مضامین سلسبیل

نو فارغ علماء کی خدمت میں چند گزارشات

مولانامحمد اویس رشادی

استاذ دار العلوم شاہ ولی اللہ بنگلور

اللہ کا انتخاب: اللہ نے جس کسی کو بھی حصول علم دین کی توفیق بخشی اس پر اس کو شکر بجالانا چاہئے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم نے بڑی سمجھداری سے کام لیا کہ ہم نے مدرسہ کا انتخاب کیا نہیں ہر گز نہیں بلکہ اللہ نے سارے انسانوں میں ہمیں علم دین سے نوازنےکے لئے منتخب کیا ہے، کتنے وہ طلبہ ہیں جو داخلہ کے وقت ہمارے ساتھ تھے مگر فارغ ہوتے ہوتے وہ ہم سے بچھڑتے چلے گئے کیا اب بھی یقین نہیں آتا کہ اللہ نے آپ کا انتخاب کیا ہے وہ لمحہ آپ کے لئے کس قدر خوش بخت لمحہ رہا ہوگا جس وقت اللہ نے آپ کا نام علماء کی فہرست میں شامل فرمایاہوگا ۔

۔ فللہ الحمد والمنۃ، الحمد للہ الذی ھدانا لہذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللہ۔

علم کی قدر: جب اللہ کے انتخاب کی وجہ سے ہم عالم بنے ہیں تو اس علم کی قدر ہم سب پر ضروری ہے علم کی قدر اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ علم اللہ کی صفت خاص ہے چنانچہ ارشاد باری ہے ؛

إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيْبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ( فاطر )، هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ ( حشر ) یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ( غافر)، يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ  ( بقرۃ )،

اس صفت کی کچھ چھینٹیں اللہ نے ہم پر ڈال دی ہیں چنانچہ

وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ( اسراء )

) علم کی قدر اس لئے بھی ضروری ہے کہ اللہ نے انبیاء کو علم سے نوازا ۔تمام انبیاء اپنے دور کے علماء گذرے ہیں اخیر میں سرور ِدو عالم محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو تمام انبیاء کے علوم کا جامع بنایا

اوتیت علم الاولین والاخرین ( الحدیث)

آپ کے علم سے صحابہ رضوان اللہ علیہھم اجمعین نے فیض پایا ،ان سے تابعین و تبع تابعین نے استفادہ کیا ،اس طرح یہ علم ایک تسلسل کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے اورکیوں نہ پہنچتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کو پہنچانے کی ان قدسی صفات افراد کو تاکید فرمادی تھی جنہوں نے آپ کے حکم کی تعمیل کو اپنا نصب العین بنالیا تھا،

بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَۃً ( بخاری)، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ منكمُ الغائِبَ ( بخاری، مسلم )، عَن ابنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَضَّرَ اللہُ عَبْداً سَمِعَ مَقَالَتِیْ فحَفِظَھَا وَوَعَاھَا وَاَدَّاھَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلی مَنْ ھُوْ اَفْقَہُ مِنْہُ ثَلٰثٌ لَا یَغُلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ اِخْلَاصُ الْعَمَلِ ِللہِ وَالنَّصِیْحَۃُ لِلْمُسْلِمِیْنَ وَ لُزُوْمُ جَماعَتِھِمْ فَاِنَّ دَعَوْتَھُمْ تُحِیْطُ مِنْ وَرَائِھِمْ (مشکوۃ المصابیح کتاب العلم )

لہذا اس کی قدر منزلت کو پہچانیں اس بیش بہا نعمت کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔
علم پر عمل:اس علم کی حقیقی قدردانی اور محافظت اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس علم پر پورے وثوق کے ساتھ عمل پیرا ہوں کیونکہ علم عمل ہی کے لئے موضوع ہے چنانچہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے فر مایا ۔

وَیْلٌ لِمَن لَا یَعْلَمُ وَلَا یَعْمَلُ مَرّۃً ، وَوَیْلٌ لِمَنْ یَعْلَمُ وَلاَ یَعْمَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ (جامع بیان العلم :۲؍۶)

یعنی جس نے نہ علم حاصل کیا اور نہ عمل کیا؛ اس کے لیے ایک مرتبہ خرابی ہے اور جس نے علم تو حاصل کیا؛ مگر عمل نہیں کیا، اس کے لیے سات مرتبہ خرابی ہے اور حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا ہے :

’ إنما العِلمُ لِیَتَّقِي اللّٰہَ بِہ ، و یَعمَلَ بہ لآخرتِہِ، و یَصْرفَ عن نَفْسِہ سُوئَ الدُّنیَا والآخِرَۃِ ، وإِلاَّ فَالعَالِمُ کالجَاھِل إذَا لَمْ یَتَّقِ اللّٰہَ بعِلمِہٖ۔‘‘ (تاریخ بغداد :۴؍۲۱۳)

علم تو بس اس لیے ہے کہ اس کے ذریعے اللہ سے ڈرے اور اپنی آخرت کے لیے عمل کرے اور دنیا اور آخرت کی برائی دور کرے ورنہ ( بے عمل ) عالم جاہل کی طرح ہے اگر وہ اپنے علم سے اللہ سے نہ ڈرے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم پر عمل کرکے دکھایا نماز کا علم اترا توفرمایا

صلوا کما رائیتمونی اصلی ( مشکوۃ ) ، حج کا علم اترا توفرمایا خذوا عنی مناسککم ( مسلم ، احمد نسائی )

، خوشی و غم کا علم نازل ہوا تو شکر و صبر کے ذریعہ عملی نمونہ پیش فرمایا اور اللہ نے آپ کے جملہ علم و عمل کو امت کے لئے نمونہ قرار دے دیا چنانچہ

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( احزاب )،

اس لئے علماء پر علم کے مقتضی کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔

علم و عمل میں اخلاص: علم و عمل کے مقبول و موثر  ہونے کے لئے اس میں اخلاص کی جان ڈالنا بھی عین منشاء خداوندی ہے چنانچہ ارشاد ہے

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لا شَرِيكَ لَهُ ( انعام )۔۔۔ ورنہ وہ ریا ہوکر شرک کے گڑھے میں جاگرے گا ۔۔۔۔مَنْ صَلّٰى يُرَائي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ( مشکوۃ )

اساتذہ کا احسان مانیں: علم یقیناً مہتم بالشان دولت ہے تو یہ دولت جن اساتذہ سے ملی ان کے احسان مند رہیں ان کا نام عظمت سے لیں گاہے گاہے ان کی خدمت میں پہنچ کر دعائیں لیں عقیدت کے ساتھ ان سے ملیں، اساتذہ سے میری مراد فقط بخاری و ترمذی اور صحاح کے اساتذہ نہیں اور نہ ہی مشکوۃ و ہدایہ کے اساتذہ ہیں بلکہ مکتب کا استاد بھی استاد ہے، جس سے آپ نے الف ب کی شناخت سیکھی ہے ،وہ نہ پڑھاتے اور تمہاری شرارتوں کو برداشت نہ کرتے تو تمہیں درس نظامی اور دورہ کے اساتذہ بھی نہ ملتے اور علم سے عاری رہ جاتے لہٰذا قاعدہ بغدادی ، نورانی قاعدہ کا استاد بھی اسی عظمت کا حق دار ہے جس قدر و منزلت کے حق دار علیا کے اساتذہ ہیں۔
ماں باپ کی خدمت و عظمت: علم کا مقام مسلم ، علم دینے والے اساتذہ کا مرتبہ بھی مسلم اس سے بڑھ کر یا اس جیسا ہی رتبہ والدین کا بھی ہے جنہوں نے حصول علم کے لئے اسباب مہیا کیے، لہٰذا ان کی خدمت کرنا اور تعظیم بجالانا بھی ہم پر فرض ہے، ماں باپ نے آپ کے لئے مدرسہ کا انتخاب اسی لئے کیاکہ انہیں دنیا و آخرت میں سرخروئی نصیب ہو، وہ یہ نہیں پوچھیں گے کہ آپ نے ہدایہ اور مشکوۃ کا نصاب مکمل کیا یا نہیں؟  نحو و صرف کی لیاقت کتنی ہے؟ شرح وقایہ و قدوری کو کیسے حل کیا؟ منطق و فلسفہ کس نے پڑھایا اور کتنا سمجھا؟ بلکہ وہ یہ دیکھیں گے کہ میرا یہ بیٹا میرا حق کتنا ادا کرتا ہے، کیا اس سے میری ضرورتیں پوری ہونگی؟ اس لئے اس بات کی پوری کوشش کریں کہ وہ آپ سے راضی ہوجائیں ان کی خدمت کریں ان کی ہر ضرورت پوری کریں ، اس وقت ان کے دل سے جو دعا آپ کے حق میں نکلے گی اس کا بدل دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوسکتی، انہیں دعاؤں سے بیشتر علماء ربانیین بنے قطب و ابدال بنے ۔
اخلاق:علم سے عمل اور عمل اخلاص والا مطلوب ہے اور عمل صرف نماز روزہ کا نام نہیں اور نہ ہی کسی تنظیم سے جڑ کر ملی سماجی خدمات انجام دینے کا نام عمل ہے بلکہ حسن اخلاق نیک سیرت ایمانی صفات کا حامل ہونا بھی عمل کا بڑا حصہ ہے ، اخلاق آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز ہے، سارے انبیاء اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے دنیا میں آ ئے، دنیا کے بیشتر مفکرین اور معلّمین کی نظر میں اخلاق کا درس خوشنما نظر آتاہے،مگر جب ان کے قریب جائیے تو فکر وعمل کا تضاد اور گفتار و کردار کااختلاف سامنے آتا ہے؛ لیکن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی گفتار جتنی پاکیزہ ہے، کردار اتناہی پاکیزہ نظر آتا ہے، تعلیم جتنی روشن نظر آتی ہے، سیرت اتنی صیقل دکھائی دیتی ہے، کہیں پر کوئی جھول یا کسی قسم کا کھوٹ نہیں وہ کون سا خلق حسن ہے جو آپ کی ذات گرامی میں نہیں تھا، انھیں ستودہ صفات میں ۱ ) حیاء ہے جس کو تمام اخلاق میں سب سے افضل اور عظیم ترین خلق قرار دیاگیا ہے، ۲) غصہ کو دبانا اور ضبط کرنا بڑی اعلیٰ صفت ہے جو برسوں کی ریاضت کے بعد کسی کو حاصل ہوتی ہے، ۳) وفا  انسانی اورایمانی صفت ہے جس کے اندر وفا نہ ہو وہ یقینا انسانیت اور ایمان کے کمال سے محروم ہے قرآن میں بدعہدی کو یہود جیسی مردود قوم کی صفت بتایاگیا ہے اورایفائے عہد کو مومنوں، متقیوں اور اللہ کے نبیوں کی صفت قرار دیاگیا ہے۔
یہ تینوں صفات اپنے اندر جامعیت رکھتی ہیں۔ حیا کے ذریعہ گناہوں سے اجتناب آسان ہوگا، غصہ پر قابو ہوگا تو بندوں کے حقوق تلف نہیں ہونگے، وفا ہوگا تو اللہ اور اس کے رسول کے بسہولت ادا ہونگے ، ہم سب کے آقا تاجدار حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم انسانیت کو اخلاقیت کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس کی گواہی باری تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ ( قلم ) ایک جگہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اخلاقیت کی گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاخَلَاقِ ( احمد ) مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں نیک خصلتوں اور مکارم اخلاق کی تکمیل کروں، اسی کو سراہتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے اخلاق حسنہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ كَانَ خُلُقُ نَبِيِّ اللَّه  الْقُرْآنَ ( مسلم )  لہذا ہم وارثین انبیاء کہلاتے ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اخلاق کی تعلیم دوسروں کو دیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے سانچے پر اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔
صفت تواضع :انہی صفات میں اعلی و ارفع صفت تواضع و فروتنی ہے، اسی کی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِی عَیْنِی صَغِیْرًا ( مجمع الزوائد) ، اَللّٰھُمَّ احینی مِسْکِیْنًا وَاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ المَسَاکِیْنِ ( ترمذی) گویا تواضع و مسکنت عین مقتضی پیغمبر بھی ہے اس صفت کے حاملین کے لئے بشارت بھی وارد ہوئی ہے  مَنْ تَوَاضَعَ للہِ رَفَعَہُ اللہُ ( مشکوۃ )   یہ حدیث بشارت و دعا کا مجموعہ ہے اس لئے حاملین علم نبوت ہم اور آپ کو چاہئے کہ ہم متواضع رہیں، اپنے لئے کوئی امتیازی مقام نہ چاہیں ،اپنا کام خود اپنے ہاتھوں سے کریں، یہ دونوں باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کو ملیں گی، لہٰذا نو فارغ علماء سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ خود اپنے ہاتھوں سے اپنا کام کریں، ہر چھوٹی بڑی چیز ڈھونے کے لئے شاگردوں میں آپ کا کوئی خاص خادم نہ ہو، اسی طرح سبزی لانے گوشت خریدنے سودا سلف پہنچانے کے لئے کسی مصلی کو خادم نہ بنائیں، بقول حضرت تھانوی قدس سرہ شاگرد اور مرید سے خدمت نہ لی جائے ۔ ایک اللہ والے کچھ سامان لے کر چلے جارہے تھے کسی نے مدد کرنی چاہی تو منع کردیا، فرمایا اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے میں جو مزہ ہے وہ کسی میں نہیں، نیز ڈاکٹر عبد الحی قدس سرہ اپنے مطب میں مریضوں کی تشخیص میں مشغول تھے، اتنے میں مفتی محمد شفیع صاحب گوشت کی تھیلی پکڑے چل رہے تھے، حضرت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کوئی کہے گا کہ یہ مفتی اعظم جارہے ہیں ایسی تواضع اور فروتنی ہمارے اکابر کی زندگیوں میں نظر آئے گی یہی قدسی اشخاص پیشوا بنائے جانے کے صد فی صد قابل ہیں اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
منصب تدریس:تحصیل علم سے رسمی فراغت کے فوراً بعد خدمت کا موقع میسر ہوجانا قبولیت کی نشانی ہے لہذا اگر تدریس کا موقع مل جائے تو ایک کامیاب مدرس بننے کی پوری کوشش کریں، ایک لمبا زمانہ تجربہ کا گذرے گا تجربہ کار اساتذہ کی رہبری میں اس خدمت کے حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کریں مفوضہ کتب اور مقررہ نصاب کو پورا کرنے کی لگن کے ساتھ طلبہ کی خیر خواہی کو ملحوظ خاطر رکھ کر پدری شفقت کے ساتھ پڑھائیں، اس دوران انتظامی امور میں دخل اندازی نہ کریں اور اپنی صلاحیت پر غرور کے نشہ میں کسی جدید یا قدیم استاد کی تحقیر سے بالکلیہ اجتناب کریں، مشاہرہ سے زیادہ خدمت کا وزن رہے چنانچہ کسی بزرگ نے اپنے فرزند کو تدریس کے لئے بھیجتے ہوئے فرمایا 150 روپئے کی تنخواہ لیکر 300 روپئے کی خدمت کرو ،اس سے تمہاری ترقی ہوگی خبردار 150 روپئے کی تنخواہ لے کر 100 روپئے کی خدمت نہ کرنا، اس سے زوال آئے گا اور زیادہ وقت مدرسہ میں خرچ کرو اس سے طلبہ کو ہمت ملے گی طلبہ کتاب سمجھنے میں تم سے رجوع ہونگے۔
منصب امامت : روز ازل سے ہر چیز طے ہے، جس طرح علم کے لئے اللہ نے آپ کو منتخب کیا اسی طرح کسی کو تدریس کے لئے منتخب کیا جاتا ہے ،کسی کو امامت کے منصب پر فائز کیا جاتا، تدریس سے خواص اور طالبان علوم نبوت کا فائدہ متعلق ہوتا ہے تو امامت سے عامۃ المسلمین کا فائدہ، امامت عظیم خدمت ہے نیز اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَۃُ للہِ وَلِرَسُوْلِہِ وَعَامَّۃِ المُسْلِمِیْنَ (بخاری) پر کامل و مکمل عمل ہوسکتا ہے جس مسجد کے آپ امام بنیں اس مسجد کے آپ کبوتر بن جائیں۔ کسی اللہ والے امام کے بارے میں یہ واقعہ منقول ہے کہ آدھی رات کو اس محلے میں ایک مردار بچہ پیدا ہوا، رات کے ۲ بجے محلہ والوں نے اس امام کا دروازہ کھٹکھٹایا، نیک صفت امام نے دروازہ کھولا چہرہ پر نہ غصہ کا اثر اور نہ ہی ناگواری کا اثر، سوال پر انھوں نے ایک کتاب نکالی مسئلہ بتادیا ،پھر پوچھا اس وقت آنے کی تمہاری اندر ہمت کیسے ہوئی ،مصلیوں نے کہا ہمیں یقین تھا کہ آپ دروازہ کھولیں گے، ناگواری کے اظہار کے بغیر ہمارے سوال کا جواب دیں گے۔
استغناء و خودداری :اللہ نے علم جیسی عظیم دولت کے لئے آپ کو منتخب کیا ، قال اللہ و قال الرسول کا درس دینے کے لئے چن لیا ، محراب و مصلی رسول پر کھڑے ہوکر نائب رسول کی حیثیت سے منصب امامت پر فائز کردیا ہے ،اس پر جتنا بھی شکر کیا جائے وہ کم ہے لہٰذا اس عظیم المرتبت مقام کے مل جانے کے بعد امراء و حکام سے تال میل دنیا طلبی کے لئے دنیوی جاہ کے لئے بالکل مناسب نہیں گویا عزت کا لبادہ اوڑھ کر ذلت کی کھائی میں گرنے کے مرادف ہے، اس شنیع حرکت سے اپنے دامن کو بچائیں، استغناء و خودداری کی زندگی جینا سیکھیں۔
شادی سادگی سے: ایک اہم امور کی طرف توجہ دلادینا بھی میں مناسب سمجھتا ہوں کہ فراغت کے فوراً بعد یا کچھ تاخیر سے شادی کا تقاضا پیدا ہوگا، جس طرح عوام کو رسوم و رواج سے گریز کرنے کی تاکید کی جاتی ہے، بے جا اسراف سے روکا جاتا ہے، وہیں ہم علماء کو بھی چاہئے کہ ہم بھی نکاح کو اسراف سے پاک رکھیں، لہٰذا نکاح پڑھانے کے لئے اپنے کسی استاد مربی پیر کا انتظار نہ کریں اور نہ ہی انھیں لانے لے جانے کے لئے سواری کا اہتمام کریں، ایسا کرنا یقیناً خلاف سنت ہوگا، چنانچہ محی السنہ شاہ ابرار الحق صاحب رحمہ اللہ کی بھانجی کا عقد تھا ،بہن صاحبہ جدید تعلیم یافتہ اور کسی اسکول کی پرنسپل تھیں، کافی رکھ رکھاؤ اور تکلف سے رہا کرتی تھیں، حضرت نے اس موقعہ پر انہیں راضی کرلیا کہ یہ نکاح ان کی نگرانی میں اور سنت کے مطابق سادگی کے ساتھ انجام پائے گا،حضرت فقیہ العصر مفتی محمود حسن گنگوہی قدس سرہ آپ کے استاذ تھے ، ان سے حضرت کو بڑی عقیدت اور محبت تھی، وہ بھی انھیں مثل اولادِ صالح کے بہت چاہتے تھے ، حضرت محی السنہ نے انہیں خط لکھا کہ میری بھانجی کا نکاح ہے اور تمام امور حتی المقدور سنت کے مطابق انجام پارہے ہیں، میری خواہش ہے کہ حضرت والا اس موقع پر تشریف لاکر عقد پڑھا دیں۔ حضرت مفتی صاحب نے جواب لکھا کہ اگر آپ یہ ثابت کردیں کہ نکاح پڑھانے کے لئے کسی کو باہر سے بلانا بھی سنت ہے تو میں آنے کے لئے تیار ہوں۔ ( حضرت محی السنہ ص ۴۵  مصنفہ مولانا عبد القوی صاحب مد ظلہ) ، اور لانے لے جانے میں جو پیسہ خرچ ہوگا وہ اسراف میں شمار ہوگا، نکاح کی برکت کم خرچ سے ہے نہ کہ کسی کے پڑھانے سے اور شریک ہوکر دعا کردینے سے ورنہ نکاح پڑھانے میں برکت متصور ہوتی تو ضرور عبد الرحمن بن عوفؓاپنانکاح پڑھانے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دیتے جب کہ صحابہ فضل وضو سے برکت حاصل کرنے والے ، موئے مبارک سے برکت حاصل کرنے والے ، عرق رسول سے برکت حاصل کرنے والے تھے مگر نکاح پڑھانے کے لئے حضور کو زحمت نہیں دی ۔ آپ اپنے اساتذہ و مشائخ کی خدمات کو اپنے عقد پر ترجیح دیں انھیں اس کام کے لئے زحمت نہ دیں، نیز شادی کی تقریب تصویر کشی سے پاک رہے نہ علحدہ اور نہ ہی اپنے رفقاء کے ساتھ تصویر کھنچوائیں ورنہ آپ کا وقار مجروح ہوگا اور علماء و صلحاء کی شبیہ خراب ہوگی۔
علماء حق کی شناخت اپنائیں: آپ کو اللہ نے علم سے آراستہ کیا اس علم کی ایک پہچان ہے، وقار، متانت، سنجیدگی، بلند حوصلہ ایثار کے خوگر بنیں، علماء حق کے لباس جیسا لباس پہنیں، علم ملنے کے بعد دنیا پرستوں کا لباس زیب تن کرنا گویا اپنی شناخت ختم کرکے اپنے وجود کو مٹانے کے مرادف ہے۔
پیش مردے کاملے پامال شو: یہ ساری تفصیلات کے بعد میں نو فارغ علماء سے التماس کروں گا کہ اپنے آپ کو کسی دست حق پرست کے حوالہ کردیں یہ حوالہ کرنا مردہ بدست غسال ہو، انہیں کی رہبری و رہنمائی میں اپنا راستہ طے کریں، آج جتنے کام پھلتے پھولتے نظر آرہے ہیں چاہے وہ مدارس کی شکل میں ہو یا دعوت و تبلیغ کی صورت میں ان سب کا مرجع خانقاہ کی خلوت گاہیں ہیں، وہیں سے ساری دینی تحریکوں کو کمک ملی ہے، یقیناً تصحیح نیت، صفت احسان وصول الی اللہ میں موثر ہے اور یہ حاصل ہوتا ہے کسی اللہ والے صاحب نسبت کے سامنے اپنے وجود کو پامال کرنے سے چنانچہ                
قال را بگذار مردے حال شو 
پیش مردے کاملے پامال شو
اہل حق صاحب نسبت قدسی انفاس سے یہ دنیا خالی ہوتی جارہی ہے، کیا ہی خوش نصیب وہ آنکھیں جنہوں نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی قدس سرہ کی زیارت کی ہیں بیشک وہ آنکھیں خوش بخت ہیں جن سے امام ربانی حضرت گنگوہی، حضرت سہانپوری، حضرت تھانوی، حضرت شیخ الحدیث اور فقیہ الامت محمود حسن گنگوہی قدس سرھم کو دیکھا گیا ہے آج یہ پاکیزہ نفوس باحیات نہیں مگر ان کے خلفاء اور خلفاء کے خلفاء موجود ہیں ( اللہ ان کے سایہ کو امت پر دراز کرے آمین) ان سے منسلک ہوکر سلوک کے منازل طے کریں۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا