کیامیلاد کے جلسوں میں مٹھائی تقسیم کرنا درست ہے ؟
سوال
ماہِ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو ہمارے محلے کی مسجد کے متولی صاحب جشنِ میلاد النبی کے نام سے لوگوں سے چندہ وصول کرکے اس رقم سے مٹھائی خرید کر مسجدمیں لاتے ہیں اور بعد نمازِعشاء مسجد کے امام صاحب سے سورۂ یاسین پڑھواکردعا کرانے کے بعد اس مٹھائی کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں ۔ کیایہ عمل جائز ہے یا نہیں ؟ ۔صاحبِ نصاب اہلِ ثروت اورخود چندہ دینے والے صاحبان کے لئے وہ مٹھائی کھانا جائز ہے یا نہیں؟ ۔بینوا توجروا(فتویٰ نمبر۲۱؍۱۴۰۲ھ)
جواب
متعدد حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ خوشی کے وقت کھانا کھلانا یا کوئی چیز تقسیم کرنا جائز ہے(۱) ۔پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں آپسی تعاون سے مٹھائی تقسیم کرنا شرعاً جائز ہے ،نیز اس مٹھائی کا کھانا ہرامیر وغریب کے لیے جائز ہے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ ۲۴؍صفر ۱۴۰۲ ھ
(۱)
عن ابن عمررضی اللہ عنہ قال تعلم عمرؓ رضی اللہ عنہ البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمھا نحر جزورا (الجامع لشعب الایمان ج۳؛ص۳۴۶) (الدرالمنثور ج۱؛ص ۵۰)
عن ابن عمر ؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دعا احدکم اخاہ فلیجب عرسا کان او نحوہ ای اذا کان الدعوۃ فی النکاح او نحوہ من مواقع السرور (بذل المجھود ج ۱۶ ص ۶۹)
ایصالِ ثواب کا کھانا صدقہ نافلہ کے حکم میںہے (امداد الفتاویٰ ج۲، ص۷۷)