مضامین سلسبیل

سلطان القلم حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز

مولاناڈاکٹر ظہیر احمد صاحب راہیؔ فدائی باقوی

نائب صدر ،کل ہند رابطہ ادب اسلامی شاخ کرناٹک

ملک کے جن صلحائے عظام و اولیائے کرام نے اپنے وردِمسعود وقد ومِ میمنت لزوم سے سرزمین ہند کے دونوںانتہاؤں کو معطر و منور فرمایا، اس میں حضرت خواجہ بندہ نواز کی ذات والا صفات ان معنوں میں منفردوممتاز ہے کہ آپ کی بلند و بالا روحانی و عملی شخصیت نہ صرف شمال و جنوب کے درمیان مضبوط ومستحکم دینی ولسانی تحفظات وتعلقات کی اساس بنی بلکہ اس نومولود بولی یعنی اردوئے بے زبان کو جسے بمقتضائے حالات تشکیل کے ابتدائی مراحل ہی میں شہر بدر ہوناپڑا، آپ ہی کی وجہ سے ایک قومی زبان کی حیثیت عطا ہوئی اور پائیدار سہارا نصیب ہوا۔ زبان اردو کو جسے ابتداء ً ہندی و ہندوی، گجری، دکنی و غیرہ مختلف النوع صفاتی ناموں سے موسوم کیا جا تا تھا علامہ باقر آگاہ ویلوری (متوفی ۱۲۲۰هھ)نے سودا سے پہلے بطورعَلَم اپنے اشعار میں استعمال فرمایا، آگے چل کر یہی نام اس طرح رواج پا گیا کہ اس کی شناخت کا وسیلہ بن گیا۔
 
اردو کی یقیناً یہ خوش بختی ہے کہ آج سے چھ صدی پیشتر اس کی ادبی صورت گری حضرت بندہ نواز گیسودراز قدس سرہ (ولادت۷۲۰ھ، وفات ۸۳۵ھ) کے مبارک ہاتھوں ہوئی ،جن کا اسم گرامی سیدمحمد حسینی بن سید یوسف حسینی را جا المعروف بہ راجوقتال (المتوفی ۷۳۱ھ) اور کنیت ابوالفتح ہے، آپ گیسو دراز ، بندہ نواز کے القاب سے مشہور ومعروف ہیں، حضرت گیسو دراز خواجہ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی (متوفی ۷۵۷ھ) کے خلیفۂ اجل اور علوم ظاہری و کمالات باطنی کے مجمع البحرین تھے، چنانچہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے گیسو درازؒ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: 

ہر گو مرید سید گیسو دراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق باز شد

یعنی جوشخص گیسودراز کا مرید ہواوہ بخدا عاشق زار ہو گیا۔ (رسالہ الا بقاء)
آپ نے اپنی ایک سو پانچ سالہ طویل حیات میں ایک سو پانچ کتابیں تصنیف کیں، آپ کے مرید وخادمِ خاص حضرت مولانا شاہ محمد علی سامانی مصنف’’ سیرمحمدی‘‘ (تاریخِ تصنیف ا۸۳ھ) کے بقول ”حضرت بندہ نواز کی جملہ تصانیف ایک سوپچیس ہیں‘‘۔ آپ نے عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں مختلف و متنوع دینی، علمی، اصلاحی اور اخلاقی موضوعات پر کتب ورسائل تحریر فرمائے ہیں، یہاں آپ کی اردوتصنيفات کے ذکرسے پیشتر بعض گراں قدر عربی و فارسی کتابوں کے نام اور ان کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے تا کہ اس عظیم مصنف کے کرشمہ ساز قلم سے نکلی ہوئی اردوتقریر کے علمی وزن و وقار کا بخوبی اندازہ ہو سکے۔
 
؍۱)    تفسیر الملتقط (عربی) صوفيانہ طرز پرتحریر کردہ قرآن کریم کی تفسیر جس کا واحد مخطوط انڈیا آفس، لندن کی زینت بڑھارہا ہے۔ 
؍(۲) حواشیٔ تفسیر کشاف (عربی) علامہ زمخشری کی ضخیم تفسیر پر لکھے گئے حواشی۔
؍(۳)شرح ’’مشارق“ (عربی) حدیث کی مشہور کتاب’’مشارق الانوار‘‘ کی شرح ۔
؍(۴) ترجمہ مشارق (فارسی ترجمہ) 
؍(۵) معارف العوارف (عربی) حضرت سید شہاب الدین سہروردی کی مایہ ناز تصنیف ” عوارف المعارف‘‘ کی زائد از گیارہ سو صفحات پرمشتمل مبسوط شرح ہے، جس کا واحد نسخہ ٹونک کے کتب خانے کا مخزونہ ہے۔ 
؍(۶) ترجمہ معارف (فارسی ترجمہ) 
؍(۷) شرح ’’تعرف‘‘حضرت شیخ ابو بکر محمد ابن ابراہیم بخاری کی تصنیف تعرّف کی مفصل شرح ۔ 
؍(۸) شرح آداب المریدین(عربی) حضرت شیخ ضیاءالدین عبدالقادر سہروردی کی کتاب’’ آداب المریدین‘‘ کی بے نظیر شرح ۔ 
؍(۹) شرح آداب المریدین (فارسی ترجمہ) 
؍(۱۰) شرح فصوص الحکم (عربی) حضرت شیخ اکبرمحی الدین ابن عربیؒ کی شہکار تصنیف کی بہترین شرح
؍(۱۱) شرح تمہیدات (عربی) حضرت ابوالمعالی عبداللہ المعروف بہ معین القضاۃ ہمدانیؒ کی لا جواب تصنیف کی بے مثال شرح ۔ 
؍(۱۲) رسالۂ سیرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم (سیرتِ طبیہ فارسی کی مقتدر تالیف) 
؍(۱۳) اسمار الاسرار (فارسی) حقائق تصوف پر اعلی درجہ کی تصنیف جس کی خود مصنف نے تعریف کی ہے۔
؍ (۱۴) انیس العشاق (دیوان فارسی ) اس دیوان میں جملہ ۳۲۷ غزلیں،۱۲۶؍ اشعار پر مشتمل ایک مثنوی، ۹ رباعیات ہیں، جس کو آپ کے پوتے حضرت خواجہ سدید اللہ عرف خواجہ قبول اللہ ا بن حضرت خواجہ سید محمداصغرحسینی نے مرتب کیا، یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آپ کے مذکورہ بالا عربی و فارسی اعلی و ارفع تصنيفات تا حال زیور طباعت سے آراستہ نہ ہوسکیں ، اہل علم وفن عموم فضلاے عرب 
خصوصاً ان عظیم کتابوں سے واقف ہوں تو آپ کا علمی مرتبہ اور بھی فزوں تر ہوتا۔
 
حضرت گیسو درازؒا۸۰ھ میں سلطان فیروز شاہ بہمنی کی درخواست پر دہلی سے گلبرگہ تشریف لائے حالانکہ پہلی بار جب کہ آپ چار سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ ۲۵ ۷ ھ میں دہلی سے دولت آبادبحکم سلطان محمد تغلق آئے اور پھر اپنے والد کے وصال کے بعد ۷۳۲ھ میں والدہ ماجدہ کی معیت میں دہلی لوٹ گئے تھے ، اس صورت حال کے پیش نظر سفر کی کلفت و طویل مدت، آمد ورفت کی صعوبت اور انتہائی شمال وجنوب کے مابین واقع لامتناہی فاصلوں کی کڑی مشقت کے ذاتی تجربوں نے آپ کے ذہن و دل میں عزم مصمم پیدا کر دیا کہ خلق خدا کی رشد وہدایت اور عوام کی مذہبی و روحانی رہنمائی کے لئے ان کی اپنی بولی میں جسے وہ بآسانی سمجھتے ہوں تقریروتحریر کا متواتر عمل جاری رہنا چاہئے ۔ اسی خیال کے تحت آپ نے اپنے عام مریدین و معتقدین کے لئے ایک ایسا نظام الاوقات مرتب فرمایا جس کے تحت عوام الناس کو آپ کے وعظ و بیان اور آپ کے پند و نصائح مسلسل سننے اور انہیں کی رائج زبان میں بولنے اور سمجھنے کا بہترین موقع فراہم کیا گیا تھا۔ حضرت گیسو دراز اس عوامی زبان کو جسے وہ ہندی کہتے تھے ،بہت پسند کرتے تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ہندی کی چیزیں نرم، لوچ دار اور دل کور قیق کرنے والی ہوتی ہیں اور اس کا راگ بھی نرم ہوتا ہے اور عاجزی و انکساری کی طرف مائل کرتا ہے۔ عام طور پر صوفیہ ہندی راگ ہی پسند کرتے ہیں ۔ حضرت گیسو درازؒ نے اس رائج الوقت ہندی یا دکنی اردو میں تصوف و احسان پر کئی رسائل نظم و نثر میں تحریر فرمائے تھے، اس نوع کے رسالوں کی تعداداگر چہ کہ زیادہ نہ رہی ہو،مگر وقت کے تقاضے اور ضرورت کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے ان کی لسانی اہمیت اورعلمی قابلیت گراں بہا ومسلّم ہے۔
 
ذیل میں حضرت گیسور درازؒ کے دکنی یعنی قدیم اردو کے تاحال تحقیق شدہ تصنیفات پیش کئے جارہے ہیں، جس سے واضح طور پر ثابت ہوگا کہ اردو کے با قاعدہ اولین مصنف حضرت گیسو درازؒ ہی ہیں۔
 
؍(۱) شکار نامہ (نثر)۔؍ (۲) رسالہ سہ پارہ (نثر)۔؍ (۳)ہدایت نامہ (نثر)۔؍ (۴) ہیئت مسائل (نثر)۔؍ (۵) تمثیل نامہ (نثر)۔؍ (۶) حقیقت گیت (نظم )۔؍ (۷)چکی نامہ(نظم)۔ 
 
 حضرت گیسو درازؒ کے مندرجہ بالا تصنیفات کی نسبت یہ عرض کرنا ہے کہ تاحال کسی بھی محقق نے فہرست درج شدہ ابتدائی پانچ نثری کتابوں پر جرح و قدح نہیں کی ہے بلکہ محققین نے اندرونی شواہد دستیاب نہ ہونے کی بناء پر صرف حضرت گیسو درازؒ کی طرف مذکورہ کتابوں کی نسبت کو مشکوک قرار دیا ہے البتہ آپ کی طرف منسوب تصنیف ”معراج العاشقین‘‘ کے تعلق سے ڈاکٹر حفیظ قتیل نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ وہ گیسو دراز کی تصنیف نہیں ہے۔ اس کے برخلاف مذکورہ بالا تصنیفات اس میں مستعمل نا پختہ زبان ، الفاظ کی بافت اور جملوں کی ساخت اس بات کے واضح شواہد ہیں کہ زبان ابھی تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ لہٰذایہ لامحالہ حضرت گیسو درازؒ کے دور کی زبان ہی ہے، نہ کہ بعد کے زمانے کی ۔ علاوہ ازیں یہ مسلمہ فقہی اصول الیقین لایزال بالشک یعنی یقین محض کسی شک و شبہ کی بناء پر زائل نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے مقام اور اپنی حیثیت عرفی میں باقی رہتا ہے، بڑی حد تک معقول بھی ہے اور لسانی سطح پر قابل قبول بھی، چنانچہ اس اصول کی روشنی میں مذکورہ نثری تصنیفات کو حضرت گیسو درازؒہی کی مان کر چلیں، جب تک کہ کوئی قطعی ثبوت انکار کے لئے فراہم نہ ہو جائے۔
 
اب رہا باقی دو منظوم تخلیقات’’ حقیقت گیت‘‘ اور’’چکی نامہ‘‘ کا مسئلہ ان دونوں کے داخلی شواہد نے ثابت کر دیا ہے کہ ان منظومات کی نسبت حضرت گیسو درازؒ کی طرف کرنا صد فی صدصحیح اور عین واقعہ ہے۔ حقیقت گیت ان گیتوں کا نام ہے جنہیں گیسو دراز ؒاپنے قوالوں کو یادکراتے اور پھر اشعار کو ان سے سنتے تھے تا کہ محفل سماع کے منعقد ہونے کے موقع پر’’ حقیقت گیت‘‘ موثر طور پر سامع نوازی کا فریضہ انجام دے، چونکہ حضرت بندہ نوازؒاکثر سماع خوانی کی محفلیں بند کمرے میں منعقد کرتے تھے تا کہ دنیا والوں پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں اورکسی کو خواہ مخواہ چیں بہ جبیں ہونے اور اعتراض بجا کرنے کا موقع ہاتھ نہ آئے۔ ان ’’حقیقت گیت‘‘ کے نمونوں کو دکنی ادب کی تاریخ‘‘ کے مولف ڈاکٹر محی الدین قادری زورؔ اور’’دکنی میں اردو شاعری ولیؔ سے پہلے ) کے مصنف ڈاکٹر محمد جمال شریف نے دکن کی مختلف خانقاہوں کی خستہ حال بیاضوں سے حاصل کرتے ہوئے اپنی گراں قدر تالیفات کی زینت بڑھائی ہے۔ ذیل میں چند گیت‘‘ نمونتاً نقل کئے جارہے ہیں تا کہ اس بات کا اندازہ ہو جائے کہ ہماری یہ پیاری زبان اپنی 
ابتدائی ہیئت میں بھی کیسی لچکدار اور کس قدر شفافیت کی حامل تھی، یہ گیت ثلاثیات کے نہج پر کہے گئے تھے۔ ملاحظہ ہوں۔
 نعتیہ ثلاثیات

(۱) 

وہ معشوق بے مثال نور نبیؐ نہ پایا

نور نبیؐ رسول کا میرے جیو میں آیا

اپس کوں اپیں دکھانے کیسی آرسی لایا

(۲) 

لولاک خلق الافلاک خالق بالائے 

فاضل افضل جیتے مرسل ساجد جود ہو آئے

امت رحمت بخشش ہدایت تشریف لائے

 ۔۔۔۔

(۱)  

کھڑے کھڑے پیو جیومیں ایسی آپ وکھاوئے

ایسے میٹھے معشوق کو کوئی کیوں دیکھ پائے

جسے دیکھے اسے کوئی نہ بھاوے

(۲)  

کل شئی محیط ہے اسے کون پہچانے

 جو کوئی عائش اس پیو کے اسے جیو ہے جانے

اسے دیکھت گمرہے ہیں جیسے دیوانے

 

(۳)  

خواجہ نصیر الدین جنے سائیاں پپو نبائے

 جیو کا گھونگھٹ کھول کر پیا مکھ آپ دکھائے

راکھے سید محمد حسینی پیو سنگھ کھانہ جائے

اس بندسماع میں قوالوں کی زبانی پڑھے جانے والے بعض اشعار جو سینہ بہ سینہ صدیوں سےمنتقل ہورہے ہیں اور آج تک کبھی محفوظ ہیں، چند شعر ملاحظہ فرمائیں۔

سہاگن

اٹھنا    سہاگن  سیجا    میں    تیرا    لالہ   نہ    جاگے
نیندیں  شو تیرا جاگے تجکو  اس دن نیند  اڑی  لاگے
تو    آنکھ    اڑی    لا    گے    تجکو   نیند   اڑی  لاگے
اٹھنا    سہاگن    سیجا   میں   تیرا    لالہ   نہ    جاگے

شاہ    کی   سجانا دا  کی   جوکوئی   جاگے   سو پائے    وئے
آج ایک جا گوں نہ عشوں میرے اللہ  کیا پھر جاگے
انوارا                 انوادئے ،              انوارا                 انوادئے
اٹھنا      سہاگن      سیجا     میں   تیرا    لالہ      نہ   جاگے

مخفی      جاگا      تھے ،   سیجا     میں      ظاہر جاگے   تھے
انوارا      سوتی      تھی      میں      بھر      نیند      نور   سن
حسینی         تمنا          جاتے         شہباز         تمنا       جاگے
یہ    اٹھنا     سہاگن    سیجا    میں    تیرا لالہ   ن ہ جاگے

حقیقت

سمجھ  کر بھی  میں دیکھی   ہوں  حرف  دسنائے  ظہارا
دستا   ہے   کر بھی   کہتی  ہوں  دو  تو  چک   ہے   ہمارا
جان    یگ    دستے   میں   آیا    شہر   دو سب خالی نیارا
دسنا    ہر     دیکھا نہ    بر  تا  نین    دوہے    پپو   کا   بدارا

سمجھ  کر بھی  میں دیکھی   ہوں  حرف  دسنائے  ظہارا
دستا   ہے   کر بھی   کہتی  ہوں  دو  تو  چک   ہے   ہمارا
جان    یگ    دستے   میں   آیا    شہر   دو سب خالی نیارا
دسنا    ہر     دیکھا نہ    بر  تا  نین    دوہے    پپو   کا   بدارا

سید   محمد   بند  ھو   (میرے اللہ )   بندگی میں ہوشیارا
کچھ  کر بھی  میں دیکھی ہوں  حرف  دستا ہے  ظہارا

اب رہی چکی نامہ کی حیثیت تو قدیم زمانے میں خواتین چکی پیستی ہوئی یا دھان وغیرہ کوٹتی ہوئی گیت گایا کرتی تھیں ، طبقۂ نسوان کی اس عادت وخصوصیت کو تعمیری اور اصلاحی رخ دینے کے لئے صوفیا کرام نے چکی نامے یا سہاگن نامے موزوں کر کے عورتوں کی دلچسپی کے لئے ان نظموں اور گیتوں میں ذومعانی الفاظ رکھ دیئے تا کہ ان کے بار بار پڑھنے سے ظاہری معانی کے ساتھ تصوف و اصلاح نفس پر مشتمل باطنی مطالب بھی انہیں متاثر کرسکیں ،بقول ’ڈاکٹر زینت ساجدہ‘ چکی نامے وغیرہ عورتوں کی زبان میں ہیں اور مخاطب بھی عورت ہی ہے۔ عورتوں کی بولی ٹھولی روز مرہ اور محاورہ ان کا مزاج ، ان کے جذبات ، عقائد و رسوم وغیرہ کی جیسی ترجمانی ان گیتوں میں ہوئی ہے اور کہیں نہیں ملتی۔ پھر تصوف کے اسرار و رموز سونے پہ سہاگہ کا کام کرتی ہیں‘‘۔ حضرت گیسو دراز کے چکی نامے کے چند اشعار پیش کئے جارہے ہیں، جس سے زبان کی نشونما اور اس کے ارتقائی عمل کا ہلکا سا یقین ذہن و دل پر مرتسم ہو جائے۔

پیو جاتر سوکے سکے

گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ

میانی محمد ہوکر بستا

گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ

شاہد ہاتھوں سے لے کر بہاؤ

گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ

پیر ومرشد مسلک جانو

گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ

اسی توبہ ستے ہونا

گئے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ

بہشتی میویہ شکر دھرو

گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ

دیکھو جب تک کی چکی

سوکن ابلیس کھینچ تہلکی

الف اللہ اس کا دستا

سچی طلب یوں کو دستا

دانے ہی سو چن چن لاؤ

شریعت سے چکی ہی آو

الف اللہ اس کا قانون

پیسو آٹا اس منے چناؤ

لازم وجود یاسن ہونا

ذات کی پانے آملی ہونا

آٹو پیسو پوریا پھرو

ساتوں صفتاں پورن بھرو

مذکور الصدر اشعار کے داخلی شواہد بھی اس ادعا کے لئے واضح دلیل ہیں کہ حضرت بندہ نوازگیسودرازؒ زبان اردو کے اولین شاعر وسخنورہیں، جن کا اتباع بعد کے شعراء نے کیا لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حضرت خواجہ بندہ نواز اردو کے سب سے بڑے محسن ومربی بھی تھے۔

اس مقالہ کی تیاری میں درجہ ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا:

؍(۱)سیر محمدی، مصنف حضرت مولانا شاہ محمد علی سامانیؒ، مطبوعہ ۳۴۷ا گلبرگہ شریف 
؍(۲)بزم صوفیہ، سید صباح الدین عبدالرحمن، دارالمصنفین، اعظم گڑھ
؍(۳) تبصرۂ الخوارقات ، سید من اللہ بن سیدعلی اللہ محمدحسینی 
؍(۴)جشن ۶۰۰ سالہ، حضرت خواجہ گیسودراز بند ہ نو ازؒ سونیر
؍(۵) مضمون ’’دکنی گیت‘‘ از ڈاکٹر زینت ساجدہ،مشمولہ مجلّہ عثمانیہ دکنی ادب نمبر۶۳، ۱۹۶۴ ء،ص ۲۱۸ 
؍(۶)مضمون’’ دکن میں اردونثر کا ارتقاء‘‘ پروفیسر عبد القادر سروری،مشمولہ مجلہ عثمانیہ دکنی
؍(۷) دکنی ادب کی تاریخ ، سیدمحی الدین قادری زورؔ
؍(۸)شہباز ۱۹ذی قعدہ۱۴۲۲ھ مطابق ۳ فروری ۲۰۰۲ گلبرگہ شریف 
؍(۹)تذکرہ خواجہ گیسو در ازؒمر تبہ اقبال الدین احمد، مطبوعہ ۱۹۶۷ ءکراچی 
؍(۱۰)دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے، مولف ڈاکٹر محمد جمال شریف ،ترجمہ واضافہ ڈاکٹرمحمدعلی اثر مطبوعہ ۲۰۰۴ء، حیدر آباد
؍(۱۱)تحقیقات و تاثرات ۔ ڈاکٹرمحمد علی اثر مطبوعہ: الانصار پبلی کیشنز، حیدر آباد ۲۰۰۸ء 
؍(۱۲)تحقیقات ،محمد نسیم الدین فریس
؍(۱۳)مقالات نعت (غیر مطبوعہ ) مرتبہ قاضی اسدثنائی
؍(۱۴)رسالہ الا بقاء، جلد۳۶نمبر۴،صفحہ ۶۵ ، ماہ ذی قعدہ ۳۸۴اھ م اپریل ۱۹۶۵ء مواعظ مولا نا اشرف علی تھانوی۔
 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا