کیا صبح میں نکاح کرکے دوپہر میں ولیمہ کرنا درست ہے؟
سوال
(۱) کیا صبح میں نکاح کرکے دوپہر میں ولیمہ کرنا درست ہے ؟۔ (۲)کیا دونوں طرف (لڑکا اور لڑکی)کے آدھے آدھے پیسوں سے ولیمہ کرنا جائز ہے ؟۔ جب کہ لڑکے کی جانب سے لوگ زیادہ ہوں اور لڑکی کی طرف کے لوگ کم ہوں۔ (۳)کیا عالمہ لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے ؟ ۔ (۴)کیا چاند کی تیس تاریخ کو نکاح کرنا جائز ہے ؟۔براہ مہربانی فتوی عنایت فرمائیں ۔
فقط والسلام مورخہ ۱۸ دسمبر ۲۰۲۵
فقط والسلام مورخہ ۱۸ دسمبر ۲۰۲۵
جواب
(۱)نکاح کی خوشی میںدلہے کی طرف سے دی جانے والی ضیافت کوولیمہ کہتے ہیں،ولیمہ نکاح کی سنت ہے اوریہ سنت زفاف یاخلوت پر موقوف نہیں بلکہ زفاف سے پہلے بھی جائز ہےاور زفاف کے بعد بھی ،پس صبح میں نکاح کرنا اور اسی دن دوپہر میںولیمہ کرنابلاشبہ جائز ہوگا اورسنتِ ولیمہ ادا ہوجائے گی،موجودہ حالات میں ضیافتِ نکاح کے غیر شرعی بوجھ کولڑکی والوں پر سے ہٹانے کے لئے نکاح کے فوری بعد ولیمہ کردیناافضل ہوگا۔ (۲) ولیمہ کی پوری ذمہ داری شرعاًدلہے پرہے،لہذاولیمہ کے تمام اخراجات اپنی حیثیت کے مطابق دلہااپنی طرف سے اداکرے ،دلہن والوں کااس میں حصہ دار بنناجائز نہیں ۔(۳،۴) جائز ہے۔
وولیمۃ العرس سنۃ وفیھامثوبۃ عظیمۃ وھی اذابنی الرجل بامراتہ ینبغی ان یدعوالجیران والاقرباء والاصدقاء الخ ولاباس بان یدعویومئذ ومن الغد وبعدالغد ثم ینقطع العرس والولیمۃ(عالمگیری ج ۵ ص ۳۴۳)قولہ اولم ولوبشاۃ ای اتخذالولیمۃ الخ وقیل انھاتکون بعدالدخول وقیل عندالعقد وقیل عندھماالخ (مرقاۃ المفاتیح ج ۶ ص ۲۵۰)