مضامین سلسبیل

اللہ تعالی کے نام سے شروع کرتاہوں جو ہروقت بے حدمہربان ہے اور سب پرباربار رحم کرنے والاہے،اسی نے ایسی شخصیت کے بارے میں خامہ فرسائی کی توفیق دی جوعنداللہ بھی مقبول ہے اورعندالناس بھی ۔ان کی مقبولیت کی یہ علامت کافی ہے کہ دنیامیں قرآن کے بعد ان کی ہی کتاب سب سے زیاد ہ صحیح اورمستند ہے اور جس کا مطالعہ سب سے زیادہ کیاجاتاہے۔یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ قرآ ن مجید کے بعددین کادوسرا سب سے بڑا ماخذ سنتِ رسول ﷺ ہے جس پر پورے دین کی اساس اوربناء ہے،یعنی وہ مبارک طریقہ جورسول اکرمﷺ کی ذات گرامی سے منسوب ہے خواہ وہ آپ کے مبارک ارشادات ہوںیاآپ کے پاکیزہ اعمال ہوں یا خاتم الانبیاءﷺکی تقریرات ہوں یارسول اکرم ﷺکے خَلقی وخُلقی مبارک احوال ہوںاوران کو صحابہ کرام؇ نے آپ سے حاصل کرکےدیگرافراد کو سنایا ، مذاہب کی تاریخ میں ایسی کوئی اورمثال نہیں ملے گی کہ مذہبی پیشواکے شب وروز ، شام وسحر، خلوت وجلوت ،سفروحضر اور زندگی کے ایک ایک طریقہ کی اس طرح حفاظت کی گئی ہو ،جیسے خاتم المرسلین ﷺ کی حیات طیبہ کو’ حدیث ‘کی صورت میں محفوظ کیاگیاہے ۔ یہ درحقیقت اسلام کے دوام اورخاتم النبیین ﷺ کی نبوت قیامت تک محیط ہونے کی دلیل ہے ، اس لئے ہرعہد کے اکابرعلماء اورنابغہ روزگار ہستیوں نے اس فن کی آبیاری میں حصہ لینے کو اپنی سعادت گردانا ہے اور ان سب لوگوں نے نہایت اہتمام سے اس کو یاد کیااوربہت سے لوگوں نے لکھ کر بھی محفوظ کرلیا،پھران کے شاگردوںنے اس کو مختلف طریقوں سے مدون ومرتب فرماکر امت پراحسان عظیم فرمایا پھردیگرمحدثین کرام نے بھی گوناگوں طریقوںسے کتابیں لکھ کر امت تک پہنچائیں، اس طرح علم حدیث دوسری صدی کے شروع سے ہی مدون ومرتب ہوناشروع ہوگیا تھا،جن میں امام ابن شہاب زہریؒ امام 
مالکؒ،امام عبد اللہ بن مبارکؒ،ربیع بن صبیح ؒ، امام احمد بن حنبلؒ،علی بن مدینیؒاورامام بخاریؒسرفہرست ہیں ۔
 

اسی آخر الذکرمقبول اورمعروف شخصیت کے بارے میں چندسطریںسپردقرطاس کرنے کی توفیق ہو رہی ہے،جو اپنے پیش روائمہ کرام کی آرزو، اساتذہ کافخراورمعاصرین کے لئے سراپا رشک تھے،ان کے زمانےکےمحدثین میں امام احمد بن حنبلؒ، یحیی بن معین ؒاور علی بن مدینی ؒ کی شہرت تھی،لیکن جب آسمانِ علم حدیث پربخاراکاسورج طلوع ہوا تو تمام محدثین ستاروں کی طرح مستورہوتے چلے گئے ،آپ نےجامع صحیح بخاری کی تصنیف کرکےان کتب ستہ کا سلسلہ شروع فرمایا جوصحاح ستہ کے نام سے مقبول عوام وخواص ہیں ۔

اسمِ گرامی محمد،والد کانام اسماعیل،داداکانام ابراہیم ہے،کنیت ابوعبداللہ،لقب امیرالمؤمنین فی الحدیث،الحجۃ،حافظ الاحادیث النبویۃ  وناشر المواریث المحمدیۃہے، سلسلۂ نسب اس طرح  ہے: محمد ابن اسماعیل ابن ابراہیم ابن مغیرۃ ابن بردزبۃ جعفی بخاریؒ۔

امام بخاری کے والد اسماعیل عظیم محدث اورصالح بزرگ تھے،امام ابن ِحبانؒ نے اسماعیل ؒکو طبقہ رابعہ کے ثقہ راویوں میں شمارکیاہے ،انہیں امام مالکؒ اور حماد بن زیدؒ جیسے یکتائے روزگار محدثین سے روایتِ حدیث کاشرف حاصل ہواہے اور عبداللہ بن مبارک ؒ کی خدمت مبارکہ میںزیادہ رہنے کاموقع ملاتھا،اوریحیی بن جعفر بیکندیؒ،احمد بن جعفرؒ،نصر بن حسینؒ اورعراقیوں کی ایک بڑی جماعت نے امام بخاریؒ کے والداسماعیلؒ سے احادیث کاسماع کیاہے۔امام بخاری کے والد خوش حال اور دولت مند تھے اورجس قدر صاحب حیثیت تھے اسی قدرمتقی تھے ۔احمد بن حفصؒ ؒ کہتے ہیں کہ میں اسماعیل ابن ابراہیمؒ کے نزع کے وقت ان کی خدمت میں حاضر تھا،وہ کہنے لگے کہ میرے پاس جس قدرمال ہے اس میں ایک درہم بھی مشتبہ نہیں ہے۔ امامِ ذہبیؒ نے تاریخِ اسلام میں اورامام بخاریؒ نے  اپنی کتاب تاریخِ کبیر میں اپنے والد محترم کا مفصل تذکرہ تحریرفرمایاہے ۔

حافظ ابن حجرؒ نے لکھاہے کہ امام بخاری کے داداابراہیمؒ کے احوالِ زندگی معلوم نہیں ہوئے۔ امام بخاریؒ کے والد اسماعیل کے پردادابردزبۃ مجوسی تھے ، لفظِ بردزبۃ دہقان بخاراکی لغت میں کاشت کار یاکارندہ کو کہتے ہیں ، یہ فارسی کلمہ ہے اور ماہر کے معنی میں ہے ۔بردزبۃ کے لڑکے امام بخاری کے جد امجد مغیرہ بن بردزبۃ بھی مجوسی تھے لیکن حاکمِ بخارا یمان ِجعفی کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوئے اوراسی نسبتِ ولاءسے منسوب کرتے ہوئے مغیرہ جعفی کے نام سے مشہورہوئے اورامامِ بخاریؒ اسی نسبت سے جعفی کہلائے گئے ۔
 
امامِ بخاریؒ۱۳شوال   ۱۹۴؁ھ بروزجمعہ ماوراء النہرکے مشہورشہر بخارامیںبعدنمازِ جمعہ پیداہوئے ،ایامِ طفولیت ہی میںامام ِبخاری کے والد کاانتقال ہوگیااس لئے اپنی والدہ کے آغوشِ شفقت میں نشوونماپائے ۔امام ذہبی ؒ نے سیراعلام النبلاء میں تحریرکیاہے کہ امام بخاریؒ کی بینائی صغرسنی میں چلی گئی تھی ،لیکن پھر والد ہ کی دعاکی برکت سے آنکھیں روشن ہوگئیں۔امام کی والدہ تہجد گذار اور راتوں میں اللہ کویادکرکے آہ وزاری کرنے والی خاتون تھیں، اپنے لخت جگر کی بینائی کے لئے تضرع کے ساتھ دعائیں کیاکرتی تھیں توایک دن والدہ کے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی، حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  نے فرمایاکہ تمہاری کثرتِ دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے فرزند کی بصارت لوٹادی ہے،اسی خواب کی صبح امام بخاری ؒ بینا ہوگئے تھے ۔
 
امام بخاری ؒکو احادیث یاد کرنے کاشغف وشوق بچپن ہی سے دامن گیر تھا،ابوعبداللہ محمد بن ابوحاتم وراقؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاریؒ سے معلوم کیاکہ آپ نے علم حدیث کاآغاز کس طرح کیا،امام بخاری ؒنے فرمایاکہ جب میں مکتب میں بچوں کے ساتھ پڑھتاتھاتب ہی سے حدیث پاک حفظ کرنے کاشوق من جانب اللہ میرے دل میں ڈالاگیا،میں نے سوال کیا کہ حضرت!  اس وقت آپ کی عمر کتنی تھی ، فرمایا دس سال یااس سے بھی کم عمرتھی اورمکتب سے جب فراغت ہوئی تو محدث داخلی کے درس میں شرکت شروع کی۔

علمی اسفارکاآغاز مع سفرحج

امام بخاری ؒسولہ سال کی عمر میں عبداللہ بن مبارکؒ اورامام وکیعؒکی تمام کتابوںکے حافظ تھے،پھراسی سال اپنی والدہ اوربھائی احمدکے ہمراہ برائے حج مکہ معظمہ تشریف لے گئے،حج سے فراغت پائی توامام کی والدہ اوربھائی احمداپنے وطن بخارا واپس چلےگئے اورامامِ بخاریؒ نےمزید دوسال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایاپھراٹھار ہ سال کی عمرمیںمدینہ منورہ کے قیام میں نبی اکرمﷺکے روضۂ اطہرکے پاس چاندنی راتوںمیںان دوکتابوں’’ قضایاالصحابۃ والتابعین ‘‘اور’’التاریخ الکبیر‘‘کی تصنیف فرمائی۔

علامہ ذہبی فرماتے ہیں: کہ امامِ بخاری ؒنے سب سے پہلےسماعِ حدیث ۲۰۵؁ھ میں شروع کیااوربخاراکے شیوخ مثلاًمحمد بن سلامؒ ،محمد بن یوسفؒ ، اورابراہیم بن اشعثؒ وغیرہ سے استفادہ کرنے کے بعد   ۲۱۰ ؁ھسے سفر کا آغازکیا۔علمِ حدیث حاصل کرنے کےلئےدور دراز مقامات کاسفرکیا ۔بلخ ،مرو،نیشاپور،رَی ، بغداد، بصرہ ، کوفہ ،مکہ ،مدینہ ،واسط،مصر، شام،دمشق، قیساریہ ،عسقلان، حمص،جزیرہ،اور خراسان وغیرہ مختلف مقامات کاسفرکیا۔امامِ بخاری بلخ گئے اورمحدث مکی ابن ابراہیمؒ کے تلمیذبنے،مکی ابن ابراہیم ؒامامِ اعظم ؒکے تلمیذِخاص تھے،مکی ابن ابراہیم ؒسے امامِ بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں گیارہ ثلاثی احادیث روایات کی ہیں ۔

علامہ ذہبی فرماتے ہیں: کہ امامِ بخاری ؒنے سب سے پہلےسماعِ حدیث ۲۰۵؁ھ میں شروع کیااوربخاراکے شیوخ مثلاًمحمد بن سلامؒ ،محمد بن یوسفؒ ، اورابراہیم بن اشعثؒ وغیرہ سے استفادہ کرنے کے بعد   ۲۱۰ ؁ھسے سفر کا آغازکیا۔علمِ حدیث حاصل کرنے کےلئےدور دراز مقامات کاسفرکیا ۔بلخ ،مرو،نیشاپور،رَی ، بغداد، بصرہ ، کوفہ ،مکہ ،مدینہ ،واسط،مصر، شام،دمشق، قیساریہ ،عسقلان، حمص،جزیرہ،اور خراسان وغیرہ مختلف مقامات کاسفرکیا۔امامِ بخاری بلخ گئے اورمحدث مکی ابن ابراہیمؒ کے تلمیذبنے،مکی ابن ابراہیم ؒامامِ اعظم ؒکے تلمیذِخاص تھے،مکی ابن ابراہیم ؒسے امامِ بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں گیارہ ثلاثی احادیث روایات کی ہیں ۔ 

امامِ بخاری ؒبغدادمیںمعلی بن منصورکے پاس زانوئے تلمذ تہہ کئے،امامِ احمدبن حنبلؒ تحریرفرماتے ہیںکہ معلی بن منصور امام اعظم ابوحنیفہؒ اورصاحبین (امام ابویوسف امام محمد ؒ)کے شاگردِرشیدتھے،نیزامامِ اعظم ابوحنیفہ ؒکے تلامذہ میں ایک تلمیذ یحییٰ بن سعید القطانؒ بھی ہیں،جن سے امام احمدؒ اورعلی ابن مدینی ؒ نے خصوصی استفادہ کیاہےاورامامِ بخاریؒ  نے ان دونوں ائمہ (امام احمد بن حنبلؒ اورعلی بن مدینیؒ) سے احادیث نقل فرمائی ہیں،چنانچہ صحیح بخاری شریف میں علی بن مدینیؒ سے بکثرت روایات مروی ہیں۔

امام بخاریؒبصرہ پہنچ کر ابوعاصم النبیلؒ کے شاگرد ہوئے،جن سے امام بخاریؒنے صحیح بخاری میںچھ ثلاثیات نقل کی ہیں،ان کے علاوہ تین ثلاثیات محمد بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہیںجو بتصریحِ خطیب بغدادیؒ صاحبینؒ کے تلمیذ اور حنفی تھے،اس کے علاوہ مصر شام اورجزیرہ میـںدودوبار تشریف لے گئے اورحجازِ مقدس میںچھ سال قیام فرماکر کوفہ اور بغدادجومرکزِعلماء تھا، متعددباررونق افروز ہوئے،بصرہ چار مرتبہ تشریف لے گئے اوربعض دفعہ پانچ پانچ سال تک قیام کیا ایامِ حج میں مکہ معظمہ چلے جاتے تھے ۔

حافظ ابنِ کثیرؒتحریرفرماتے ہیں کہ امام بخاریؒآٹھ مرتبہ بغداد گئے اورہر مرتبہ امام احمد بن حنبل ؒ امام بخاریؒ سے بغداد کے قیام پر اصرار کرتے تھے ۔حافظ ابن حجرؒ تحریر فرماتے ہیں اس کے باوجود امام بخاریؒ نے امام احمد بن حنبل ؒ سے بہت کم روایتیں نقل کی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاری کو امام احمد ؒ کے مشائخ واساتذہ سے استفادہ کاموقع نصیب ہواتھااوردوسری وجہ یہ ہے کہ امام بخاریؒ کے آخری سفر میں امام احمد بن حنبل ؒ نے روایت کرنا بہت کم کردیاتھا۔

شوقِ مطالعہ

امام بخاری کومطالعہ کابہت شوق تھا،اوراس کے لئے بڑی مشقتیں اٹھاتے تھے ، اورمطالعۂ حدیث میں شب بیداری کرتے تھے،چنانچہ محمد بن یوسف بخاریؒ ؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شب میں امام بخاریؒ کے ساتھ رہنے کااتفاق ہوا تو میں نےخود دیکھا کہ امام بخاریؒ نےشب بھر میں اٹھارہ مرتبہ اٹھ کرچراغ روشن کیااحادیث کا مطالعہ کیاپھرسوگئے۔امام بخاریؒ نے تحصیل حدیث کے لئے مقامات بعیدہ کاسفرکیا اور سخت سے سخت تکلیفیں اورصعوبتیں برداشت کیں ،کہیں کسی محدث کاپتہ چلتاتووہاں پہنچ کر خوب محنت سے حدیثیں حاصل کرتے ۔حامد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ  طلب حدیث کے لئے میرے ہمراہ شیوخ ِوقت اورمحدثین زمانہ کی خدمت میں آمد ورفت رکھتے تھے لیکن کچھ لکھتے نہیں تھے ۔میں نے ان سے پوچھاکہ جب تم حدیثیں لکھتے ہی نہیں توتمہارے  آنے جانے سے کیافائدہ ؟ سولہ دن کے بعد امام بخاری ؒ نے کہا کہ تم لوگوں نے مجھ کو تنگ کردیاہے آئو اب میری یادداشت کااپنی نوشتوں سے مقابلہ کرو،اس مدت میں ہم نے پندرہ ہزار حدیثیں لکھی تھیں، امام بخاری ؒ نے اپنے حافظے سے مکمل اسناد کی صحت کے ساتھ جملہ احادیث کو اس طرح سنایاکہ میں خود اپنی لکھی ہوئی حدیثوں کو ان سے سن کر صحیح کرتا، اس کے بعد امام بخاری نے کہاکہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں عبث اوربے فائدہ سرگردانی کرتاہوں۔ہرگز ایسانہیں ہوتاتھا بلکہ امام کی قوت حافظہ کایہ عالم تھاکہ درس میں حدیثیں صرف ایک بار سن کر یاد کر لیتے جب کہ دوسرے طلبہ لکھتے رہتے ،درس کے بعد جملہ رفقاء اپنی کاپیوں کاامام بخاری کی یادداشت سے موازنہ کرتے تھے ۔

جب امام بخاری بغداد گئے تو امام کاامتحان لینے کے لیے سواحادیث کے متون اور اسناد کو تبدیل کرکے وہاں کے محدثین میں سےدس آدمیوں نے دس دس حدیثیں خلط ملط کرکے امام بخاری کو سنایاتوامام ہرحدیث کے جواب میں  لا اعرف کہتے گئے، جس سے سارامجمع حیران تھاکہ ان کاتوشہرہ تھالیکن لااعرف کہہ رہے ہیں۔امام بخاریؒ سوحدیثوںکوسننے کے بعد اولاًصرف ایک بار سنی ہوئی غلط حدیثوں(جس کے سند ومتن میں خلط ملط کیاگیاتھا) کوبالترتیب سنایا، ٹھیک اسی ترتیب سے جس ترتیب سے ان لوگوں سے سناکرحدیثوں کے بارے میں پوچھاتھا پھر صحیح متن وسند کے ساتھ ان سوحدیثوں کوسنایااس حیرت انگیز قوت حافظے سے لوگ امام بخاری کے علمی فضل وکمال کے معترف ہوگئے اوران کے گرویدہ ہوگئے۔

امام بخاری کے اساتذہ وشیوخ کی تعداد بہت زیادہ ہے ،ان کاخود بیان ہے کہ میں ایک ہزاراسی محدثین سے حدیثیںاخذکیاہوں کتبت عن الف وثمانین نفسالیس فیھم الاصاحب حدیث ۔؍(فتح الباری ج :۱؛ ص :۴۷۹)

حافظ ابن حجرؒ تحریرفرماتے ہیں کہ امامِ بخاری کے شیوخ کے پانچ طبقات ہیں :
؍(۱)وہ تبعِ تابعین جن سے امام بخاری ؒنےحدیثیں روایت کی ہیں:جیسے محمد بن عبداللہ الانصاریؒ ،مکی بن ابراہیمؒ ، ابوعاصم النبیلؒ ،عبیداللہ بن موسیؒ ،ابونعیمؒ خلاد بن یحییؒ، علی بن عیاشؒ ، عصام بن خالدؒ ،وغیرہ اِن تمام کے شیوخ اوراساتذہ کبارتابعین میں سے ہیں ۔امام بخاری ؒ نے کسی تابعی سے براہ راست ملاقات نہیں کی ، بلکہ بہت سی حدیثیں براہ راست تبع تابعین سے حاصل کیں۔
؍(۲)ان کے مشائخ میں دوسراطبقہ ان حضرات کاہے جوتبع تابعین کے ہم عصرہیں لیکن انہوںنے تابعین سے احادیث روایت نہیںکی ہیں بلکہ تبع تابعین کے زمانے میںپیداہوئے تھے، اورتبع تابعین ہی سے روایت کی ہے ،تویہ اتباع تابعین میں شمارہوئے۔ جیسے آدم بن ابی ایاس وغیرہ۔ 
؍(۳)اس درمیانی طبقہ میں وہ مشا ئخ ہیں جن کی ملاقات تابعین سے نہیں ہوئی ،البتہ کبارِ تبع تابعین سے اخذحدیث کاموقعہ ملا ہے، جیسے سلیمان بن حرب، قتیبہ بن سعید،علی بن مدینی ،یحیی بن معین نعیم بن حماد،احمد بن حنبل،ابوبکرابن ابی شیبۃ ،عثمان ابن ابی شیبۃ ،اسحاق بن راہویہ وغیرہ۔
؍(۴) چوتھاطبقہ امام بخاری ؒ کے مشائخ یابزرگوںمیں سے ان حضرات کاہے جو امام بخاری ؒکے اقران ہیں۔یعنی ان کے ہم عصراورہم عمرہیں لیکن تھوڑاسافرق ہے ،اوراس تھوڑے سے فرق کی وجہ یہ ہے کہ بعض حدیثیں ان کے پاس تھیں اورامام بخاری ؒ کے پاس وہ حدیثیں نہیں تھیںلہٰذاامام بخاری ؒ نے ان سے وہ حدیثیں حاصل کیں ۔ جیسے محمد ابن یحیی ذہلی ،ابوحاتم رازی اورمحمد ابن عبدالرحیم ، عبدابن حمید احمد ابن نضروغیرہ۔
؍(۵)وہ اساتذۂ حدیث جو امام بخاری کے تلامذہ کی صف میں تھے ،نیزوہ کم عمر اورامام بخاری سےاسناد میں ادنی درجے کے تھے،ان سے بھی امام بخاری ؒ  نے روایت کی ہے ،جیسے عبداللہ بن حماد آملیؒ ،عبداللہ بن ابو العاص الخوارزمی اورحسین بن محمد قبانیؒ وغیرہ ۔ان محدثین سے استفادہ میں  امام بخاریؒکی جلالت شان واضح ہوتی ہے کہ علم حاصل کرنےکے لئے انہوں نے اس بات میں کبھی عیب یاعارنہیں سمجھاکہ اپنے سے چھوٹے شاگردوںسے کوئی حدیث سنیںاوراس سلسلے میںامام وکیعؒ کے مقولہ پرعمل کئے ہیں ۔امامِ وکیع ؒکامقولہ یہ ہے کہ آدمی اس وقت تک عالم ِحدیث نہیں ہوتاجب تک کہ اپنے بڑوں ، اساتذہ شیوخ عظام، اپنے ہم عصروں،اپنے برابروالوں اور چھوٹوں سے حدیث روایت نہ کرے ۔اسی لئے امام بخاری ؒ نے اپنے تلامذہ سے بھی حدیثیں روایت کی ہیں۔
 
تلامذہ 
آپ کے تلامذہ اورمستفیدین کاحلقہ بھی نہایت وسیع ہے،فربریؒ لکھتے ہیں کہ امام بخاری ؒ کی حسنِ نیت کانتیجہ تھاکہ جامع صحیح بخاری اس قدر مقبول ہوئی کہ ان کی زندگی میں ہی صحیح بخاری کوبراہِ راست امام بخاری ؒسے بلاواسطہ نوے ہزارافرادنے سماعت کیاہے ۔جن میں سب سے آخری ابوعبداللہ فربری ہیں اورآج کل ان ہی کی روایت علوِاسناد کی وجہ سےشائع اورمقبول ہے،ان کے تلامذہ میں بڑے پایہ کے علماءاور محدثین تھے،مثلاامام مسلم ؒ،حافظ ابوعیسی ترمذیؒ،ابوعبدالرحمن نسائی وغیرہ جو حدیث کے ارکان ستہ میں سے جلیل القدررکن ہیں،ابوزرعہ رازیؒ،ابوحاتم رازی، ابنِ خزیمہ، محمدبن نصر مروزی ابوعبداللہ الفربری وغیرہم مشہورتلامذہ میں سے ہیں،جو آگے چل کر خود بڑے پایے کے محدث ہوئے ہیںاوران سے ہزاروںلاکھوں کونفع پہنچا ۔
امامِ بخاریؒ نے جوانی کے ایام ہی سے تدریسی سلسلہ شروع کردیاتھا آپ کے سامنے دوسرے محدثین کی مجلسوں کارنگ پھیکاپڑگیا،آپ کی مجلسِ درس کبھی مسجد میںاورکبھی مکان میں منعقد ہوتی تھی۔
امام بخاری ؒ جس طرح علم وفن میں یکتاتھے ۔اسی طرح زہد وتقوی میں بھی مثالی نمونہ تھے ،نماز میں دنیاومافیہاسے بے خبر ہوجاتے تھے ،ایک نماز میں امام بخاری ؒ کو بھڑ نے سترہ بار ڈنک مارا، مگرآپ کی حالت وہیئت میں ذرابھی تغیر نہیں ہوا ، ہردن روزانہ ایک قرآن ختم اوراخیرشب میں ایک تہائی قرآن پڑھنے کی عادت تھی ، تراویح کی ہررکعت میں بیس آیتیں پڑھتے،اسی طرح رمضان بھرکا معمول تھا ۔امام بخاری ؒ خود فرماتے تھے کہ مجھے قوی امید ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے کسی کی غیبت کا سوال نہ کیاجائے گاکیوں کہ بفضل باری تعالی میںنے کسی کی غیبت نہیں کی ۔اللہ اکبر کس قدر تورع اورتعفف تھا۔خداتعالی ہم کو اس کی توفیق عنایت فرمائے آمین ۔
امام بخاری ؒنے صحیح بخاری کاسببِ تالیف بیان کیا کہ جب مجھ سے میرے استاذاسحاق بن راہویہ نے فرمایاکہ کاش تم احادیث کی ایسی کتاب لکھتے جس میں صرف صحیح احادیث ہوں ،تب ہی سے میں نے ارادہ کرلیاکہ صحیح احادیث کی جامع ایک کتاب لکھوں گا۔ایک رات خواب دیکھاکہ حضوراقدسﷺ کوپنکھاجھل رہا ہوں اور مکھیاں اڑارہاہوں،اس کی تعبیر لوگوں نے یہ بتائی کہ تم حضوراکرم ﷺ کے کلام سے کذب وافتراء کی مکھیاںاڑائوگے۔پھرپختہ ارادہ کرلیااورعزم مصمم کے ساتھ کام شروع کیا۔چھ لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے سات ہزاردوسوپچہتر حدیثوں کا مجموعہ صحیح بخاری شریف سولہ برس کی مدت میںاس اہتمام کے ساتھ لکھا کہ ہر حدیث لکھنے سے قبل غسل کرکےدورکعت نفل نمازپڑھتاتھا،پوری کتاب اسی ترتیب واہتمام کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ عبدالقدوس بن ہمام روایت کرتے ہیں کہ کئی مشائخ فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے تراجمِ ابواب کی تبییض ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی ہے ، تراجمِ ابواب میں سے ہرترجمہ کے لئے دورکعت نمازپڑھتے تھے،چونکہ انتہائی خلوص سے یہ کتاب لکھی گئی ہے ،اسی لئے بہت مقبول ہوئی اور دنیا کے تمام مدارس اسلامیہ میں اس کادرس بڑے اہتمام سے ہوتاہے ۔صحیح بخاری کے علاوہ آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں۔التاریخ الکبیر،التاریخ الاوسط، التاریخ  الصغیر ، خلق افعال العباد ،جزءرفع الیدین ،قرائۃ خلف الامام ،برالوالدین ، کتاب الضعفاء،الجامع الکبیر ،تفسیر الکبیر،کتاب الاشربۃ، کتاب الہبۃ ،کتاب المبسوط ، کتاب الکنی،کتاب العلل ،کتاب الفوائد،کتاب المناقب ،کتاب اسامی الصحابۃ ، کتاب الوحدان ،الادب المفردوغیرہ۔
 
الغرض بتقدیرِالہی امام بخاری ؒ کو امتحان وابتلاء پیش آئی کہ خالد بن احمد ذہلی امیربخارانے ان کو اس امر کی تکلیف دینی چاہی کہ امام بخاری اس کے مکان جاکر اس کے لڑکوں کو جامع صحیح و تاریخ کبیر وغیرہ کی تعلیم دیں لیکن امام بخاری نے جواب دیاکہ یہ علم حدیث ہے اس کو میں ذلیل کرنا نہیں چاہتا، اگرتم کو غرض ہے ، تواپنے لڑکوں کو میری مجلس میں بھیجاکروتاکہ دوسرے طلبہ کی طرح وہ بھی علم حاصل کریں، امیر بخارانے کہااگرایساہے توجس وقت میرے بیٹے آپ کے پاس علم حاصل کرنے آئیں اس وقت دوسرے طلبہ کو اپنی خدمت میں نہ آنے دیں ۔ایک مختص وقت میں انفرادی طورپر صرف میرے ہی بچوں کو تعلیم دیں ،امام بخاری ؒ نے اس کو بھی قبول نہیں فرمایا اورکہاکہ یہ علم میراث ِ انبیاء کرام ؊ ہے، اس میں ساری امت شریک ہے ،کسی کو کوئی خصوصیت نہیں ،اس گفت وشنید سے امیرِبخاراامام بخاری ؒسے رنجیدہ ہوگیااوراس کے دل میں کدورت بڑھتی رہی،نوبت بایں جارسید کہ امیرمذکور نے ابن ابی الورقاء اوراس وقت کےدوسرے علماء ظاہری کو اپنے ساتھ جوڑلیااورامام بخاری کے مذکورطریقے پر طعن کرنے لگا اور اسی حیلے اوربہانے سے امام بخاری کو بخاراسے نکال دیا توامام بخاری ؒوہاں سے جب روانہ ہوئے تو جنابِ الٰہی میں دعاکی کہ اے اللہ ان لوگوں کواس بلاء میں مبتلاء کردے جس میں وہ مجھ کو کرنا چاہتے ہیں ،اس دعاکایہ ا ثرہواکہ ایک ماہ گذرنے سے پہلے خالد بن احمد ذہلی معزول کیا گیا،اس وقت کے خلیفہ نے یہ حکم دیاکہ خالد بن احمد کو گدھے پر سوار کرکے شہر میں سیر کرائیں،انجام کار ان کو کامل تباہی کاسامناکرناپڑاجیساکہ کتب تاریخ میں مذکور ہے، حریث ابن ابی الورقاء کو بھی بے حد فضیحت ورسوائی ہوئی ، ان کاوقار خاک میں مل گیا نیز اس وقت کے سارے ان علماء کو بھی جوامام بخاری ؒ کے درپئے تذلیل اورخالد بن احمد ذہلی کے مشورہ میں شریک تھے ان سب کو پوری پوری آفت لاحق ہوئی۔
 
امام بخاریؒ اس مجبوری میں پہلے نیشاپورگئے جب وہاں کے امیر کے ساتھ بھی حالات ناسازگاررہے،وہ بھی اپنی ضد پر اتر آیا تو وہاںسے واپس اپنے نانیال خرتنگ تشریف لے گئے ، خرتنگ ایک قریہ ہے جوسمرقند سے دس میل کے فاصلے پر واقع ہے،وہاں امام بخاریؒقیام پذیر ہوئے، وہاں رمضان المبارک کا پورا مہینہ گذارا،امام بخاری ؒسمرقند جارہے تھے کہ راستہ میں ہی پیامِ اجل آگیااورسن  ۲۵۶ھ  باسٹھ سال کی عمر(باسٹھ سال مکمل ہونے کے لیے تیرہ دن باقی تھے) میں ہفتہ اورعیدالفطر کی رات نمازعشاء کے وقت امیرالمؤمنین فی الحدیث امام بخاریؒ کی وفات ہوئی اورہفتہ کے دن نماز ظہر کے بعد خرتنگ    میں تدفین ہو ئی ۔وللہ در من قال ھذاالشعر۔۔۔

میلادہ صدق ومدۃ عمرہ فیھاحمید وانقضی فی نور

اس شعر میں لفظِ صدق سے امام بخاریؒ کی ولادت کاقمری سال۱۹۶ھ ، لفظِ حمیدسے عمر۶۲سال اورلفظِ نورسے سن وفات ۲۵۶ھ مستخرج ہوتا ہے۔ 
امام بخاریؒنے محدث کامل بننے اورحدیث کومکمل حاصل کرنےکاصحیح طریقہ دل کش اوردل چسپ اندازمیں ذکر فرمایا،اس واقعہ کوقاضی عیاض رحمہ اللہ(متوفی ۵۴۴ھ)نےاپنی کتاب’’ الإلماع إلى معرفة أصول الرواية وتقييد السماع میںمکمل ذکر کیا،اسی کے حوالے سے علامہ عراقی ؍ؒ(متوفی ۸۰۶ھ)علامہ قسطلانیؒ ؍(۹۲۳ھ)اورعلامہ سیوطی؍ؒ(۹۱۱ھ)نےاپنی اپنی کتب میں’’المستخرج علی المستدرک  امالی العراقی، ارشاد الساری لشرح  صحیح  البخاری، تدریب الراوی‘‘ وغیرہ میں مفصلاً تحریر فرمایاہے،عہد قریب کی مقبول شخصیات میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’اوجزالمسالک شرح مؤطاامام مالک‘‘ میں طلبہ ٔ حدیث کے آداب کی فصل کو اس واقعہ پرختم فرمایاہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ابوالمظفرمحمدبن احمدؒفرماتے ہیںکہ جب ابوالعباس ولیدابن ابراہیمؒکوشہر’’رَی‘‘کی قضاسے معزول کیاگیاتووہ اپنے اور ابولفضل بلعمیؒکی مودت اورتعلق کو تازہ کرنے کے لئے شہربخارا میں ۳۱۸ ؁ھ میں قیام فرما ہوئے اور ہمارے پڑوس میں رہتے تھے،مجھے میرے معلم ابوابراہیم اسحاق ابن ابراہیم ختلیؒ ان (ابوالعباس ولید ابن ابراہیم)کے پاس لے گئے اورمیرے استاذ اسحاق ؒنے ولید ابن ابراہیمؒ سے درخواست کی کہ اس بچہ کو آپ اپنے مشائخ سے سنی ہوئی حدیثیں یاددلائیںتوولید ابن ابراہیمؒ نے فرمایاکہ مجھے کہاں سماعِ حدیث حاصل ہے ؟اسحاق ابن ابراہیمؒ نے عرض کیا: کیوں نہیں آپ تو فقیہ ہیں۔

ولیدابن ابراہیمؒ نے فرمایاکہ جب میں نوجوانوں کی عمر کوپہنچا،تومجھے حدیثوں کو سننے، جاننے،یاد کرنے،اور روایت کرنے کاشوق دامن گیر ہوا۔اسی لئے میں نے امام بخاری ؒکے پاس پہنچا اور اپنی مرادبتائی اورامام بخاریؒ سے حدیثیں سننا چاہا،اس بارے میں ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا چاہا تو امام بخاریؒنے فرمایا کہ اے پیارے بیٹے! تم کسی کام میں شامل نہ ہو جب تک کہ اس امر کے حدود کی معرفت نہ ہوجائے اور اس کے مراتب اوردرجات سے واقفیت نہ ہوجائے ،تومیں نے عرض کیا اچھا! جس کامیں نے ارادہ کیا اس کے حدودسے مجھے واقف کرائیے اورحدیث سننے کی میں نے آپ سے درخواست کی اس بارے میںضروری باتوں سے مجھے آگاہ فرمائیے ۔ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے ۔اس کے جواب میں امام بخاری ؒنے علم حدیث کو حاصل کرنے کاطریقہ دل نشین اندازمیں بیان فرمایا۔۔۔

فقال لی :اعلم ان الرجل لایصیر محدثاکاملافی حدیثہ الابعد ان یکتب اربعامع اربع ،کاربع مع اربع ، مثل اربع فی اربع عند اربع باربع ،علی اربع عن اربع لاربع ،وکل ھذہ الرباعیات لاتتم الاباربع مع اربع ،فاذاتمت لہ کلھا ھان علیہ اربع وابتلی باربع ، فاذاصبر علی ذلک اکرمہ اللہ تعالی فی الدنیا باربع واثابہ فی الآخرۃ باربع .

جان لیجئے کہ یقیناً آدمی محدث کامل اسی وقت بنتاہےجب کہ وہ چارچیزوں کوچار کے ساتھ لکھے،جیساکہ چار کے ساتھ اورچارکو لکھتاہے،چارمیں چارکے مانند،چارکےپاس چارکے ذریعے، چارپر،چارسے،چارکےلئے۔مذکورہ دس قسم کے رباعیات دیگرچار کے ساتھ چارکے ذریعے سے ہی مکمل ہوتے ہیں لہٰذاجب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تواس پر اورچار آسان ہوجاتے ہیں اورچارمیں وہ مبتلاکیاجاتا ہے ،جب انسان ان کوبرداشت کرلے تواللہ تعالی دنیا میں چار اعزازات سے اکرام فرمائے گااورآخرت میںچار نعمتیں عطا فرمائے گا۔
پھرمیں نے عرض کیاان رباعیات کی تسلی بخش شافی وکافی تفسیر وتوضیح بھی فرمادیں تاکہ سمجھنے میں سہولت ہوجائے،امام بخاری ؒ نےمیری اس گذارش کو منظور کرتے ہوئے فرمایاکہ جو چار باتیں سب سے پہلے یادکرنااورلکھنا چاہئے ،وہ چار یہ ہیں ۔۔۔

۱

؍۱ )اخبارالرسول صلی اللہ علیہ وسلم؍ ۲) اخبار الصحابۃ ؍ ۳)  اخبارالتابعین؍۴)    احوال الرجال والرواۃ 

رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ،صحابہ کرام ؓکےاقوال وروایات،تابعین کے اقوال وآثار،محدثین کے احوال اورحدیثوں کے رواۃ کی 
تاریخ لکھنااوریادکرنا۔

اس کے ساتھ مزیدچارباتیں یادرکھناچاہئے۔۔۔

؍۱)اسماء الرجال ؍۲)وکناھم ؍۳)وامکنتھم ؍۴)  وازمنتھم

۲

یعنی محدثین اورحدیثوں کے رواۃ کے نام،کنیتیں،ان کے جائے سکونت،ان کے شہروں اوران کے زمانےسے یادرکھنا۔

جیساکہ چارباتیں مزید چار کے ساتھ یادرکھناہے۔۔۔

۳

؍۱) التحمید مع الخطب؍۲)والدعاء مع التوسل؍۳)والبسملۃ مع السورۃ ؍۴) والتکبیر مع الصلوات

یعنی خطبوں میں حمد وصلاۃ کااہتمام ، توسل کے ساتھ دعا مانگنا ،سورۃ کے ساتھ بسم اللہ پڑھنا ، نمازوںمیں تکبیرکااہتمام کرنا ۔

احادیث کی جملہ اقسام سے واقفیت ہونی چاہئے ۔۔۔

۴

؍۱)نقل المسندات؍۲)والمرسلات؍۳)والموقوفات؍۴)وا لمقطوعات

مسند اورمتصل السند روایات یاد کرنے اورنقل کرنے کااہتمام کرنااسی طرح مرسل موقوف ا ور مقطوع روایات بھی یاد کرنالازمی ہے ۔

حدیث کاعلم کس عمر میں حاصل کرناچاہئے ۔۔۔

۵

؍۱)یکتب العلم فی صغرہ؍۲)وفی ادراکہ؍۳)وفی شبابہ؍۴) وفی کہولتہ

علم حدیث ان چارزمانوں(بچپن میں،بالغ ہونے کے زمانےمیں ،عین جوانی میں ، اپنی ادھیڑعمراور بڑھاپے)میں علم حدیث 
حاصل کرنے،یاد کرنےاورلکھنے کااہتمام کرناچاہئے۔ 

علم حدیث کس وقت حاصل کرناچاہئے۔۔۔

۶

؍۱)عند فراغہ؍ ۲)وعندشغلہ؍۳)وعندفقرہ؍۴ ) وعندغناہ

فارغ اوقات میں،مشغولیت میں،فقروفاقہ میں،تونگری وفراوانی میں تحصیلِ علم کی کوشش میں لگے رہناچاہئے ۔غرض ہرحالت میں علم کی دُھن غالب ہونی چاہئے۔

کس مقام پر حدیث حاصل کریں ۔۔۔

۷

؍۱)بالجبال؍۲)والبحار؍۳)والبلدان؍۴) والبراری

علم حاصل کرنے میں خواہ پہاڑوں، سمندروں،شہروںاورقریوں،خشکیوں اور جنگلوں کا سفر کرناپڑے ،اس سے بھی گریزنہیں کرناچاہئے۔

حدیث کس چیزپر لکھ کر محفوظ کریں۔۔۔

 

۸

؍۱)علی الاحجار؍۲)والاخزاف؍۳)والجلود؍۴) والاکتاف

علم حاصل کرتے وقت جو چیز میسرہو،جیسے پتھرٹھیکرےچمڑے اورشانےکی ہڈیاں ان کواپنا کاغذ بنالے او ر لکھتارہے۔اس کے بعد جب کاغذ میسر ہوجائے تب کاغذ پر منتقل کرلیاجائے ۔کتابت حدیث کااتناشوق ہوناچاہئے کہ حدیث لکھنے کے لئے کاغذ کے ملنے کاانتظارنہ کیاجائے کہ کاغذ جب ملے گاتب لکھیں گے، یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی کاغذ کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، لیکن آج کے دورمیں تو کاغذکی بھرمار ہے مزید برآں احادیث کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کے دیگرذرائع واسباب (کمپیوٹر فون وغیرہ) بھی ہیں ان کے ذریعے حدیث تک رسائی سہل الحصول ہے۔

علم حدیث کن افراد سے حاصل کریں۔۔۔

۹

؍۱)عمن ھوفوقہ؍۲)عمن ھومثلہ؍۳)عمن ھودونہ؍۴) عن کتاب ابیہ یتیقن انہ بخط ابیہ دون غیرہ

علم ہرایک سے حاصل کرے ۔اپنے بڑوں،اپنے برابروالوں اوراپنے چھوٹوںسے بھی نیزاپنے والد کی کاپی سے بھی جب کہ اس بات کایقین ہو کہ وہ اپنے والد کی تحریر ہی ہے،دوسرے کی نہیں ۔

علم حدیث حاصل کرنے کا مقصد کیاہوناچاہئے ۔۔۔

 

۱۰

؍۱)لوجہ اللہ طلبالمرضاتہ؍۲)والعمل بھاوافق کتاب اللہ منھا ؍۳) و نشرھا بین طالبیھاومحبیھا؍۴) والتالیف فی احیاء ذکرہ بعدہ

علم حاصل کرنے کے چارمقاصدہونے چاہئے۔اللہ عزوجل کی مرضی کے لئے، احادیث  میں سے جو کتابِ الٰہی اورسنت نبوی کے موافق ہو،اس پرعمل کرنے کے لئے ، طلبہ اورچاہنے والوں کے درمیان علم حدیث پھیلانے کے لئے اورتصنیف وتالیف کا اہتمام کرنے کے لئے تاکہ اس کے بعد اس کاذکرخیرہوتارہے ۔

مذکورہ بالادس رباعیات کے حصول کے لئے کن چارفنون کی اشدضرورت پڑتی ہے۔

۱

؍۱)معرفۃ الکتابۃ؍۲)واللغۃ؍۳)والصرف؍۴) والنحو

مذکورہ بالا دس رباعی چار فنون کے حصول کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی اوروہ چارفنون یہ ہیں: لکھنے کی صلاحیت پیداکرنا، علم لغت، علم صرف اورعلم نحو سے واقفیت رکھنا ضروری ہے۔ 
جب بندۂ خدامذکورہ بالااشیاء کے حصول میں منہمک ہوجاتاہے تواللہ تعالی اسے چار چیزیں عنایت فرماتا ہے ۔ 

۲

؍۱)القدرۃ؍۲)الصحۃ؍۳)الحرص؍۴) الحفظ

اللہ تعالی کی طرف سے حصولِ علم پر قدرت ہوتی ہے ، صحت وعافیت نصیب ہوتی ہے ، حصولِ علم کا شوق وحرص اور احادیث کو یادرکھنے میں خداکی مدد نصیب ہوتی ہے۔

جب اوپرذکرکی گئی چیزوں کااستعمال صحیح کیاجاتاہے تواللہ تعالی اپنی طرف سے مزید چار نعمتیں اورسہولتیں عطافرماتاہے۔

۳

؍۱) الاھل؍ ۲)المال؍۳)الولد؍۴) الوطن

جب آدمی علمی کمال حاصل کرلیتاہے توشادی آسان ہوجاتی ہے ، مال ورزق بھی من جانب اللہ آسانی سے مہیا ہوتاہے ، اولاد کاسلسلہ بھی آسان کردیتاہے، وطن اورسکونت بھی اس کے لئے سہل ہوجاتی ہے ، جہاں چاہے وہاں رہنا آسا ن ہوجاتاہے ،اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔
جب مذکورہ بالااشیا ء حاصل ہوجائیں تو کن مصیبتوں کاانسان سامناکرناپڑتاہے۔

۴

؍۱) ابتلی بشماتۃ الاعداء ؍۲) ملامۃ الاصدقاء ؍۳) طعن الجھلاء؍ ۴) حسدالعلماء

دشمنوں کی شماتت اورہنسی میں،دوستوںکی ملامت میں،جاہلوں کے طعن وتشنیع میں اور علماء کے حسد میں آزمایاجاتاہے۔
جب ان پرصبرکیاجائے تواللہ تعالی انسان کو دنیامیں کن انعامات سے نوازیں گے۔

۵

؍۱) بعزالقناعۃ؍ ۲) بھیبۃ النفس ؍۳) بلذۃ العلم؍ ۴) بحیاۃ الابد

جب تحصیلِ علم میں مذکورچاروںپریشانیوں کوبرداشت کریں گےتواللہ تعالی دنیامیںچار نعمتیںعنایت فرمائیں گے:قناعت کی عزت سے سرفراز کیاجائے گا،لوگوں کے دلوں میں اس کی ہیبت اوررعب ڈالاجائے گا،علم کی لذت سے سرفراز کیاجائے گا اورہمیشہ کی زندگی عطاہوگی کہ مرنے کے بعد بھی نام زندہ رہے گا۔
اللہ تعالی آخرت میںکن چارانعامات سے نوازا جائے گا۔

۶

؍۱)بالشفاعۃ لمن اراد من اخوانہ؍۲) بظل العرش یوم لاظل الا ظلہ؍ ۳) یسقی من اراد من حوض نبیہ ﷺ ؍۴) بمجاورۃ النبیین فی اعلی علیین فی الجنۃ

جوآخرت میں چارقسم کی نعمتیں ملیں گی:اپنے مومن بھائیوں میں سے جس کو چاہے گا اس کوسفارش کرنے کااعزاز ملے گا،قیامت کے دن جب کہ اللہ کےعرش کےسایے کے علاوہ کسی شئی کاسایہ نہیں ہوگا،عرش کے سایے کااعزاز دیاجائے گا،جس کو چاہے گا اپنے نبی اکرم ﷺکے حوض کوثر سےپلانے کااعزازملے گااورجنت کے اعلی درجوں میں انبیائے کرام ؊ کے ساتھ رہنے کا اعزاز ملے گا۔ مذکوربالا روایت کے اصل الفاظ ان دو کتابوں میں مسطور ہیں۔ 
؍۱) الالماع الی معرفۃ اصول الروایۃ وتقیید السماع -ج۱ ص ۳۴؍۱۔  ؍۲)اوجز المسالک شرح موطااامام مالک -ج۱ ص ۲۴۰

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا