دارالعلوم سبیل الرشاد

قریہ (گاؤں) میں نمازِ جمعہ کا حکم

قریہ (گاؤں) میں نمازِ جمعہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلے میں کہ ہمارے گاؤں میں نماز ِجمعہ جائز ہے یا نہیں؟۔ ہمارا گاؤں جس میں موجودہ آبادی تقریباً 2800 سے متجاوز ہے۔ اس میں 16 عدد پر چوںاور سامان کی دکانیں ہیں جہاں سے روزمرہ ضروریات مثلاً آٹا گھی، چاول ،چینی، دال، صابن ، سبزی ،فروٹ،مٹھائی، مرغی کا گوشت ،چپل وغیرہ مہیا ہوتے ہیں ۔اور خواتین بھی اپنے گھروں میں زنانہ کپڑوں، وغیرہ کی تجارت کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ دو عدد پنکچر کی دکانیں ہیں ۔اور ایک آٹا چکی کی دکان ہے۔ دوعدد درزی ہے،پانچ عدد میڈیکل اسٹور ہیں جہاں سے تقریباً ادویات میسر ہوتے ہیں ۔پانچ ڈاکٹر ہیں ۔اپنے گاؤں کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی لوگ علاج کروانے کے لیے آتے ہیں ۔14 عدد مساجد ہیں۔ تین عدد اسلامی مدارس جس میں سینکڑوں طلبائےکرام سبق پڑھتے ہیں ۔اس کے علاوہ تین عدد اسکولز ہیں ۔ایک گورنمنٹ ہائی سکول ہے اور ایک پرائمری گرلز سکول ہے اور ایک پرائیوٹ( پبلک) اسکول ہے ۔ ہمارے گاؤں کے علاؤہ دیگر قرب وجوار کے طلباء بھی یہاں اسکول پڑھنے آتے ہیں ۔دو ہسپتالیں ہیں جو مستقل طور پر آباد نہیں۔ ان میں سے ایک حیوانات کا ہے ۔ نیز ہمارے گاؤں میں کافی معمار ہیں اور دو لائن مین(بجلی کاکام کرنے والے)بھی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور شخصی گاڑی کافی مقدار میں موجود ہیں
نوٹ! ہمارے گاؤں میں مندرجہ ذیل شرائط نہیں (1) ہمارے گاؤں کی آبادی چار ہزار سے کم ہے ۔(2) ہمارے گاؤں میں حکومت کاکوئی تھانہ وغیرہ نہیں۔(3) ہمارے گاؤں میں زرگر نہیں۔(4)حجام باقاعدہ دوکاندار کی شکل میں نہیں۔ (5) ڈھول بجانے والا نہیں ہے۔(6)برتن کی دکان نہیں ہے (7)ہمارے گاؤں کی دکانیں ایک بازار کی شکل میں نہیں ۔ مذکورہ بالا حقائق دیکھنے کے بعد یہ بتائیں کہ ہمارے گاؤں میں نماز جمعہ کا کیا حکم ہے ۔ نہ پڑھنے کی صورت میں ہم گنہگار تو نہیں ہوںگے ؟۔

 المستفتی ضیاء الرحمان مورخہ 2025-12-14

جواب

مفتیانِ کرام ؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ کسی آبادی کے شہر یا دیہات ہونے کا مدار عرف پر ہےلہذاعرفاً جو شہر اور قصبہ ہووہاں جمعہ درست ہے ۔ پس سوال میں مذکور گائوں میں جمعہ قائم کرنا شرعاً جائز ہے، حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ جس جگہ کم ازکم دومسجدیں ہوں  اور ان میں سے بڑی مسجد میں وہاں کے مسلمان مکلف بالجمعہ نہ سماسکیں وہ (جگہ)شہر کا حکم رکھتی ہے ۔

المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام الخ ،الدر، قوله ما لا يسع إلخ هذا يصدق على كثير من القرى (ردالمحتارج۲ ص ۱۳۷) تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمربالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق : القرى (ردالمحتار ج۲ ص ۱۳۸)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا