مضامین سلسبیل

میں نے سر کار دوعالم ﷺ سے کچھ مانگا،آپ ؐ نے عطافرمایا پھر مانگا پھردیا پھر مانگاپھر عنایت فرمایا ، پھر ارشاد فرمایا: ’’اے حکیمؓ ! یہ مال بظا ہر (دل کو لبھانے والا )سرسبز وشیرین ہے لیکن جواستغناے قلب کے ساتھ حاصل کیا،اس میں برکت ہوتی ہے ، جس نے خواہش نفس کے ساتھ لیا اس میں برکت نہیں ہوتی اوروہ اس طرح ہے جوکھا ئے اور سیر نہ ہو، یادرکھو، اوپر کا (دینے والا )ہاتھ نیچے کے (لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے‘‘۔

نبی کریم ﷺ کے ایک مشہور اورجلیل القدر صحابی حضرت حکیم ابن حزام ؓکا اپنا واقعہ ہے جو اوپر نقل کیا گیا ہے اور کم وبیش انہی الفاظ کے ساتھ بیشتر حدیث کی کتابوں میںخودان کی زبانی منقول ہے ۔

حضور ﷺ کی یہ نصیحت حضرت حکیم ابن حزام ؓ کے دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوگئی انہوں نے عرض کیا’’ یا رسول اللہ ؐ !قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ؐ کوحق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ آئندہ نہ میں کبھی آپ ؐ سے کچھ مانگوں گااور نہ کسی اور سے کچھ لوں گا‘‘۔اس کے بعد انہوں نے اس عہد کو اس شدت کے ساتھ پوراکیا کہ تادم مرگ انہوں نے کسی سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کسی سے کچھ لیا، حضور ؐ کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓان کو وظیفہ دینے کےلئے بلاتے رہے مگر انہوں نے لینے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ سر براہ خلافت ہوئے تو انہوں نے بھی بار بار حضرت حکیمؓ کو عطیہ دینا چا ہا لیکن وہ برابر اس کے لینے سے انکا ر کرتے رہے آخر ایک دن حضرت عمرؓ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر (اظہار براءت کے لئے ) فرمایا: مسلمانو! گواہ رہنا کہ میں حکیم ؓ کو ان کا حق (وظیفہ ) دینے کے لئے بلاتاہوں مگر وہ قبول نہیں کرتے ۔؍(صحیح بخاری، حدیث:۱۴۷۲)

حضرت حکیم ؓ کا یہ واقعہ کب پیش آیا اور اس کا پس منظر کیا ہے پیش کرنے سے قبل آپ کے حالاتِ زندگی پرایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ واقعہ کو سمجھنے میں سہولت ہو۔

سلسلۂ نسب :حضرت حکیم بن حزام ؓکا نسبی سلسلہ عرب کے مشہور خاندان قریش سے جڑاہواہے اوراس کی ایک معززشاخ بنو اسد سے آپ کا تعلق ہے جو آپ کے جدامجد اسد ابن عبدالعزی کی طرف منسوب ہے، عشرہ مبشر ہ میں سے مشہور صحابی حضرت زبیر ابن عوام ؓ آپ کے چچازاد بھائی اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ ؓ آپ کی پھوپی ہوتی ہیں ۔ام المؤمنینؓ سے اسی نسبت کے سبب خاندان نبوی ؐ سے بھی آپ کا رشتہ مربوط ہوجاتا ہے اس کے علا وہ پانچویں پشت میں قصی بن کلاب پر ان کا سلسلہ آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے نام ونسب اس طرح ہے

 حکیم بن حزام ابن خویلد ابن اسد ابن عبدالعزی ابن قصی القرشی اسدی ۔آپ کے فرزند خالد کی نسبت سے آپ کی کنیت ابوخالد ہوتی ہے ۔والدہ کانام فاختہ بنت زبیر بن حارث ابن اسد بن عبدالعزی ہے۔

اخلاق وعادات  : حکیم بن حزام ؓ شروع ہی سے نیک مزاج، حلیم الطبع ،صلہ رحمی کرنے والے اورمتقی صفت انسان تھے، خاندانی شرافت، عزت ووجاہت کے مالک اورذی مرتبت سمجھے جاتے تھے،بڑے دانا، مدبر اور صاحب رائے شمار کئے جاتے تھے ۔قریش کی مشورہ گاہ ’’دارالندوہ‘‘ جوان کے لئے پارلیمنٹ یاعدالت کے قائم مقام تھی چالیس برس سے کم عمر کا کوئی فر د اس میںداخل ہونےاور اس کا رکن بننے کا اہل نہ ہوتاتھامگر پندرہ برس کی کم عمری کے باوجود حضرت حکیم بن حزام ؓکی بصیرت ودانائی اور فہم وفراست کی وجہ سے انھیں وہاں داخلہ کی خصوصی اجازت حاصل تھی بلکہ ہر موقع پر وہ شریک مجلس رہتے تھے ۔

اچھے اور کامیاب تاجر تھے ،سال کے دونوں موسم میں بغرض تجارت ملک یمن اور شام کا سفر کرتے تھے ،قسمت نے بھی یاوری کی تھی ،کامیاب اور بامراد واپس ہوتے اور ہمیشہ مالامال رہتے، کبھی خسارہ نہ ہوتا، اسی لئے قریش کے صاحبِ ثروت شرفاء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ نہایت کریم النفس تھے ،خویش واقارب اوردوسرے حاجتمندوں کی امداد پر ہر وقت کمربستہ رہتے تھے، سخاوت وفیاضی عام ہوتی تھی ، ایک مرتبہ بیک وقت سو اونٹ صدقہ اورسوغلا م آزاد کئے تھے، حجاج کرام کی مہمان نوازی میںبھی آگے رہتے ،اپنی دولت کا ایک حصہ اس کے لئے مختص کردیےتھے اس کے علا وہ نیکی اور بھلائی کے دوسر ے کاموں میں بھی پیش پیش رہتے تھے ۔

قبل از اسلام : اسلام قبول کر نے میں حضرت حکیم بن حزامؓ اگر چہ مؤخر رہے لیکن نہ مسلمانوں سے کوئی کدورت رکھتے تھے نہ ان سے کچھ تعرض کرتے بلکہ اپنے سابقہ تعلقات کو استوار رکھے ہوئے تھے، مشرکین قریش مسلمانوں کو ستانے کے لئے جو حرکتیں کر تے تھےآپ ان سےباز رہتے تھے ، اورجب کبھی موقع ملا مظلوم اہل حق سے ہمدردی کا اظہار کرتے۔

اپنی پھوپی حضرت خدیجہ ؓ سےبے پناہ محبت تھی ،ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان سے قائم ربط وضبط میں کوئی کسر نہ آنے دی اور اس رشتۂ الفت ومحبت کو برقرار رکھاتھا۔

بعثت نبوی ؐ کے ساتویں سال جب مشرکین قریش نے مسلمانوں اور بنی ہاشم سے مقاطعہ کرلیا اس دوران بھی اپنی پھوپی اور مظلوموں کی اعانت میں کوشاں رہے، ملک شام کی طرف سے آنے والے قافلوں سے خاموشی کے ساتھ سامان خرید کر اپنی پھوپی حضرت خدیجہ ؓ اور آپ کے پورے قبیلےوالوں میں تقسیم کر دیتے تھے ، اسی طرح متعدد بار رات کے اندھیر ے میں قریش سے چوری چھپے کچھ غلہ محصور ین کے پاس روانہ کئے۔ ایک مرتبہ ابوجہل نے دیکھ لیا تو راستہ روک کر کھڑاہوگیا ، ادھر یہ بھی قریشی تھے بات بڑھ گئی، یہ مُصر تھے کہ میں اپنی پھوپی تک غلہ ضرورپہنچاؤں گا اور ابوجہل بضد تھا کہ میں یہ غلہ جانے نہیں دوں گا ،اس دوران ابوالبختر ی بن ہشام جو کہ ایک نیک دل رئیس تھا سامنے آگیا ،اس نے مداخلت کی اور ابوجہل کو سخت سست کہا،جس کے نتیجہ میں یہ غلہ پہنچانے میں کامیاب ہوگئے ۔

آنحضرتﷺ سے حضرت حکیم بن حزام کا تعلق  : رسول اللہﷺ کی ولادت کے وقت ان کی عمرتیرہ برس کی تھی، گر دوبیش کے احوال کو اچھی طرح سمجھنے لگے تھے ،خود فرماتے ہیں کہ نبی کر یم ﷺ کے داداعبدالمطلب نے اپنی نذرومنت کی بناپر آپ ؐ کے والد عبداللہ کو قربان کرناچاہاتو میں اس وقت سمجھ بوجھ رکھنے والا بچہ تھا ، یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش سے پانچ سال پہلے کا ہے پس آپ کی ولادت طفولیت جوانی کے واقعات اور آپ کی صدق ودیانت داری ان سے کیسے مخفی رہے گی ۔

ایک مرتبہ سفر میں ان کو یمن کے ایک سابق حمیری بادشاہ کا شاہی لباس بکتاہوانظر آیا انہوں نے پچاس دینار میں وہ قیمتی لباس خرید لیا جس کو وہ آنحضرت کے لئے ہدیہ کر نا چاہتے تھے ، اللہ کے رسول ﷺ اس وقت ہجرت کرکے مدینۂ طیبہ تشر یف لے جاچکے تھے، وہ اس کو لے کر وہیں پہنچ گئے اوررسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا ، چونکہ یہ ابھی شرک کے دلدل سے نہیں نکلے تھے آپ نے اس کے قبول کر نے میں تردد وتامل کیا، قیمتاً خرید کر ان کی دلجوئی کے لئے آپ نے وہ لباس زیب تن فرمایا۔ حضرت حکیم ؓ کہتے ہیں میں آپ ؐ کو اس لبا س میں اور زیادہ خوبصور ت پایا ۔

حضرت حکیم ؓ کا اسلام :قدر ت کے رنگ بھی عجیب ہیں ۔سرورعالم ﷺ نے دعوت حق کا آغاز فرمایا تو بعض ایسے لوگ جو بہت سخت دل اور تند مزاج تھے لپک کر آگے بڑھے اور لوائے توحید کو تھام کرالسّابقُونَ الْاَوَّلُونَ کی مقدس جماعت میں شامل ہونے کا شرف حاصل کر لیا لیکن بعض ایسے لوگ جو بڑے شریف ،نرم خو،بہادر، فیاض ،اور ہمدرد خلائق تھے اپنے آبائی مذہب پر سختی سے قائم رہے اور قبول ایمان میں سبقت سے محروم رہ گئے ،حضرت ابوخالد ؓ ،حکیم ابن حزام ؓ ایسے ہی لوگوں میں تھے ،سرکار دوعالم ﷺ کی بعثت کے وقت ۵۳؍سال کو پہنچ چکے تھے وہ حضور ﷺ کو بہت محبوب رکھتے تھے لیکن افسوس کہ جب آپ ؐ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے اس کے قبول کرنے میں عذر کیا ، اور اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے۔ کفر وشرک کی بھول بھلیوں میں ان کو بھٹکتے دیکھ کر سرکار دوعالم ﷺ آزردہ ہوتے تھے، مگر وہ اسی روش پر قائم رہے تھے۔

فتح مکہ کے موقع پر سرورعالم ﷺ مکہ کے قریب ’’مرالظہران‘‘ مقام تک پہنچے تو آپ نے بعض صحابہ ؓ(ایک روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن عباس ) سے فرمایا : مجھے حکیم ابن حزام کا شرک میں 
مبتلا رہنا سخت ناگوار ہے، میر ی خواہش ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں (آپ نے ان کے ساتھ عتاب ابن اسید ، جبیر ابن مطعم ، اور سہیل بن عمر و کے نام بھی لیے)۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی خواہش پوری کردی آپ ابھی ’مرالظہران‘ سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ حکیم کے دل سے کفر وشرک کا زنگ دور ہوگیا، وہ سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کلمہ شہادت پڑھ کر شر ف اسلام سے بہرہ ور ہوگئے۔ اس وقت ان کی آنکھو ں سے سیل اشک رواں تھا، شاید یہ ندامت کے آنسو تھے یا اسلام لانے کی خوشی کے، اس موقع پر رحمت عالم ؐ نے کمال شفقت اور محبت سے ان کا ہاتھ اپنے دست مبارک سے پکڑ لیا نیز آپ نے ان کی عزت افزائی کے طور پر یہ بھی اعلان فرمایا کہ : مَنْ دَخَلَ دَارَ حَکِیمِ ابنِ حِزَامٍ فَھُوَ اٰمِنٌ کہ جوشخص حکیم ابن حزام کے گھر میں داخل ہوجائے اس کو امان ہے جیسے یہ اعزاز آپ نے حضرت ابوسفیان ؓ کو بخشاتھا۔   ؍( السير،ذہبی )

قبول اسلام کے بعد :اسلام قبول کیا تو آپ نے اس کاحق بھی خوب اداکیا، عمر۷۴؍ چوہتر برس کی تھی اور بوڑھے ہوچکے تھے لیکن فتح مکہ سے متصل پیش آنے والے غزوۂ حنین میں حضورﷺکی ہمرکابی کا شرف حاصل کیا۔ ایک مرتبہ حج کیا تو ان کے ہمراہ سو اونٹ تھے جن پر جرہ (یمن کے ایک قیمتی کپڑے ) کی جھولیں پڑی ہوئی تھیں ، ان سب اونٹوں کو انہوں نے ہدی بنایا(یعنی ان کی قربانی کی ) جب عرفہ میں انہوں نے وقوف کیاتو ان کے ساتھ سو غلا م تھےجن کی گردنوں میں چاندی کی تختیاں لٹکی ہوئی تھیں اور ان پر یہ الفاظ درج تھے : عتقاء اللہ عن حکیم بن حزام یعنی خداکے لئے آزادکئے گئے ہیں حکیم بن حزام کی طرف سے ۔ 
ایک روایت میں ہے کہ جس غلا م کو حضر ت حکیم نے آزاد کیا اس کو ایک اونٹ بھی عطاکیا ، اس کے علاوہ انہوں نے ایک ہزار بکر یوں کی قربانی بھی کی ۔

جب ان کےچچازاد بھائی حضرت زبیر ؓ کا ۳۵ ھ میں انتقال ہوا تو تقریبا بائیس لاکھ مقروض تھے ،حضرت حکیم ؓ نے ان کے فرزند عبداللہ ابن زبیر سے کہا اگر ضرورت محسوس کریں تو مجھ سے مدد لے لینا لیکن اس کی نوبت نہ آئی ان کی جائیداد سے ادائیگی کا انتظام ہوچکا۔

حضرت حکیم ؓ اپنے تاخیر سے اسلام لانے پر بہت افسو س کیا کرتے تھے اور کہاکر تے تھے کہ میں بدر ،احد ، خندق اوردوسر ے غزوات میں شرکت کی سعادت سے محروم رہا ، دوسرے لوگ خوش قسمت تھے کہ مجھ پر بازی لے گئے، کوئی غازی بنااورکوئی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا لیکن میں پیچھے رہ گیا ۔

آپ فرماتے تھے قریش کے بڑے سردار ان جو اپنے کفر پر قائم تھے ان کی اقتداءمیں میں قبول حق سے محروم رہا ، اے کاش میں ان کی اقتداءنہ کر تا ۔

ہمیشہ یہ فکر رہتی تھی کہ تاخیر فی الاسلام سے جو خسارہ ہوا اس کی تلافی ہو جائے اور یہ آرزو رہتی تھی کہ اسلام سے قبل کئے گئے اعمال خیر بارگاہ خداوند ی میں درجۂ قبولیت حاصل کرلیں ۔ ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ دور جاہلیت میں جواچھے کا م کر تا تھا کیا ان پر اجر وثواب ملیں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :اَسْلَمْتَ عَلٰی مَاقَدْاَسْلَفْتَ مِنَ الْخَیْرِ  اپنے سابقہ بھلائیوں کی وجہ سے تو تم اسلام سے بہرہ ور ہوئے ۔

(چونکہ آپ نے قبولیت کی تصریح نہ کی اس لئے شاید انھیں اطمینان نہ ہواہو)حضرت حکیم ؓ نے کہا :خداکی قسم جونیک اعمال میں نے جاہلیت میں کئے تھے ایسے ہی اسلام میں بھی کر وں گا۔چنانچہ آپ نے پھر سو غلا م آزاد کئے اور سو اونٹ صدقہ کئے ۔

بدرواحد میں قریش مکہ کے ساتھ بادل ناخواستہ شریک ہوئے تھے ،اس کے بعد انہوں نے عہد کرلیا کہ اب میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ نہیں کروںگا۔

اسی بد ر کی جنگ میں حضرت حمزہ ؓ کے مکمل نشانہ پر آگئے تھے مگر قتل ہوتے ہوتے بچ کر بھاگ نکلے، اسلام لانے کے بعد اس کو یاد کر کے خوش ہوتے ۔اس لئے نہیں کہ جان بچ گئی بلکہ اس لئے کہ کفرکی موت اورجہنم کی آگ سے نجات پاکر مذہب اسلام اور شرف صحابیت سے بہرہ ور ہوئے اور جب کوئی بڑی قسم کھاتے تو کہتے : وَالَّذی نَجَانِیْ یَوْمَ بَدْرٍ،اس ذات کی قسم جس نے مجھے بد ر کے دن نجات دی ۔

اسلام لانے کے بعد انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ چاروں خلفاء کا عہد دیکھا،حضرت عثمان ؓکی خلافت کے آخری دور میں ان کے دفاع میں پیش پیش رہے انہوں نے ان کے گھر پر پہرادیا اور باغیو ں کو پوری جرأت سے روکا ،جب سیدنا عثمان ؓ کی شہادت ہوگئی تو یہ سخت فتنے کا وقت تھا ، مدینہ پر عملاً باغیو ں کا قبضہ تھا ،کبر سنی کے باوجود اس مشکل دور میں انہوں نے عزیمت سے کام لیا ،جن 
افراد نے رات کے اندھیر ے میں سید نا عثمان ؓ کو جنت البقیع میں دفن کیا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی ، ان میں سید نا حکیم ابن حزام ؓ بھی شامل تھے ۔

وفات : حضرت حکیمؓ۵۴ھ میں خلافت حضرت معاویہ کے دسویں سال بعمر۱۲۰؍سال” بلاط الفاکہہ “میں وفات پائی اِنَّاللہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُونْ ۔آخری عمر میں ان کی بینائی جاتی رہی تھی ، وفات کے وقت آپ کی زبان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے کلمات جاری تھے اور فرماتے تھے : قدکنت اخشاک واناالیوم ارجوک  کہ یااللہ میں تجھ سے ڈرتا تھا لیکن آج مجھے تجھ سے حسن انجام کی امید ہے۔

تمام اہل سیر نے یہ اتفاق کی بات لکھی ہے کہ آپ نے نصف عمر جاہلیت (کفر )میں اور نصف عمر بحالت اسلام میں بسر کی مگر یہ حساب تغلیباًہے ور نہ قبول اسلام کے وقت ان کی عمر چوہتر ۷۴؍برس کی تھی جیساکے ابن اسیر نے اس کی نشاندہی کی ہے۔

حضرت حکیم ؓ کی ایک منفر د خصوصیت : حضرت حکیمؓ کی ایک منفر د پہچان اورخصوصی شناخت ایسی ہے جس سے دوسراکوئی متصف نہیں اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں اوروہ کعبۃ اللہ کے اندر ان کا تولد ہونا ،قصہ اس طرح ہے کہ ان کی والدہ بحالت حمل جبکہ وقت ولادت قریب تھا، چند عورتوں کے ساتھ حصول برکت کی نیت سے کعبۃ اللہ میں داخل ہوئیں کہ اچانک وہیں دردِزہ شروع ہوگیا، اتنا موقع نہ تھا کہ وہاں سے نکل جائیں فوراً ایک چمڑامہیاکیاگیا جس پر حضرت حکیم ؓ کی ولادت ہوئی اور مَوْلِدَ الْکَعْبَۃ (کعبۃ اللہ میں پیداہونے والے )سے مشہور ہوئے ۔ آپ کی پیدائش واقعہ فیل سے تیر ہ سال پہلے کی ہے۔

حضر ت حکیم ؓ کا ایک غیر شعوری کا رنامہ:غلاموں کو آزاد کر نے میں حضرت حکیم ؓ کی فیاضی مشہور تھی، سینکڑوںغلاموں کو آزاد ی دے کر انھیں اپنی مرضی کے مالک بنادیتے تھے اور تا دم آخر یہ سلسلہ جاری تھا،لیکن ایک غلا م کو انہوں نے آزادی نہیںدی تھی بلکہ اپنی ہی ملکیت بنائے رکھے تھے ، نہیں معلوم کہ اردادۃً ایسا کیا یا ایسے ہی غلامی  ميں رکھے رہے۔ 

دراصل یہ غلا م نہیں بلکہ اپنے آزاد والدین کا ایک محبوب نوجوان بیٹاتھا جس کو بنو قین کے ڈاکوؤں نے یمن سے اغواکر کے مکہ کے مشہور بازار عکاظ میں غلام بتا کر کے فروخت کے لئے لےآئے تھے، حضرت حکیم نے دیکھا تو چار یاچھ سودرہم میں خرید لیا۔ اس نوجوان میں غلامی کے بجائے تہذیب اور خاندانی شرافت کے آثار محسوس کئے تو اپنے ہی پاس رکھنا پسند کیا۔

کچھ عرصہ بعد اپنی پھوپی حضرت خدیجہ ؓ کی نذرکر کے ان کو مالک بنادیا تھا ،ام المؤمنین حضرت خدیجہ ؓ جنھوں نے اپنا ساراا مال اسلام کی راہ میںآنحضرت ﷺ کی نذر کردیا تھا اس نوجوان کو بھی رسول اللہ ﷺ کے لئے ہدیۃً پیش کردیا۔

یہ کون بخت آور جانِ پدر تھا جسے آقائےدوجہاں ؐ کی شفقت ملی ،جسے اپنے کھوئے ہوئے والدین سے زیادہ آپؐ سے پیار اور ممتاحاصل رہی ؟!یہ خوش قسمت لخت جگر حضرت زید بن حارثہ ؓ تھے جو آنحضر ت ﷺ کے محبوب (حِب النبی )صحابی اور اسلام کے اولین چار نفری مبارک قافلہ کےایک فرد سعید تھے، اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے حبیب پاک کے اس محبوب خاص کے نام نامی کو قرآن مجید میں ذکر کر کے جہاں آنحضرت ﷺکی مسرت کا سامان فرمایا وہیںان کی فضیلت کو بھی بام عروج پر پہنچایا ۔

اس عالی مرتبت بلند اقبال اور رشک خلائق وملائک کے خریدار حضرت حکیم ؓ کو لاشعوری میں بھی یہ خیال نہ رہاہوگا کہ اپنایہ معصوم ،فضیلت وسعادت کی سرحدوں کوچھونے والاہے اور ایک ذات اقدس سے اس کو آزادی کا پروانہ بلکہ بے نظیر شفقت حاصل ہونے والی ہے۔

حضرت حکیم نے حضرت زید کو آزادنہ کیاتھا مگر جس ذات اقدس کی خدمت میں پہنچادیا تھا اس کی غلامی پر ہزاروں آزادیاں قربان کی جاسکتی ہیں اور سینکڑوں غلا موں کے آزاد کرنے کی جو فضیلتیں حضرت حکیم ؓ کو حاصل رہی ہیں ان سب پر یہ نسبتیںبازی لے جاسکتی ہیں،یقیناً حضرت حکیمؓ سبقت فی الاسلام کے شرف سے محروم رہے مگر حضرت زید ؓ کے تفضل میں بالواسطہ جوان کی شرکت رہی اس سےوہ اپنی تاخیر اسلام کی تلافی کے امید وار بھی رہےہوں گے، مگر افسوس کہ حضرت حکیمؓ بحالت اسلام اپنے اس متاع گرانمایہ کی زیارت نہ کر پائے تھے کہ جنگ موتہ میں وہ جام شہادت نوش فرماکر اپنے آقائے حقیقی اور مالک کل سے جاملے ۔  فَرضِیَ اللہُ عَنْھمَا وَاَرْضَاھُمَا۔

مقصود نگارش: حضرت حکیم ؓ ابن حزام کی مذکور ہ بالامفصل حالات زندگی کے تذکر ہ سے ان صفحات کو مزین کرنے کا مقصود اصلی اس خلجان کو دور کرنا ہے جو ایک طرف اسلام نہ لانے کے باوجود شعب ابی طالب میں محصورمسلمانوں کے لئے غلہ واناج بھیجنے والے رحم دل اور فیاض صفت انسان اور دوسری طرف دربار رسالت میں اپنی حاجت اور ضرورت پیش کرنے والے ضرورت مند سائل اورحاجتمند مسلمان کی متضاد حیثیت والی شخصیت کے طور پر متعارف ہونے سے پیداہوتا ہے۔

آپ کی زندگی کے جوروشن پہلو ہمارے سامنے آئے ہیں ان میں سب سے نمایا ں وصف ان کا جودوسخاہے جوکسی بھی موقع پر ان سے منقطع نہیں ہوا، چاہے آپ کی بعثت سے قبل ہو، یا اعلان نبوت کے بعد ان کے قبول اسلام سے پہلےیا اسلام لانے کے بعد ہو، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ صاحب ثروت اور آسودہ حال شخص رہے ہیں بلکہ بے دریغ لٹانے والے مستغنی قسم کے صاحب خیر رہے ہیں، ایسے میں آنحضرت ﷺ سے ان کا مانگنااوردوسری یاتیسر ی مرتبہ پر حضور ﷺ کا ان کو تنبیہ کر نا یہ سوال پیداکرتا ہے کہ واقعہ کی نوعیت کیا ہے اور وہ کونسے حالات تھے جن کی وجہ سے یہ صورت پیداہوئی کہ کیایہ دوالگ شخصیتیں ہیں یامتفرق مواقع میں ایک ہی شخصیت کے دوواقعے ہیں ۔

مندرجہ ذیل مشمولات میں اسی اشکال کورفع کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ واقعہ کاپس منظر یہ ہےکہ رسول اللہﷺ فتح مکہ کی مہم سے ابھی فارغ ہی ہوئے تھے کہ ثقیف وہوازن کے دونوں قبیلے چند اور قبیلوں کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے خیمہ زن ہوگئے، بے حساب آلات ِحرب اورخوب جنگی سامانوں کے ساتھ مال مویشی اوربال بچے بھی ساتھ لائے تھے ۔
رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو مدینے سے آئے ہوئے دس ہزار صحابہؓ اور اسلام قبول کئے ہوئے اہل مکہ کے دوہزار صحابہ کے ساتھ آپ نے مقابلہ کیا۔دشمنوں کو ہزیمت ہوئی اور بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا، اہل سیر کا بیا ن ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا مال غنیمت بلکہ اس کا نصف وربع بھی شاید نہیں ملا ہو ،جس کی تفصیل یہ ہے: 
اونٹ :چوبیس ۲۴؍ہزار ، بکریاں :چوبیس ۲۴؍ہزار، چاندی :چارہزار اوقیہ (تقریباً چھ سوکلو ) اورقیدی چھ ہزار تھے ۔؍ ( اصح السیر)

آپ نے جب مال غنیمت تقسیم فرمایا تو تالیف قلب (اسلام میں نئے داخل ہونے والے مسلمانوں کی دلجوئی )کے طور پر چند اشراف قریش کومال غنیمت کا وافر حصہ عنایت کیا، حضرت ابوسفیانؓ کو چالیس اوقیہ چاندی اور سواونٹ عطافرمائے، انہوں نے دومرتبہ مزید درخواست کی توہر مرتبہ اسی قدرعنایت کئے۔ اسی طرح حضرت نضر ابن الحارث ،علاء ابن حارثہ، صفوان ابن امیہ اور عباس بن مرداس کو سوسو اونٹ مرحمت فرمائے۔

حضرت حکیم ابن حزامؓبھی اس موقع پر حاضر بارگاہ تھے سرورعالم ﷺ نے انھیں بھی سواونٹ عنایت فرمائے، انہوں نے مزیدمانگا آپ ؐ نے عطافرمایا پھردرخواست کی تو رسول اللہ ﷺ نے پھر مرحمت فرمائی۔ 

ابتدائے مضمون میں جس واقعہ کا تذکر ہ کیاگیاوہ عین یہی واقعہ ہے جو غزوہ حنین کے مال غنیمت کی اس تقسیم کے موقع پر پیش آیا ،روایت میں اختصار کی وجہ سے سوال کی حیثیت واضح نہ ہوسکی ہے ۔
اصل یہ کہ حضرت حکیم ؓخود دست عطارکھتے تھے ،ان کی غیر ت کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے یا حاجتمند انہ حاضر ہونے کو کیسے گواراکرے گی، یہاں انہوں نے ابتداء مانگ نہیں کی جیسےکہ الفاظ حدیث سے مفہوم ہوتا ہے بلکہ رحمت عالم ﷺ نے اولاً خودمرحمت فرمائی تو انھیں محسوس ہواکہ سرورکونین کا دربار عطاسجاہواہے اور گویا’’ہے کوئی سائل‘‘ کی صدالگ رہی ہے۔

 اس ابر کر م کے موقع پر استغنائیت یا بے طلبی کا مظاہر ہ بدقسمتی اور محرومی سے خالی نہ ہوگا،اس لئے مانگ لیا، باربار مانگ لیا ادھر سے عطابھی ویسے ہی رہی ،ہربار کامل ومکمل سو سواونٹ کی بخشش۔
لیکن چونکہ حضرت ابوسفیانؓ ،حضرت حکیمؓ اوربہت سے دیگر اصحاب آپ سے مانگتے رہے اور سرور عالم ﷺعنایت فرماتے رہے، اس منظر سے یہ واہمہ ہوسکتا تھا کہ شایدمانگنے اور سوال کرنے میں کوئی قباحت ہی نہیں۔ اس ممکنہ خیال کودور کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کہ کسی بھی سوال میں جب اشراف نفس (حرص ) شامل ہوجاتاہے تواس سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ اس سے آپ نے نفس مسئلہ کا ایک حکم واضح فرمایا نہ کہ وہاں موجود کسی فرد بشر پر نکیر فرمائی بلکہ مصنَّف عبدالرزاق کی ایک دوسری روایت جس میں مذکورہے کہ حضرت حکیم ؓ نے مانگنے کے بعد خود ہی آنحضرت ﷺ سے پوچھ لیاکہ یارسول اللہ :اَیُّ عَطِیتُک خیَرٌ؟قَالَ الاُوْلیٰ: آپ کا کونسا عطیہ (پہلا جو آپ نے خودعنایت فرمایا یادوسر اجو میرے مانگنے پرملا ) بہتر ہے تو آپ نے فرمایا پہلا!! اب کوئی اشکال ہی نہیں رہ جاتاہے۔ (مصنَّف عبدالرزاق ؍حیاۃ الصحابہ، جلد سوم )
یاصرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ حضرت حکیم ؓ کی عالی حوصلگی کے پیش نظر انھیں یہ خصوصی وصیت فرمائی کہ ایسی صورت حال آپ کی شایان شان نہ تھی۔ 

نیز چونکہ رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ سوال کی حقیقت واضح فرمائی بلکہ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ : اَلْیدُالْعُلیاخَیرٌ مِنْ یَدِالسُّفْلٰی۔ یعنی اوپرکا (دینے والا )ہاتھ نیچے کے (لینے والے )ہاتھ سے بہتر ہے۔ اس کا مزید اثر یہ ہواکہ اشراف نفس کے ساتھ سوال تو براہے ہی، بغیر اشراف کے مانگنابھی ناپسند، بلکہ کسی سے بے طلب ملنے والا عطیہ حاصل کر کے یدسفلی والوں میں شامل ہونابھی انھیں گوارہ نہ رہا ،اس لئے دوجہاں کے آقاﷺکی اس وصیت کو حرزجان بنائے ہوئے رہے اورتادم زیست اس پر قائم رہ کر اپنی آخرت سدھارگئے ۔

 خلاصہ مضمون یہ ہواکہ حکیم ابن حزام ؓ کے نام سے جماعت صحابہ میں ایک ہی شخصیت کا وجود مسعود ہے، سائل اور صاحب خیر کوئی دوجدااشخاص نہیں ہیں نیز موقع سوال بھی ایک ہی وقت کا ہے، کسی زمانے کے دومتفرق واقعے نہیں ہیں یعنی سخاوت وفیاضی کے پیکر بھی وہی اور دربار اقدس سے طلب کرنے والے بھی یہی عظیم شخصیت ہیں : لیکن حضرت حکیم ؓ کا سوال حاجت وضرورت کے طور پر نہیں حصول فیض وبرکت کے لئے ہے ۔آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان ان کو یاکسی کو زجراً وتوبیخاً نہیںبلکہ توضیحاً واحتیاطاً ہے۔ اوراگر خود حضرت حکیم ؓ کے استفسار پر آپ نے ارشاد فرمایا ہوتو ان کے پیش کردہ اشکا ل کودور کرناہے ، نہ کہ کسی پر تنبیہ !!!واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا