مضامین سلسبیل

چل ہی رہا تھا ابھی معرکۂ آب و گل
ڈھل ہی رہے تھے ابھی خال و خطِ پیکری
بن ہی رہے تھے ابھی
عارض و چشم و دہن
بینی و گوش و جبیں
بازو و دست و قدم
گردن و پشت و شکم
ہوہی رہی تھی ابھی کوششِ صورت گری
دست مشیت کی اور جاری تھی کاری گری
نائبِ ربِ جہاں
قیدِ عدم سے ابھی ہو نہ سکا تھا بری
حضرتِ آدم ابھی منزلِ تخلیق میں
جسم کی تطبیق میں
روح کی توثیق میں
اور جگر گوشۂ آمنۂ محصنہ
زینت و زیبائش مرتبۂ سروری
خاتم پیغمبراں ، خاتم پیغمبری

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا