یوگا کرنا درست ہے یانہیں ؟
سوال
حکومتِ کرناٹک کے ایک بیان کے مطابق آئندہ تعلیمی سال سے ریاست کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں یوگا کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے ۔ علمائے کرام سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ ثابت کریں کہ یوگا کرنا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا مسلمان بچوں کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ یوگا میں سوریہ نمسکار ، وجراسنا اور سمہا سنا جیسی پوجا کرنے کی بیہودہ حرکتیں ہوتی ہیں ، ان کے اختیار کرنے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ (۱) سوریہ نمسکار : ورزش کے ذریعے اوربیہودہ فعل کے ذریعے سورج دیوتا کو نمسکار کرنا ہے (۲) وجرا سنا: یوگا کا ایک فعل ہے جس میں مختلف حرکات وسکنات سے اندرا یعنی آگ کی پوجا کی جاتی ہے (۳) سمہا سنا: یوگا کی مختلف حرکات وسکنات سے شیر دیوتا کی پوجا کی جاتی ہے(نعوذ باللہ) بینوا توجروا (فتویٰ نمبر۲۳۲؍ ۱۴۱۲ھ)
جواب
اسلام کی بنیاد توحیدِ خالص پرہے،وہ خدائے واحدپر ایمان رکھنے اور اسی کی عبادت کرنے کو لازمی قرار دیتا ہے ۔غیر اللہ کی پوجا شرک ہے ، شرک ناقابلِ معافی جرم ہے ،اورمسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتاہے ۔پس یوگا جو سورج ،آگ اور شیر وغیرہ کی پوجا پر مشتمل ہے ، صریح مشرکانہ عمل ہے اور عقیدۂ توحید کے قطعاً منافی ہے ۔مسلمان بچوں کو اس کا سیکھنا یا اس میں شریک ہونا شرعاًحرام ہے ۔ دردمندانِ ملت کا فریضۂ دینی ہے کہ اسکولوں میں اس کے نفاذ کو قانونی جدوجہد کے ذریعے رکوائیں(۱)۔فقط واللہ تعالی اعلم العبدابوالسعوداحمد عفی عنہ ۲۰ رجب؍ ۱۴۱۲ ھ
(۱)
والہکم الہ واحد لا الہ الا ہوا لرحمن الرحیم (البقرۃ آیت :۱۶۳) ومن ایاتہ اللیل والنھار والشمس والقمر لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا للہ الذی خلقہن ان کنتم ایاہ تعبدون (حم السجدۃ آیت :۳۷) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لم یشاء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلالا بعیدا (النساء آیت:۱۱۶)
تعد الیوجا من طرق التمسک الہندویۃ؛ فلا یجوز اتخاذہا طریقًا للعبادۃ الخ فإتخاذہا بہذہ الصفۃ التعبدیۃ ضلال قطعًا الخ اما من یقوم بحرکات تشبہہا ولم تخطر ببالہ ارتباطہا بتمسک الہندو؛ فہو من باب التشبہ المنہي عنہ شرعًا؛ والاصل في ذلک ما ورد عن النبي ﷺ انہ نہی في کثیر من احادیثہ عن التشبہ بغیر المسلمین في ملبسہم ومشربہم وماکلہم، فہذا التشبہ من باب الحرام۔ (فتاوی عصریۃ:ص/۱۵۴)