سلطان القلم حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز
مولاناڈاکٹر ظہیر احمد صاحب راہیؔ فدائی باقوی
نائب صدر ،کل ہند رابطہ ادب اسلامی شاخ کرناٹک
ہر گو مرید سید گیسو دراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق باز شد
(۱)
وہ معشوق بے مثال نور نبیؐ نہ پایا
نور نبیؐ رسول کا میرے جیو میں آیا
اپس کوں اپیں دکھانے کیسی آرسی لایا
(۲)
لولاک خلق الافلاک خالق بالائے
فاضل افضل جیتے مرسل ساجد جود ہو آئے
امت رحمت بخشش ہدایت تشریف لائے
(۱)
کھڑے کھڑے پیو جیومیں ایسی آپ وکھاوئے
ایسے میٹھے معشوق کو کوئی کیوں دیکھ پائے
جسے دیکھے اسے کوئی نہ بھاوے
(۲)
کل شئی محیط ہے اسے کون پہچانے
جو کوئی عائش اس پیو کے اسے جیو ہے جانے
اسے دیکھت گمرہے ہیں جیسے دیوانے
(۳)
خواجہ نصیر الدین جنے سائیاں پپو نبائے
جیو کا گھونگھٹ کھول کر پیا مکھ آپ دکھائے
راکھے سید محمد حسینی پیو سنگھ کھانہ جائے
اس بندسماع میں قوالوں کی زبانی پڑھے جانے والے بعض اشعار جو سینہ بہ سینہ صدیوں سےمنتقل ہورہے ہیں اور آج تک کبھی محفوظ ہیں، چند شعر ملاحظہ فرمائیں۔
سہاگن
اٹھنا سہاگن سیجا میں تیرا لالہ نہ جاگے
نیندیں شو تیرا جاگے تجکو اس دن نیند اڑی لاگے
تو آنکھ اڑی لا گے تجکو نیند اڑی لاگے
اٹھنا سہاگن سیجا میں تیرا لالہ نہ جاگے
شاہ کی سجانا دا کی جوکوئی جاگے سو پائے وئے
آج ایک جا گوں نہ عشوں میرے اللہ کیا پھر جاگے
انوارا انوادئے ، انوارا انوادئے
اٹھنا سہاگن سیجا میں تیرا لالہ نہ جاگے
مخفی جاگا تھے ، سیجا میں ظاہر جاگے تھے
انوارا سوتی تھی میں بھر نیند نور سن
حسینی تمنا جاتے شہباز تمنا جاگے
یہ اٹھنا سہاگن سیجا میں تیرا لالہ ن ہ جاگے
حقیقت
سمجھ کر بھی میں دیکھی ہوں حرف دسنائے ظہارا
دستا ہے کر بھی کہتی ہوں دو تو چک ہے ہمارا
جان یگ دستے میں آیا شہر دو سب خالی نیارا
دسنا ہر دیکھا نہ بر تا نین دوہے پپو کا بدارا
سمجھ کر بھی میں دیکھی ہوں حرف دسنائے ظہارا
دستا ہے کر بھی کہتی ہوں دو تو چک ہے ہمارا
جان یگ دستے میں آیا شہر دو سب خالی نیارا
دسنا ہر دیکھا نہ بر تا نین دوہے پپو کا بدارا
سید محمد بند ھو (میرے اللہ ) بندگی میں ہوشیارا
کچھ کر بھی میں دیکھی ہوں حرف دستا ہے ظہارا
اب رہی چکی نامہ کی حیثیت تو قدیم زمانے میں خواتین چکی پیستی ہوئی یا دھان وغیرہ کوٹتی ہوئی گیت گایا کرتی تھیں ، طبقۂ نسوان کی اس عادت وخصوصیت کو تعمیری اور اصلاحی رخ دینے کے لئے صوفیا کرام نے چکی نامے یا سہاگن نامے موزوں کر کے عورتوں کی دلچسپی کے لئے ان نظموں اور گیتوں میں ذومعانی الفاظ رکھ دیئے تا کہ ان کے بار بار پڑھنے سے ظاہری معانی کے ساتھ تصوف و اصلاح نفس پر مشتمل باطنی مطالب بھی انہیں متاثر کرسکیں ،بقول ’ڈاکٹر زینت ساجدہ‘ چکی نامے وغیرہ عورتوں کی زبان میں ہیں اور مخاطب بھی عورت ہی ہے۔ عورتوں کی بولی ٹھولی روز مرہ اور محاورہ ان کا مزاج ، ان کے جذبات ، عقائد و رسوم وغیرہ کی جیسی ترجمانی ان گیتوں میں ہوئی ہے اور کہیں نہیں ملتی۔ پھر تصوف کے اسرار و رموز سونے پہ سہاگہ کا کام کرتی ہیں‘‘۔ حضرت گیسو دراز کے چکی نامے کے چند اشعار پیش کئے جارہے ہیں، جس سے زبان کی نشونما اور اس کے ارتقائی عمل کا ہلکا سا یقین ذہن و دل پر مرتسم ہو جائے۔
پیو جاتر سوکے سکے
گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ
میانی محمد ہوکر بستا
گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ
شاہد ہاتھوں سے لے کر بہاؤ
گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ
پیر ومرشد مسلک جانو
گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ
اسی توبہ ستے ہونا
گئے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ
بہشتی میویہ شکر دھرو
گے ما بسم اللہ ہو ہو اللہ
دیکھو جب تک کی چکی
سوکن ابلیس کھینچ تہلکی
الف اللہ اس کا دستا
سچی طلب یوں کو دستا
دانے ہی سو چن چن لاؤ
شریعت سے چکی ہی آو
الف اللہ اس کا قانون
پیسو آٹا اس منے چناؤ
لازم وجود یاسن ہونا
ذات کی پانے آملی ہونا
آٹو پیسو پوریا پھرو
ساتوں صفتاں پورن بھرو
مذکور الصدر اشعار کے داخلی شواہد بھی اس ادعا کے لئے واضح دلیل ہیں کہ حضرت بندہ نوازگیسودرازؒ زبان اردو کے اولین شاعر وسخنورہیں، جن کا اتباع بعد کے شعراء نے کیا لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حضرت خواجہ بندہ نواز اردو کے سب سے بڑے محسن ومربی بھی تھے۔
اس مقالہ کی تیاری میں درجہ ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا: