استہزاء بالدین کا حکم
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک قصبہ میں ایک قاضی صاحب رہتے ہیں ، انہوں نے نہ کسی عربی مدرسے سے علمِ دین حاصل کیا ہے نہ کسی بزرگ سے کسی قسم کا فیض پایا ہے ۔ انہوں نے صرف عورتوں اور غیر مستند لوگوں سے جو ادھر ادھر پڑھاتے پھرتے ہیں کچھ الٹا سیدھا قرآن پڑھنا سیکھ لیا ہے ۔ علاوہ دو چار چھوٹی چھوٹی سورتوںکے انہیں کچھ قرآن بھی یاد نہیں ۔ جتنا کچھ یاد ہے اس میں بھی علم ِتجوید سے ناواقفیت کی وجہ سے ہزاروں غلطیاں ہیں۔ غلطیاں بھی وہ جس کو لحن جلی کہتے ہیں۔نہ پرہیز گاری ہے نہ کچھ عملِ صالح۔ نہ نمازیوں، حاجیوں اور عالموں کی صحبت سے کسی قسم کا واسطہ ۔ اکثر بود وباش بے عمل اور گناہِ کبیرہ میں مبتلا لوگوں کے ساتھ رہتی ہے۔ نماز روزے سے کسی قسم کا واسطہ نہیں ، حج سے کوئی تعلق نہیںبلکہ ان ارکان کے اداکرنے والوں کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے ۔ روزہ رکھنے والوں کو طعنہ دیتے ہیںکہ بھوکے کیوں مرتے ہیں ، کونسے اللہ نے کہہ دیا ہے کہ تم بھوکے مرو۔ نماز پڑھنے والوں کو روکتے ہیں کہ کاہے کو مسجد جاتے ہو ۔ صرف صبح ایک وقت کی نماز کافی ہے وہ بھی کبھی کبھی پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ صرف تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ دینا کافی ہے ، حج بخیل آدمی کرتے ہیں، اور حج کو جانے والے حجام ہوا کرتے ہیں کرکے کہتے ہیں۔ خود صاحبِ نصاب ہیں مگر حج کو نہیں جاتے بلکہ الٹاجانے والوں کو روکتے ہیں ۔ چند نوجوانوں کی ڈاڑھی بھی یہ انوکھی دلیل دے کر منڈوادی کہ قرآن میں ہے کلا سوف تعلمون ثم کلا سوف تعلمون اس آیت کاترجمہ اس طرح غلط کرتے ہیںکہ نوجوانو دیکھواللہ کا حکم ہے کلّا صاف کرو ، یعنی اپنے گالوں کو صاف کرو۔ جمعہ کی نماز تک پڑھتے نہیں حالانکہ مسجد سے بالکل متصل ان کی دکان ہے ۔ کیا ایسے غیر شرعی اقوال وافعال کے مرتکب شخص کے پیچھے عیدین کی نماز پڑھنااور ان سے نکاح پڑھوانا جائز ہے ؟ جب کہ اس شہر میں عالم حافظ امام جو تجوید سے واقف ہے موجود ہے ۔بینواتوجروا۔
جواب
سوال میں مذکورہ باتیں اگر صحیح ہوں تو یہ دین کے ساتھ استہزاء ہے اور استہزاء بالدین کفر ہے ۔ اس لیے ایسا شخص امور مسلمین میں سے کسی امر کو انجام دینے کے قابل نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے شخص سے پورا اجتناب کریں اور اپنے تمام معاملات میں کسی عالم باعمل سے مدد حاصل کریں ۔ وکذا الاستھزاء علی الشریعۃ الغراء کفر (شرح فقہ اکبر ص۱۵۲)فقط واللہ تعالی اعلم العبدابوالسعوداحمد عفی عنہ ۴ذوالحجۃ ؍ ۱۳۹۵ ھ