Skip to main content

دارالعلوم سبیل الرشاد

تجارت کے فروغ کے لئے عورتوں کی تصویر لگانا

تجارت کے فروغ کے لئے عورتوں کی تصویر لگانا

سوال

حضرت مفتی صاحب  دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
امید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے ۔عرض یہ ہے کہ کپڑے کی دوکان میں نمائش کیلئے عورتوں کی جو تصاویر لگائی جاتی ہیں، کیا یہ جائز ہے۔ مدلل جواب مرحمت فرمائیں، مہربانی ہوگی، فقط والسلام مستفتی :ذبیح اللہ خان ۔نمبر 456، سکنڈ اے کراس ،سمادھانا نگر ،کے جی ہلی ،بنگلور  560045

جواب

تجارت کے فروغ اور کپڑوں کی نمائش کے لئے عورتوں کی تصاویر کا استعمال شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، حدیث میں ذی روح کی تصویر بنانے اور رکھنے کے بارے میں شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے اس سے سخت پرہیز کرنا چاہیے ۔

عن عبداللہ ابن مسعود ؓ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول اشد الناس عذابا عند اللہ المصورون ،متفق علیہ الخ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا تصاویر (مشکوۃ ص۳۸۵) الاجماع علی تحریم تصویر الحیوان الخ فصنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاہاۃ لخلق اللہ تعالیٰ وسواء کان فی ثوب او بساط او درھم و اناء وحائط وغیرھا اھ فینبغی ان یکون حراما لا مکروھا الخ (ردالمحتار ج۱، ص۶۴۷)
واللہ اعلم
العبد صغیر احمد عفی عنہ
۴ صفر ۱۴۴۳ھ