دارالعلوم سبیل الرشاد

پیدل حج کرنا کیسا ہے؟

پیدل حج کرنا کیسا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ 
پیدل حج کو جانا کیسا ہے؟فتویٰ عنایت فرمائیں۔ 
فقط والسلام 
محمد احتشام 
پتہ ، گووند پور، عربک کالج پوسٹ، بنگلور 45

جواب

حج کی فرضیت کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ زاد وراحلہ پر قادر ہویعنی مکہ معظمہ تک سواری کے ذریعے پہنچنے کے لئے روپیہ ہو، سفرکے مصارفِ ضروریہ اور واپسی تک اہلِ وعیال کے نفقہ کی رقم بھی رکھتا ہو ،جس کے پاس سواری کے ذریعےمکہ تک پہنچنے کی رقم نہ ہو، اس پر پیدل جاکرحج کرنا فرض نہیں ، لیکن اگر کوئی شخص پیدل حج کرےتو وہ ناجائز بھی نہیں ،مگر ایک شرط یہ ہے کہ وہ پیدل چلنے کی طاقت رکھتا ہوتاکہ راستہ کی تکلیف سے تنگی اور دشواری پیش نہ آئے او رپیدل حج کرنا صرف رضائے الہی اور حصولِ ثواب کے لئے ہو،شہرت اور ناموری مقصود نہ ہو ۔نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ پیدل حج کی بنسبت سوارہوکر حج کرنا افضل ہے ۔

الحج واجب على الأحرارالبالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا علی الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده الخ ولا بد من القدرة على الزاد والراحلة وهو قدر ما يكترى به شق محمل أو رأس زاملة وقدر النفقة ذاهبا وجائيا لأنه عليه الصلاة والسلام سئل عن السبيل إليه فقال الزاد والراحلة (ہدایہ علی ہامش فتح القدیرج۲ ص ۴۱۶) قوله إذا قدروا على الزاد بنفقة وسط لا إسراف فيها ولا تقتير والراحلة أي بطريق الملك أو الإجارة دون الإعارة(فتح القدیر ج۲ ص ۴۱۰) وفی السراجیۃ الحج راکبا افضل منہ ماشیا، بہ یفتی ، الدر ، قوله به يفتى لعل وجهه أن فيه زيادة النفقة، وهي مقصودة في الحج ولذا اشترط في الحج عن الغير أن يحج راكبا إذا اتسعت النفقة (ردالمحتار ج۲ ص ۴۶۱) وفي السراجية الحج راكبا أفضل من الحج ماشيا وعليه الفتوى(مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ج ۱ ص ۲۶۱)
واللہ اعلم
العبد صغیر احمد
۳۰ ذی الحجہ ۱۴۴۳ھ

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا