابۃ فانہ مبتدع لا کافر(ردالمحتار ج۳، ۴۶) وحرم نکاح الوثنیۃ بالاجماع الدر قولہ وحرم نکاح الوثنیۃ نسبۃ الی عبادۃ الوثن الخ ویدخل فی عبدۃ الاوثان عبدۃ الشمس والنجوم الخ وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ (ردالمحتار ج۳ ؛ ص۴۵)
فان ہجرۃ اھل الاھواء والبدع واجبۃ علی مرالاوقات مالم یظھر منہ التوبۃ والرجوع الی الحق (مرقاۃ المفاتیح ج۸ ص ۷۵۹)