دارالعلوم سبیل الرشاد

تسبیح استغفار اور درودشریف صبح وشام پڑھنے کا ثبوت

تسبیح استغفار اور درودشریف صبح وشام پڑھنے کا ثبوت

سوال

عرض یہ ہے کہ (۱) برِّ صغیر میں تیسرے کلمہ ،درود شریف اور استغفار کو سوسو مرتبہ صبح وشام پڑھنےکی ترغیب دی جاتی ہے ،کیا یہ مخصوص تعداد سنت سے ثابت ہے یانہیں؟۔ مذکورتین تسبیحات کو چھوڑ کر حدیث پاک میں وارد تسبیحات کرنا کیسا ہے ؟۔ مثلاًصبح وشام سومرتبہ تیسرا کلمہ پڑھنے کی فضیلت حدیثِ پاک میں وارد نہیں ہے، لیکن صبح وشام سو مرتبہ سبحان اللہ ،صبح وشام سومرتبہ الحمد للہ ،صبح وشام سومرتبہ لا الہ الا اللہ ،اور صبح وشام سومرتبہ اللہ اکبر کہنا ثابت ہے ، یہ حدیث کو چھوڑ کر تیسرا کلمہ پڑھنے کو کیوں کہا جارہا ہے ؟۔ (۲) صبح وشام سو مرتبہ درود شریف پڑھنے کا ذکر حدیث میں نہیں ہے لیکن صبح وشام دس مرتبہ درود شریف پڑھنے کا ذکر حدیث میں ضرور ہے ۔اس حدیث کو چھوڑ کر سو مرتبہ صبح وشام درود شریف پڑھنے کو کیوں کہا جاتا ہے ؟ ۔ (۳) صبح وشام سو مرتبہ استغفار پڑھنے کا ذکر  حدیث    میں نہیں ہے لیکن پورے دن میں سومرتبہ استغفار پڑھنے کا ذکر حدیث میں ہے ۔اس حدیث کو چھوڑکر صبح وشام سو مرتبہ استغفار پڑھنے کو کیوں کہا جاتا ہے؟ ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو تعداد حدیث میں واردہوئی ہے جو نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی تعداد ہے اس کو چھوڑ کر اس سے زیادہ خود ساختہ تعداد کے حساب سے ذکر کرنے کو کیوں کہا جاتا ہے ؟۔(۴)کیا صبح وشام سومرتبہ تیسرا کلمہ ، صبح وشام سو مرتبہ درود شریف اور صبح وشام سو مرتبہ استغفار کی ترغیب شافعی مالکی اور حنبلی بھی دیتے ہیں ۔(۵) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی دی ؟۔ براہِ کرم مفصل ومدلل جواب مرحمت فرمائیں ۔جزاک اللہ خیرا ۔ 
فقط عبدالاحد ،مجید بلڈنگ چوری روڈ ،بھدوہی، اترپردیش ،انڈیا

جواب

؍(۱) حدیثوں میں تسبیح، تحمید، تکبیر، تہلیل،صبح وشام سو سو مرتبہ پڑھنے کی ترغیب وارد ہوئی ہے،لیکن لا حول ولاقوۃ الا باللہ سو مرتبہ پڑھنے کی صراحت حدیث میں نہیں ملی ۔مگر کثرت مطلوب ہے پس جو تیسراکلمہ مشہور ہے ،اسی میں سبحان اللہ ، الحمدللہ ،لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ کے کلمات شامل ہیں ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایاجو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے، وہ سو حج (نفل)کرنے والے کی مانند ہے۔ جو آدمی صبح و شام سو سو مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ کہے، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں سو مجاہدوں کو گھوڑوں کی سواری دی یا فرمایا وہ سو غزوات لڑنے والے مجاہد کی طرح ہے، جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہے، وہ اس آدمی کی طرح ہے، جس نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے سو غلام آزاد کیے اور جس نے صبح و شام سو سو مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہا تو اس دن اس سے اچھا عمل کسی نے نہیں کیا، البتہ وہ شخص جو یہ کلمات اسی طرح کہے یا اس سے زائد بار کہے ۔ (جامع ترمذی: حدیث نمبر: ۳۴۷۱)نبی کریم ﷺ نے فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھا کرو، یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔(مسند احمد، رقم الحدیث: ۸۴۰۶) حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص ہرنماز کے بعد سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ ،الحمد للہ ،۳۳ مرتبہ ،اللہ اکبر ۳۳ مرتبہ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیئ قدیرپڑھے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیںخواہ گناہ سمند رکے جھاگ کے برابر ہوں ۔اس حدیث کی تشریح میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاصاحب رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ اس حدیث میں تین کلمے (تسبیح ،تحمید ،تہلیل ) ۳۳ مرتبہ اور لا الہ الا اللہ ایک مرتبہ وارد ہوا ہے اور اس سے اگلی حدیث میں دو کلمے ۳۳ مرتبہ اور اللہ اکبر ۳۴ مرتبہ آرہا ہے ۔ حضرت زید ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ ہم کو حضوراقدس ﷺنے سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر ہرایک کو ۳۳ مرتبہ ہر نماز کے بعد پڑھنے کا حکم فرمایا تھا، ایک انصاری نے خواب میں دیکھا کوئی شخص کہتا ہے کہ ہر ایک کلمہ کو ۲۵مرتبہ کرلو اور ان کے ساتھ لا الہ الا اللہ ۲۵مرتبہ کا اضافہ کرلو، یہ خواب حضورﷺ سے عرض کیا گیا تو حضور ﷺ نے قبول فرمالیا اور اس کی اجازت فرمادی کہ ایسا ہی کرلیا جائے ۔ اور ایک حدیث میں سبحان اللہ ،الحمد للہ ،اللہ اکبر ، ہر کلمہ کو نماز کے بعد ۱۱مرتبہ پڑھنےکا حکم ہے اور ایک حدیث میں۱۰،۱۰مرتبہ وارد ہوا  ہے ۔ ایک حدیث میں لا الہ الا اللہ ۱۰ مرتبہ باقی تینوں کلمے ۳۳ مرتبہ ۔ ایک حدیث میں ہر نماز کے بعد چاروں کلمے ۱۰۰ ،۱۰۰مرتبہ وارد ہوئے ہیں جیساکہ حصنِ حصین میں ان روایات کو ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ اختلاف بظاہر حالات کے اختلاف کی وجہ سے ہے کہ آدمی فراغت اور مشاغل کے اعتبار سے مختلف ہیں جو لوگ دوسرے ضروری کاموں میں مشغول ہیں ان کے لیے کم مقدار تجویز فرمائی اور جولوگ فارغ ہیں ان کے لیے زیادہ مقدار ۔ لیکن محققین کی رائے یہ ہے کہ جو عدد احادیث میں مذکور ہیں ان کی رعایت ضروری ہے کہ جو چیز دواکے طور پر استعمال ہوتی ہے اس میں مقدار کی رعایت بھی اہم ہے ۔( فضائل اعمال میں فضائلِ ذکر ص ۴۶۳)

؍(۲)حدیث میں فجر اور مغرب کے وقت سومرتبہ درود شریف پڑھنے کی ترغیب آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاجس نے نمازفجر اور مغرب کے بعد بات چیت کرنے سے پہلے مجھ پر سو مرتبہ درود شریف پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا، ان حاجتوں میں سے(دنیا میں) تیس حاجتیں جلد پوری کی جائیں گی اور ستر حاجتوں کی تکمیل کو مؤخر کر کے (آخرت کے لیے بطورِذخیرہ ) رکھا جائے گا۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ پر کیسے درود شریف پڑھا جائے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔

{إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين  آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما}

 اللهم صل على محمد یہ درود شریف سو مرتبہ تک شمار کر لو۔(جلاء الافہام لابن قیم جوزیؒ، ص: ۴۳۰)(القول البدیع ص ۱۳۴) رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ یقیناً قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہوگا، جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے۔ (سنن ترمذی ۴۸۴)علامہ سخاویؒ نے ابوطالب مکیؒ کی قوت القلوب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کثرت کی کم سے کم مقدار تین سو مرتبہ ہے ۔اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ بھی اپنے متوسلین کو تین سومرتبہ پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے ۔ 

؍(۳) کئی حدیثوں میں رسول اکرم ﷺ سے ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ استغفار کرنا منقول ہے ، لہذاصبح وشام استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں میںبیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺنے سو مرتبہ استغفار کیا اور اس کے بعد یہ دعا پڑھی’’اللہم اغفرلی وارحمنی وتب علی انک انت التواب الرحیم( مسند احمد ۵۳۵۴)اور ایک حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اس دعا’’ رب اغفرلی وتب علی انک انت التواب الرحیم ‘‘ کو ہم شمار کرتے تھے ،آپ ﷺ یہ دعا ایک مجلس میں سو سو بار پڑھتے تھے (ابودائود ۱۵۱۶) (ابن ماجہ ۳۸۱۴) (الادب المفرد ۶۱۸) نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایامیں دن اور رات میں اللّٰہ تعالیٰ سے سو مرتبہ استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۰)

(۴،۵) جب رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو صحابہ کرامؓ نے امت تک پہنچایا ہے تویہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود بھی اس پر عمل کرتے تھے اور امت کو اس کی ترغیب دیتے تھے۔ یہ کوئی اختلافی مسئلہ نہیں۔ ائمۂ مجتہدین رحمہم اللہ متفق ہیں کہ تسبیح وتحمید، تہلیل وتکبیر ، استغفار اور درود شریف کو روزانہ صبح وشام کثرت کےساتھ پڑھنےپر عظیم اجروثواب حاصل ہوگا۔

عن ‌عمرو بن شعيب، عن ‌أبيه، عن ‌جده قال: قال رسول الله ﷺ: من سبح الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حج مائة حجة،  ومن حمد الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حمل على مائة فرس في سبيل الله، أو قال: غزا مائة غزوة، ومن هلل الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن أعتق مائة رقبة من ولد إسماعيل، ومن كبر الله مائة بالغداة ومائة بالعشي لم يأت في ذلك اليوم أحد بأكثر مما أتى إلا من قال مثل ما قال، أو زاد على ما قال(سنن الترمذي رقم الحديث ۳۴۷۱)  قال رسول اللہ ﷺ من سبح اللہ فی دبر کل صلاۃ ثلاثا وثلاثین وحمد اللہ ثلاثا وثلاثین وکبر اللہ ثلاثا وثلاثین فتلک تسعۃ وتسعون وقال تمام المائۃ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیئ قدیر غفرت خطایاہ وان کانت مثل زبد البحر(مسلم:۵۹۷ )  عن أبي هريرة أن النبي ﷺ  قال أكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها كنز من كنوز الجنة (مسند احمد  ۸۴۰۶)  واذاسلم الخ سبحان اللہ ، والحمدللہ واللہ اکبر لیکون منہن کلہن ثلاثا وثلاثین مرۃ (بخاری مسلم نسائی) احدی عشرۃ واحدی عشرۃ واحدی عشرۃ فذلک کلہ ثلاث وثلاثون (مسلم) او عشرا عشرا عشرا (بخاری) الخ من سبح دبر کل صلاۃ مکتوبۃ مائۃ وکبر مائۃ وہلل مائۃ وحمد مائۃ غفر لہ ذنوبہ وان کانت اکثر من زبد البحر (نسائی ) او من کل خمسا وعشرین  (نسائی ،صحیح بن حبان ،مستدرک حاکم ) (الحصن الحصین من کلام سید المرسلین ﷺ فی الاذکار والادعیۃ النبویۃ للجزری ص ۶۶) 
عَن جَابر بن عبد الله رَضِي الله عَنهُ قَالَ قَالَ رَسُول الله ﷺ  من صلى على مائَة صَلَاة حِين يُصَلِّي الصُّبْح قبل أَن يتَكَلَّم قضى الله لَهُ مائَة حَاجَة عجل لَهُ مِنْهَا ثَلَاثِينَ الله حَاجَة وَأخر لَهُ سبعين وَفِي الْمغرب مثل ذَلِك قَالُوا وَكَيف الصَّلَاة عَلَيْك يَا رَسُول الله قَالَ {إِن الله وَمَلَائِكَته يصلونَ على النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذين آمنُوا صلوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً}  اللَّهُمَّ صل عَلَيْهِ حَتَّى تعد مائَة مرّة (جلاء الافهام لإبن القيم الجوزية ص: ۴۳۰ )(القول البديع: ص۱۳۴) (  الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبويةج۳ ص ۹۴۶)  عن عبد الله بن مسعود، أن رسول الله ﷺ  قال أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة( سنن ترمذی ۴۸۴) (صحیح بن حبان ۹۱۱)  قال أبو طالب المكي صاحب القوت أقل ذلك ثلاثمائة مرة  ( القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع للسخاویؒ ص ۱۶۹) 
عن ابن عمر  قال كنت جالسا عند النبي ﷺ  فسمعته استغفر مائة مرة  ثم يقول اللهم اغفر لي وارحمني وتب علي  إنك أنت التواب الرحيم أو إنك تواب غفور (مسند احمد ۵۳۵۴)  عن ابن عمر قال  إن كنا لنعد لرسول الله ﷺ  في المجلس الواحد مائة مرة رب اغفر لي  وتب علي  إنك أنت التواب الرحيم  (ابودائود ۱۵۱۶) عن حذيفة  قال كان في لساني ذرب على أهلي لم أعده إلى غيره، فذكرت ذلك للنبي ﷺ قال أين أنت من الاستغفار يا حذيفة  إني لأستغفر الله كل يوم مائة مرة ،  وأتوب إليه قال: فذكرته لأبي بردة بن أبي موسى فحدثني عن أبي موسى أن رسول الله ﷺ  قال  إني لأستغفر الله كل يوم وليلة مائة مرة وأتوب إليه (مسند احمد ۲۳۳۴۰) (المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحديث:۳۱۷۳) 
 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا