پانچ ماہ کے ساقط شدہ بچے کی نمازِ جنازہ کا حکم
سوال
جواب
نمازِجنازہ اسی بچہ پر پڑھی جائے گی جو زندہ پیدا ہوا ہو ۔ اور جو بچہ مردہ پیدا ہوا ہو اورماں کے پیٹ سےنکلتے وقت اس میں زندگی کی کوئی علامت موجود نہ ہو تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، البتہ اس کا نام رکھ کر اس کو غسل دیا جائے گااورایک پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کیا جائے گا ۔ تکریمِ انسانیت کے پہلو سےیہ قول راجح ہے، لہذا ساقط شدہ بچہ کانام رکھنا چاہئےامید ہے کہ وہ میدانِ حشرمیں سفارشی بن جائے۔
ومن ولد فمات یغسل ویصلی علیہ ویرث ویورث ویسمی ان استھل بالبناء للفاعل ای وجد منہ ما یدل علی حیاتہ بعد خروج اکثرہ الخ والا یستھل غسل وسمی عند الثانی وہو الاصح فیفتی بہ علی خلاف ظاہر الروایۃ اکراما لبنی آدم کما فی ملتقی البحاروفی النھر عن الظہیریۃ واذا استبان بعض خلقہ غسل وحشر ہو المختار، الدر، قولہ وحشر الخ والمختار انہ یغسل وہل یحشر عن ابی جعفر الکبیر انہ ان نفخ فیہ الروح حشر والا لا،والذی یقتضیہ مذہب اصحابنا انہ ان استبان بعض خلقہ فانہ یحشر وہو قول الشعبی وابن سیرین ووجھہ ان تسمیتہ تقتضی حشرہ اذلا فائدۃ لھا الا فی ندائہ فی المحشر باسمہ وذکر العلقمی فی حدیث : سموا اسقاطکم فانہم فرطکم (ردالمحتار ج۲ ص ۲۲۸)