مضامین سلسبیل

قال الله تعالى : يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتو العلم درجت ، والله بما تعملون خبير
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : العلماء ورثة الأنبياء.

اللہ رحمن و رحیم کا امت محمدیہ پر یہ احسان عظیم ہے کہ وہ روئے زمین پر ہر زمانہ میں ایک بلند پایہ صفات و جامع کمالات ہستیوں کو پیدا کرتا ہے، جن کی پوری زندگی عالم اسلام کے لئے ایک مثالی نمونہ ثابت ہوتی ہے، جو اپنی خدادادعلمی وعملی صلاحیتوں اور اپنے مجددانہ کارناموں سے عالم اسلام کی عمدہ خدمات اور پوری انسانیت کی رہبری کا عظیم فریضہ انجام دیتی ہیں۔

استاذی المحترم ومربی المعظم و مرشدی المکرم استاذ الاساتذہ، رئیس العلماء ، شیخ طریقت ، امیرِ شریعت ،  حضرت علامہ الشاہ الامام ابوالسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ستودہ صفات بھی بیسویں صدی کی ایک ایسی ہی بے مثال اور نابغہ روزگار شخصیت تھی ۔ جس میں قدرت نے متعددصفات حسنہ ومتنوع کمالات عظیمہ ودیعت فرمائے تھے۔

 

اوصاف و کمالات
آپ علوم ظاہری و باطنی کے جید عالم، علوم دینیہ کے شفیق مدرس و معلم، بے نظیر مہتمم و منتظم، کلام اللہ کے بے مثال قاری و مقری، نیک نفس مرشد ومربی، فاضل مصنف ومؤلف ، موثر واعظ و خطیب ، سراپا خلوص وللہیت ،مجسم جودوسخاوت، حامیِ رشد وہدایت ، ماحیِ کفروضلالت ،صاحبِ دعوت و عزیمت، قاطع بدعت ظلمت ، نہایت متواضع وحلیم الطبع، سلیم الفکر و متعدل المزاج ، سادگی و بے تکلفی کے پیکر، عالی ظرف و وسیع النظر دوراندیش وبیدار مغز، قناعت پسند و کفایت شعار، اخلاص و وفا شعاری کے خوگر ،ریا و شہرت سے بیزار،تہجد گزار و شب بیدار،احکامات الٰہیہ کے کامل اطاعت گزار، تعلیماتِ نبویہ کے قدرداں و فداکار، سلف صالحین کی عمدہ ترین یادگار، مدارس دینیہ کے ہمدردورفیق کار، امتِ محمدیہ کے فکر مند و خوار، عالم اسلام کے خیر خواہ و غمگسار ، مردم گر و مردم ساز، دعوت وتبلیغ کے روح رواں ، سالارقا فلہ و میر کارواں، بے شمار دینی ملی سماجی اصلاحی اور فلاحی تحریکوں تنظیموں اور جماعتوں کے قائد و سرپرست ، آپ کی ہمہ گیر اور آفاقی شخصیت کا ہر پہلواتنامکمل و متوازن اور دلفریب و پرکشش ہے کہ آپ کے محاسن وخدمات پر روشنی ڈالنے والاکشمکش میں پڑ جاتا ہے کہ وہ اپنے قلم سے کس کس پہلو پر روشنی ڈالے۔

ز فرق تا بہ قدم ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامن دل می کشد کی جا اینجا است

آخر وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے:”دامانِ نگہ تنگ گل حسن تو بسیار‘‘۔
ان تاثرات و اعترافات میں قطعاً مبالغہ نہیں بلکہ ایسے احساسات و جذبات کی عکاسی کرنے والے سینکڑوں طلبہ ومعتقدین میں ایک راقم الحروف بھی ہے۔ جس نے اپنی طالب علمی اور تدریسی خدمت پر مشتمل ایک معتد بہ عرصہ آپ کی رحمت و شفقت کے زیر سایہ گذارا اور شب وروز آپ کی مصروفیات کا مشاہدہ کیا۔

غیرت ایمانی اور خدمات کا آغاز

ملک کی معروف دینی درس گاہ مدرسہ باقیات صالحات ویلور کے مایہ ناز اساتذہ سے مختلف علوم وفنون میں کمال پیدا کر کے آپ فارغ ہوئے ہی تھے کہ مختلف دینی تنظیموں ، سرکاری عصری تعلیم گاہوں اور دینی ادارے والوں نے اونچے عہدوں اور منصبوں کے لئے بڑی تنخواہوں پر آپ کو اصرار کے ساتھ دعوت دی مگر آپ کی غیرت ایمانی وحمیت دینی نے اس کی اجازت نہیں دی، چنانچہ اہل میل و شارم (نارتھ آرکا ٹ ،تمل ناڈو) کی دعوت پر وہاں اسلامیہ ہائی اسکول میں دینیات کے ایک مدرس کی حیثیت سے آپ نے خدمت کا آغاز فرمایا اور ان اسکولی طلبہ کی تعلیم وتربیت میں خوب محنت کی ، ان میںصحیح اسلامی عقائد پیدا کیے اور دینی شعور کو بیدار فرمایا۔ آپ کی محنت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان طلبہ کو اسلامی احکامات سے روشناس کرانے کے لئے آپ نے بالکل آسان اور سہل انداز میں ’’احکام اسلامی‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی۔

آپ نے جب بچوں میں تلاوت کے آداب و اصول کی بے اعتدالیاں دیکھیں تو تجوید القرآن نامی مختصر مگر جامع و سہل کتاب مرتب فرمائی،جو قرأت حفصؒ کے لئے متن کا درجہ رکھتی ہے اور آپ نے مکتبوں میں پڑھنے والے معصوم بچوں کی طرف خصوصی نظر کرم فرمائی تو’’باب القرآن‘‘ اور’’ خصوصی دعائیں اور مقبول وظائف‘‘ منظر عام پر آئیں، باب القرآن کی بدولت ہزاروں بچے بآسانی قرآن پڑھنے والے ہو گئے،’’مخصوص دعائیں اور مقبول وظائف‘‘ سے بچے اور بڑے سب خوب استفادہ کر رہے ہیں، آپ کی تصانیف اہل علم کو بے حد پسند آئیں اور وہ کئی مدارس ومکاتب میں داخل نصاب ہیں۔

تبلیغی سرگرمیاں
قیام میں وشارم کے دوران جب آپ کو ایمان سے دور غیرمسلم بھائیوں کی عاقبت کا غم ستانے لگا تو آپ بے محابا آس پاس کی غیر مسلم آبادی کی طرف نکل پڑے، ان کے گلی کوچوں میں غیر مسلم مردوں ، عورتوں کو الگ الگ بٹھا کر اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ کئی دنوں کی کوشش پیہم کے بعد ایک آدمی مسلمان ہوا، پھر دھیرے دھیرے اللہ کے فضل و کرم سے پانچ سو سے زائد افراد نے آپ کے دست حق پرست پر ایمان قبول کیا، ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آپ نے ایک انجمن ’’انجمن تبلیغ اسلام ‘‘کے نام سے قائم فرمائی، جس کے تحت ان نومسلموں کی دیکھ بھال تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جاتا تھا۔

خود حضرت اقدس علیہ الرحمہ بطور ترغیب و تحدیث بالنعمہ اکثر اس کا تذکرہ فرماتے تھے، مذکورہ تعداد کے علاوہ اور بہت سوں نے مختلف موقعوں پر آپ کے دست با برکت پر اسلام قبول کیا۔

جب مسلمان بھائیوں کی بے دینی و بے راہ روی نے آپ کو بے قرار کیا تو حضرت جی مولانامحمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحریکِ دعوت و تبلیغ سے منسلک ہو کر آپ نے دور دراز علاقوں کے کئی تبلیغی اسفار فرمائے اور کئی تبلیغی اجتماعات کی سرپرستی بھی فرماتے رہے اور اپنے دلِ مضطر کی تسکین کا سامان فرمایا نیز تادمِ زیست اس تحریک دعوت وتبلیغ کے عاشق رہے۔


مدرسہ االباقیات الصالحات کا اہتمام

میل وشارم میں سترہ برس کی خدمات جلیلہ کے بعد مادرِ علمی مدرسہ باقیات صالحات کے ذمہ داروں کے اصرار پر آپ نے اہل وشارم کو مجبوراً خیر باد کہا اور مادرِعلمی میں ۱۹۵۲ء تا۱۹۶۰ء آٹھ سال اہتمام کی نازک ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دیا ، نتیجۃً آپ کے دورِ اہتمام میں مدرسہ باقیات صالحات نے ہر اعتبار سے ترقی پائی اور طلبہ کی تعداد میں صد فیصد اضافہ ہوا لیکن دعوت تبلیغ کی عالمی محنت سے آپ کی شدید وابستگی کی وجہ سے جومخالفانہ فضا قائم ہوئی، اس سے دل برداشتہ ہو کر آپ باقیات صالحات کے اہتمام سے مستعفی ہو گئے۔

دارالعلوم سبیل الرشاد کا قیام

اس دور میں ریاست کرناٹک میں کوئی قابل ذکر دینی مدرسہ نہیں تھا، کچھ اہل دل اورپرہیز گاروں کے سوا اکثریت بے دینی و بےعلمی اور مادہ پرستی کے ماحول میں زندگی بسر کر رہی تھی تو آپ نے بعدِ استخارہ ریاست کرناٹک کے مرکزی شہر بنگلور کا قصد فرمایا ، آپ نے کیا قصد فرمایا! درحقیقت اس خطۂ تاریک کو آپ کے علم و عرفان کے نور سے روشن کرانا قدرت کو منظور تھا، چنانچہ شہر بنگلور میں آپ نے بتاریخ ۲۲ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ م۱۴؍اکتوبر۱۹۶۰ء دار العلوم سبیل الرشاد کی بنیادرکھی۔ آپ کے تقوی وطہارت ، خلوص وللہیت ، توکل واعتماد فکر مندی و دلسوزی ہی کانتیجہ تھاکہ دارالعلوم دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا گیا، دنیا کے شرق وغرب ،شمال و جنوب سے کشاں کشاں تشنگان علم آ کر جمع ہوتے گئے اور آپ نے پختہ عزم و حوصلہ اورعمل پیہم سے اس بے نور وخاردارجنگل کو پرنورسبزہ زار چمنستان میں تبدیل کرنے کے لئے جومحنتیں اورمشقتیں جھیلی ہیں،ان کا تصوربھی ہم جیسوں سے ناممکن ہے ، آپ نے دارالعلوم کے واسطے سے خدمات کے جوانمٹ نقوش چھوڑے ہیں، وہ انشاء اللہ رہتی دنیا تک ہرایک کو دعوت فکر وعمل دیتے رہیں گے۔

عملی تربیت و قابل رشک مصروفیات

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو والہانہ شق تھا، جس کا نتیجہ تھا کہ آپ نے تعلیم وتربیت کے طریق کار کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا آفاقی اسوہ اپنایا یعنی اپنے کردار و گفتار اور قول وعمل سے تربیت فرمائی اور دینی اداروں کے سربراہوں اور ذمہ داروں کے لئے قابل تقلید مثالیں قائم فرمائیں۔

آپ نے بحیثیت مربی اپنے علم فضل، جہد و عمل، طرزوفکر اور وضع قطع سے خود کو سچا عاشق رسولؐ بنا کر پیش کیا، آپ کا ظاہر باطنی پاکیزگی اور نفاست طبع کا آئینہ دار تھا،چہرہ پرگھنی ڈاڑھی ، لباس عین مشابہ سنت ، ہمیشہ سر پر دیدہ زیب عمامہ، بدن پر سفید پاک وصاف قمیص، جو اوپر سے نصف ساق تک یکساں سلی ہوئی ، آستین لمبی کہ جن میں ہتھیلیاں چھپی رہیں ٹخنوں سے اوپر پاجامہ یا تہمد، آپ کو دیکھتے ہی اسوۂ نبوی کی یاد تازہ ہو جاتی۔

اخیر عمر میں بغیر وہیل چیئر کے چلنا پھرنا مشکل تھا، اور اٹھنا بیٹھنا مجاہد ہ سے کم نہیں تھا، اسی ضعف ونقاہت کے عالم میں نہ صرف مسجد پہنچ کرپنج وقتہ فرض نمازیں باجماعت کھڑے ہو کر ادا فرماتے بلکہ تہجد واشراق، چاشت و اوابین و دیگر نوافل کی بھی سختی سے پابندی کرتے، اکثر بعد نماز فجر اورکبھی کبھی بعد نماز عصر طلبہ کونصیحت فرماتے اور بعد نماز عصر تا مغرب مسجد ہی میں اذ کار و تلاوت کلام پاک میں مشغول رہتے ۔ دن بھر دارالعلوم کی تدریسی وانتظامی ذمہ داریوں کو انجام دیتے ہوئے روزانہ خدمت میں حاضری دینے والے بےشمار متعلقین و متوسلین وسالکین اور مسافروںضرورتمندوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ مسکراتے ہوئے ملتے اور ان کی تسلی کا سامان فرماتے، نیز ہردن قرآن مجید کے دس پاروں کی تلاوت بھی فرمالیتے۔ اللہ اکبر! باوجودضعف و تکان اور مصروفیات کے ہجوم کے دینی وملی اسفار بھی پورے انشراح و انبساط کے ساتھ فرماتے۔

نئے سفر کے لئے پھر بھی ہیں کمر بستہ
اگر چہ پچھلے سفر کی تکان باقی ہے

دوران سفر ہر دن پندرہ پاروں کی تلاوت فرما لیتے ۔اللہ اکبر کبیرا! یہ اور اس قسم کی نہ جانے کتنی مصروفیات انہی کیفیات میں انجام پاتیں، جو ہم خوردوں کے لئے قابل رشک ہی نہیں حیرت ناک بھی تھیں، ان کی تفصیلات کو دیکھنے اور سننے والا بلا شبہ ان کو ایک زندہ کرامت یا قوت ایمانی کے کرشمے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔

قولی تربیت اور پدرانہ سلوک

جہاں آپ نے اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں خود کو ڈھال کر سچا عاشق رسول ثابت کر دکھایا وہیں آپ نے مخلصانہ و خیر خواہانہ انداز میں وقتاً فوقتاً اپنے جامع پند ونصائح سے طلبہ کے عقائد واعمال کو درست فرمایا۔ عبادات و طاعات کی رغبت دلائی، سیئات ومنکرات سے نفرت پیدا فرمائی ۔ دعوت وتبلیغ کا شوق دلایا اور خصوصیت سے امت کی اجتماعیت و شیرازہ بندی کا گُر بھی سکھایا جو دار العلوم سبیل الرشاد کی امتیازی شان ہے یعنی فروعی و اختلافی مسائل میں الجھے بغیر امت کی اصلاحی وتعمیری ترقی میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ، نیز جہاں آپ نے مختلف مجلسوں میں طلبہ کو دین کے اعلی رموز ومعارف سے روشناس کرایا، وہیں آپ نے آداب زندگی وطرزِ معاشرت سےمتعلق چھوٹی اور معمولی باتوں کی طرف بھی ایسے مربیانہ ومشفقانہ طرز میں توجہ دلائی ، جیسے ایک شفیق باپ اپنے بچوں کی تربیت میں معمولی باتوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔ اسی پدرانہ سلوک سے متاثر ہو کر طلبہ یہ کہنے پرمجبور ہو گئے کہ بڑے حضرت ہمارے حقیقی باپ سے کم نہیں ہیں۔

ادنیٰ راقم السطور بھی اور طلبہ کی طرح اس جذبہ دروں کا کئی ایک بار اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکا ، چنانچہ دور طالب علمی کا وہ دن تو اچھی طرح یاد ہے کہ بعد نماز اشراق طلبہ سے حضرت والا کی پراثر نصیحت کے بعد مسجد تحتانی سے باہر نکلتے ہوئے ایک ہمعصر رفیق مولوی محمد عبداللہ رشادی پلے پٹی نے کہا کہ واقعی ہمارے بڑے حضرت ماں باپ کی طرح ہماری ہر ایک بات کا خیال رکھتے ہیں تو سنتے ہی احقر بھی تعجب سے کہا کہ ہاں بعینہ یہی بات میرے دل میں بھی آئی اور میں بھی یہی کہنے والا تھا۔

آپ کی شفقت و قبولیت دعا کا واقعہ
۱۴۱۴ھ ،۸ شوال کی بات ہے، احقر کا بحیثیت مدرس آپ نے تقررفرما کر احسان عظیم فرمایا تقرر اس طرح ہوا کہ دارالعلوم سبیل الرشاد کی تحتانی مسجد میں بعد نماز عصر آپ حسب معمول تلاوت کلام پاک میں مشغول تھے ، احقر حاضر خدمت ہو کر سلام عرض کر کے قریب ہو کر بیٹھا تو آپ نے دیکھ کر سلام کا جواب دیتے ہوئے قرآن پاک بند کیا تو احقر مصافحہ کا شرف پایا، خیریت دریافت فرمانے کے بعد فرمایا ہمارے یہاں مدرس کی ضرورت تھی ، اس لئے میں نے آپ کو بلوایا‘‘ کیا آپ آمادہ ہیں ؟ احقر نے فوراً عرض کیا ’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر‘‘ آپ نے مسکرا کر مبارکباد دیتے ہوئے پوچھا ’’آپ کے اسباب کہاں ہیں؟‘‘ بندے نے کہا”سب گھر پر ہیں‘‘ تو فرمایا ’’ وطن جا کر اپنا ساز و سامان لےکر آجاؤ‘‘۔ بندہ دعا کی درخواست کرتے ہوئے مصافحہ کر کے مسجد سے باہر نکل آیا، حضرت مفتی صاحب رحمۃ الله علیہ نوٹس بورڈ کے پاس انتظار میں کھڑے ہوئے تھے، اس لئے کہ مفتی صاحب رحمہ اللہ نے ہی بڑے حضرت کے پاس بھیجا تھا ،مفتی صاحب نے پوچھا’’حضرت نے کیافرمایا، آپ نے کیا جواب دیا‘‘ تفصیل سن کر مفتی صاحب رحمہ اللہ نے مصافحہ کرتے ہوئے فرمایا’’ مبارک باشد صد مبارک‘‘۔
 
الغرض تقرری کے بعد بندہ کوگھبراہٹ شروع ہوگئی ، بندہ اپنی علمی بے بضاعتی اور قابل قدر اساتذہ کرام کی جگہ بیٹھ کر درس دینے کا تصور کرتا تو جسم کپکپاجاتا، پسینے چھوٹ جاتے ، وقت کے ساتھ ساتھ گھبراہٹ اور بے چینی بڑھتی گئی تو احقر نے اپنے رفیق خاص مولانا احمد معاذ رحمۃ اللہ علیہ (مولانا کا بھی اسی سال تقرر ہوا تھا) سے تذکرہ کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ بڑے حضرت سے دعا کی درخواست کرو تسلی ہو جائے گی،چنانچہ دوسرے دن بعد نماز عصر گذشتہ دن ہی کی طرح مسجد تحتانی میں بڑے حضرت قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھے، احقر نے حاضر ہو کر سلام کرنے پر سلام کا جواب دیا، کلام پاک بند کرتے ہوئے فرمایا کیا ہے مولوی صاحب ؟ بندہ نے عرض کیا کہ حضرت ہمت نہیں ہورہی ہے، بہت بیقراری اور بے چینی ہے، سن کر حضرت تھوڑی دیر دعائیں پڑھتے رہے۔ پھر اشارہ سے اپنے قریب بلایا، گریبان کھولنے کا اشارہ فرمایا، احقر اپنا گریبان کھول کر قریب ہوا، تو حضرت نے گر بیان کے اندر دو تین دفعہ پھونکا اور دو تین دفعہ سینے پر اپنے دست مبارک سے قدرے زور سے مارااور فرمایا کہ اچھا جاؤ۔ 
دم کرکے آپ کا سینے پر مارنا ہی تھا کہ واللہ اسی آن اور اسی لمحہ حیرت انگیز طور پر ساری بے چینی، ساری گھبراہٹ ایک دم دور ہوگئی، بالکل اطمینان و سکون آ گیا اورمدرسے میں خدمت کا ایک نیا جوش و جذ بہ پیدا ہوگیا، احقر سمجھتا ہے کہ حضرت کی دعا کی برکت ہی ہے کہ مدرسے میں استقامت کے ساتھ الله تعالی خدمت لے رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تادمِ حیات مدرسے کی خدمت سے وابستہ رکھے ۔
 
مذکورہ واقعہ چونکہ بندہ کی ذات سے متعلق ہے ، اس لئے ذکر کرنے میں تکلف ہورہا تھا لیکن واقعہ میں فارغین کے ساتھ آپ کی انتہائی درجہ کی شفقت کا اظہار ہے، آپ کی دعا کی قبولیت کی زندہ مثال موجود ہے ، اس لئے چند مخلصین نے تحدیث بالنعمہ کے طور پور ذکر کرنے کی ترغیب دی ، اس لئے انتہائی معذرت کے ساتھ سپردِ تحریر کیا گیا۔
الغرض، زندگی کے مختلف مسائل پر مشتمل آپ کی لامحد ودنصیحتوں اور ہدایتوں کا سلسلہ بحرنا پیدا کنار سے کم نہیں ، پھر بھی بطور نمونہ آپ کی مجلسی ہد ایتوں کی ایک جھلک پیش خدمت ہے، جس سے مجلس کی پوری تاثیر نہ سہی چند ہدایتوں کا مرکزی مفہوم تو سامنے آجاتا ہے۔
آپ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کرتے۔۔۔
’’کتابوں کے کیڑےبن جاؤ، کیا تم نے کتابوں کے کیڑوں کو دیکھا ہے، بالکل چھوٹے ہوتے ہیں ، جو اپنی غذا کے لئے کتابوں میں سوراخ کر دیتے ہیں اور اس میں زندگی گزار دیتے ہیں، اسی طرح تم لوگ بھی دن ورات کتابوں کے مطالعہ کو اپنی غذا بنالو‘‘۔
فرمایا کرتے۔۔۔
’’اگر تم میں کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو پوچھنے پر اعتراف کرلو، اس لئے کہ جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے۔ حضورصلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذا كذب العبد تباعد عنه الملک میلا من نتن ما جاء به – جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو سے فرشتے اس سے ایک میل دور بھاگ جاتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ کیا سزا ملے گی ، مدرسہ سے نکال دیے جاو گے، تو کیا ہو گیا؟ دوسرے مدرسے میں پڑھ لومگر جھوٹ نہ بولو‘‘۔
’’پانی میں اسراف نہ کرو، نل سے وضو کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے نل کھولو اور دوسرے ہاتھ سے بقدر ضرورت پانی لے کر بند کر کے منھ ہاتھ دھوؤ تاکہ پانی ضائع نہ ہو اور میں بھی اسی طرح وضو کرتاہوں‘‘۔( اللہ اکبر کیسی کیسی نصیحتیں فرمائیں)
فرمایا کرتے۔۔۔
’’بیت الخلاء میں رفع حاجت سے پہلے ایک بار پانی بہا ؤاور فراغت کے بعد دوبارہ پانی بہاؤ تاکہ تمہارے بعد جانے والے کو تکلیف نہ ہو‘‘۔
مختصر یہ کہ آپ نے بیشمارا ایمان افروز تقریروں ، فکر انگیز خطبات اور روح پرور مواعظ سے ایسے جواہر پارے بکھیرے جو آپ کی زندگی کا ایک روشن باب ہیں، جس کے بیان کے لئے کئی دفاتر چاہئیں
سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے 
مخلصانہ کاوشوں کا ثمرہ
آپ کی مخلصانہ کاوشوں کا ثمرہ تھا کہ جس چمنستان کو اپنے خون جگر سے سر سبز و لالہ زار بنایا تھا،آخر اس علم وعرفان کے درختوں نے برگ و بار، پھل پھول دینے کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا، چنانچہ قیام دار العلوم سبیل الرشاد کے بعد صرف چھ سال کے قلیل عرصہ میں سات طلبہ کی پہلی جماعت زیورعلم وعمل سے آراستہ ہو کر فارغ ہوئی ، جن کی دستار بندی کا تاریخی جلسہ مورخہ۱۰؍شوال ۱۳۸۶ھ مطابق ۲۲ جنوری ۱۹۶۷ء بروزیکشنبہ بعد نماز ظہر دو بجے منعقد ہوا اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ ( مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے اپنے دست با برکت سے فارغین کی دستار بندی اور سند فراغت قسیم فرمائی اور اب تک ایسے ہزاروں رجال کار تیار ہو کر فارغ ہوئے جو دنیا کے گوشے گوشے میں علم و عرفاں، رشد و ہدایت کی روشنی پھیلا رہے ہیں، ان شاء اللہ یہ عظیم سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔
افتاء وقضاء امارت شرعیہ کے مناصب پر
آپ اہتمام کی ذمہ داریوں کے ساتھ تاحیات درس و تدریس کی خدمات بھی انجام دیتے رہے نیز افتاء و قضا کا بارِ گراں بھی سنبھالتے رہے اور ہزاروں پریشاں و سرگرداں افراد کوقرآن وسنت کی راہ بتاتے اور مسائل شریعت سے آگاہ کرتے رہے، راہ سلوک طے کرنے والے خلفاء ومرید ین آپ کی خدمت میں تشریف لاتے، جن کے قلوب کا تزکیہ فرماتے ،خود آپ حضرت تھانوی کے خلیفہ حضرت شیخ سعیداحمد کیرنوریؒ کے خلیفہ تھے، بحیثیت قاضی جب آپ قضا کے کٹھن منصب پر رونق افروز ہوئے اور خاندانی تنازعات میں پھنسے ہوئے لوگوں کو صحیح فیصلوں سے صرف یہ کہ مطمئن فرماتے رہے بلکہ اپنے تنازعات کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کرنے کا ذوق بھی پیدا فرماتے رہے۔
آپ کی ان عظیم خدمات کے پیش نظر ملت کے ارباب حل و عقد کے متفقہ فیصلے سے جب آپ بحیثیت امیر شریعت کرناٹک منتخب ہوئے تو دینی و دنیوی معاملات اور ہنگامی حالات میں خصوصاً ریاست کے مسلمانوں کی ایسی کامیاب اور مثالی رہنمائی فرمائی جوانشاء الله تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔
  مثالی باپ کی قابل فخر اولاد
آپ کی تربیت سے تمام اولاد کے اندر نیک اوصاف وعظیم کمالات بیش بہا عمدہ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں۔ دنیا ایسی اولاد پر رشک کی نگاہ ڈالتی ہے، آپ کے چاروں صاحبزادے (فرزند اول استاذی المحترم و مخدومی المکرم و مربی المعظم استاذ الاساتذہ، امیر شریعت کرناٹک ، حضرت مولانامفتی محمداشرف علی صاحب باقوی رحمہ الله علیہ، شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور۔ فرزند دوم محترم المقام و قابل احترام حضرت مولانامحمد ولی الله صاحب رشادی علیہ الرحمہ، شیخ الحدیث ومہتمم مدرسہ معدن العلوم وانمباڑی ، فرزند سوم استاذی المکرم مشفقی المحترم حضرت مولانا قاری محمد امداد اللہ صاحب رشادی نوراللہ مرقدہ،استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور ۔فرزند چہارم عزیز مکرم شفیق محترم حضرت مولانا محمدلطف اللہ صاحب رشادی رحمۃ اللہ علیہ، صدرالمدرسین مدرسہ الکلیۃ السعو دیہ وخطیب و امام مسجد قادر یہ بنگلور) حافظ قاری عالم اور فاضل ہیں ۔اسی طرح آپ کی تینوں صاحبزادیاں بھی نیک اور صالحہ ہیں ۔ ’’ ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘۔
بیشمار دینی وملی تنظیموں کے سربراہ
اسی جذبہ دینی حمیت دینی و غیرت اسلامی کی بنیاد پر لاتعداددینی وملی ، سماجی و اصلاحی تحریکوں تنظیموں اور جماعتوں نے آپ کو اپنا قائد و سرپرست بنا کر اپنا وقار بلند کیا، آپ مسلمانانِ ہند کا مایہ ناز متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر رہے اور آل انڈیا ملی کونسل کے سرپرست اعلی، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے رکن مجلس منتظمہ ، دار العلوم دیوبند کے رکن مجلس شوری ، دار العلوم تاج المساجد بھوپال کے رکن شوریٰ ، مدرسہ باقیات صالحات ویلور کے رکن مجلس تعلیمی اور جنوبی ہند کے بیشمار مدارس دینیہ و مکاتب قرآنیہ کے صدر مہتمم اور سر پرست اعلی رہے۔
درحقیقت اللہ تعالی اگر کسی کو افا دۂ خلق کے لئے چن لیتے ہیں تو اس کے دل میں مخلوق کی غیر معمولی شفقت ومحبت پیدا فرما دیتے ہیں، اسے امت کے ہر فرد کے ساتھ ایساتعلق خاطر ہو جا تا ہے کہ وہ شخص کے دکھ کو اپنا دکھ اور ہرشخص کی راحت کو اپنی راحت تصور کرتا ہے۔
مختصر یہ کہ اللہ نے آپ کو فیض رسانی کے لئے ہی منتخب اور موفق فرمایا تھا نیز اس پرآشوب دور میں آپ کا نفس وجود ہی امت کے لئے رحمتوں اور برکتوں کا باعث تھا، جس خطۂ تاریک پر آپ کی نگاہ کرم پڑی وہ بقعۂ نور بن گیا اور جو فردِ ناقص آپ کا مرکز نظر بنا وہ فر دِکامل بن گیا، انہیں عمدہ خوبیوں وبیش بہا کمالات اور بے انتہاء وسیع خدمات کی بناء پر اللہ نے آپ کو عوام و خواص میں مقبول ومحبوب بنایا اورلوگ نہایت عقیدت ومحبت کے ساتھ آپ کو ’’بڑے حضرت‘‘ کے نام سے یاد کرتے رہے۔ الغرض آپ اس دار فانی کو خیر باد کہتے ہوئے ۷؍شوال۱۴۱۶ھ م ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۶ء بعد ظہر اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔ انالله وانا الیہ راجعون
بیمار عشق لے کے ترا نام سوگیا
مدت کے بیقرار کو آرام آگیا

اللهم اغفره وارحمه واٰنس وحشته و اكرم نزله ووسع مدخله و نور ضريحه وتقبل من حسناته و تجاوز عن سيئاته و اجزه عنا وعن جميع امة محمد جزاء احسن الجزاء وبلغه الدرجات العلى من الجنة آمين۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا