دارالعلوم سبیل الرشاد

عورت کے لیے سفر عمرہ میں بھی محرم کا ہونا شرط ہے

عورت کے لیے سفر عمرہ میں بھی محرم کا ہونا شرط ہے

سوال

کیا کوئی عورت اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرہ پر جاسکتی ہے یانہیں ۔یعنی سالی کا کسی محرم کے بغیر صرف اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرہ کرنا جائز ہے یا نہیں جب کہ اس عورت(سالی) کے شوہر کے لیے اسباب مہیا نہ ہوں۔ فتوی عنایت فرماکر مشکور فرمائیں ۔فقط والسلام محمد احتشام علی قمر کالونی گلبرگہ مورخہ ۳۰ نومبر ۲۰۲۵ء
فون نمبر : 8867427251

جواب

عورت کے لیے سفر عمرہ میں بھی محرم کا ہونا شرط ہے اس کے بغیر عورت کے لیے عمرہ کا سفر جائز نہیں چاہے وہ بوڑھی ہو۔ صورت مسئولہ میں بہنوئی سالی کے لئے محرم نہیںاس لیے بہنوئی کے ساتھ سالی کاسفرِ عمرہ جائز نہیں خواہ سالی کاشوہر اجازت دےیا اس کے پاس اسباب نہ ہوں ۔

۔العمرۃ الخ واما شرائطھا فشرائط الحج الاالوقت الخ(عالمگیری ج ۱ ؛ص ۲۳۷) واماشرائط وجوبہ الخ ومنھا المحرم للمرأۃ شابۃ کانت لوعجوزا اذاکانت بینھاوبین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ ایام الخ والمحرم الزوج ومن لایجوزمناکحتھاعلی التابید بقرابۃ اورضاع اومصاھرۃ کذافی الخلاصۃ (عالمگیری ج ۱ ص ۲۱۹)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا