میناروں سے مہکتی اذاں کی خوشبو
مولانا جواد احمد خان رشادی
استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور
اذان کا معنی آگاہ کرنا ، اعلان کرنا ، اصطلاحِ شرع میںمخصوص طریقے سے مقررہ الفاظ کے ذریعہ لوگوں کو نماز کا وقت شروع ہونے کی اطلاع دینا ، یعنی پانچ فرض نمازوں کو بلانے کے لئے اونچی آواز میںجو الفاظ کہے جاتے ہیں، اسے اذان کہتے ہیں ، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے ۔ جیسے قرآن میں کہا گیا واذن فی الناس بالحج یاتوک سورۃ الحج ۲۲۷ ، (اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو)
اذان در اصل اللہ کی کبریائی ، اللہ کی وحدت ، رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور فلاح وکامیابی کا اعلان ہے ، اذان اسلام کی ایک عظیم امتیازی شان ہے ، اسی سے ملک دارالاسلام محسوس ہوتا ہے ، طحاوی شریف میں صاف ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نےمسلمانوں کو حکم فرمایا کہ جس شہر یا گاؤں سے اذان کی آواز سنائی دے اس مقام پر حملہ نہ کرو۔ گویا اذان امن وامان کی دلیل ہے ، اذان رحمت ہے ، زحمت نہیں۔
اذان کو اسلام میں شعائر اسلام ہونے کا درجہ حاصل ہے ، جس طرح کعبہ ، حجر اسود، مقام ابراہیم ، بئر زمزم ، صفا ، مروہ ، منیٰ ، مزدلفہ ، میدانِ عرفات ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ شعائر اسلام میں ہیں اسی طرح اذان بھی شعائر اسلام میں سے ایک ہے ۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ نے اپنی تفسیر فتح العزیز میں تحریر فرمایا ہے کہ کعبہ ، عرفات ، مزدلفہ ، جمارِ ثلاثہ ، صفا ، مروہ ، منیٰ ، جمیع مساجد ، ماہِ رمضان ، اشہر حرم ، عید الفطر ، عید النحر ، ایام تشریق ، جمعہ ، اذاں، اقامت ، نماز ِ جماعت ، نماز عیدین؛ سب شعائر اسلام میں داخل ہیں۔ معلوم ہوا کہ اذان شعائر دین میں سے ہے ۔ قرآن مجید میں سورۂ حج کی آیت کریمہ ہے ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب اور جو کوئی ادب رکھے اللہ کے نام لگے چیزوں کا سو وہ دل کی پرہیزگاری کی بات ہے ۔
دنیا کی ہر قوم وجماعت کی ایک خاص پہچان ہوتی ہے ، جس کودیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ یہ فلاں مذہب یا نسل سے تعلق رکھتی ہے ، جس طرح عسکری یا تعلیمی وغیرہ مختلف اداروں کی پہچان ان کے لباس سے ہی ہوجاتی ہے اسی طرح مذہب اسلام بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے ، چونکہ اسلام دنیا کا مہذب اور منظم ترین مذہب اور دلکش شعائر کا حامل ہے ، اس کے ماننے والے خاص طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور خاص قسم کا اسلوبِ زندگی رکھتے ہیں ، مسلمانوں کی اصطلاح میں ان خاص چیزوں کو شعائر اسلام کہا جاتاہے ، یعنی اسلام کی علامت ۔
شعائر ، شعیر کی جمع ہے ، جس کے معنی علامت کے ہیں، جو چیزیں کسی خاص مذہب یا جماعت کی علامت سمجھی جاتی ہیںوہ ان کے شعائر کہلاتےہیں،شعائر اسلام ان خاص احکام کا نام ہے جو عرف میں مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں، حج کے اکثر احکام ایسے ہی ہیں ۔
من تقوی القلوب یعنی شعائر اللہ کی تعظیم دل کے تقوی کی علامت ہے ۔ ان کی تعظیم وہی کرتا ہے جس کے دل میں تقویٰ اور خوفِ خدا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ کا تعلق اصل میں انسان کے دل سے ہے ، جب اس میں خوفِ خدا ہوتا ہے تو اس کا اثر سب اعمال و افعال میں دیکھا جاتا ہے ۔
اذان کا حکم شریعت اسلامیہ میں کب آیا ، کب سے نماز کےلئے باقاعدہ اذان دی جانے لگی ، یہ ایک اہم اور اختلافی بحث ہے ، جس کے بارے میں مورخین و محققین نے کلام کیا ہے ، لہٰذا اذان کی تاریخی حقیقت جاننے کےلئے ایک الگ مضمون درکار ہے چونکہ اذان کی تاریخ کے حوالے سے مختلف نظریات پائے جاتےہیں ، جیسے کسی نے کہاکہ اذان کا حکم شب معراج کے موقع پر ہوا ، وہاں پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اذان دی اور اقامت کہی۔ اس کے بعد انبیاء علیہم السلام نے رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔ طبرانی میں یہ موجو د ہے ۔
اذان کا حکم ہجرت سے پہلے مکہ ہی میں نازل ہوا ،یہ امام بخاریؒ فرماتے ہیں۔
اذان کا حکم مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد رائج ہوا ، اہل سنت کے پاس یہی قول مشہور ہے ، یہ سیرت حلبیہ میںتحریر ہے ۔
اذان کا حکم ہجرت کے دوسرے سال نازل ہوا ،یہ فتح الباری میں مذکور ہے ۔
بعض نے کہا سب سے پہلے آسمان میں حضرت جبرئیل ؑ نے اذان دی اور زمین پر رسول اللہ ﷺ کی مدینہ منورہ ہجرت کے بعد اذان شروع ہوئی ۔
گویا اذان اذکارِ الٰہی میں ایک بہت بڑے رتبے کی حامل ہے ، اس میں بیک وقت توحید و رسالت کی علی الاعلان گواہی دی جاتی ہے ، اس سے اسلام کی شان اور برکت کا اظہار ہوتا ہے ، لہٰذا اذان کا احترام اور دل سے محبت ہر مومن کا ایمانی تقاضہ ہے ۔
اذان سے اسلام کی شان اور برکت کا اظہار ہوتا ہے ، احادیث میں اذان کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء اور شہداء کے بعد اذان دینے والے جنت میں داخل ہوںگے ۔ بعض احادیث میں ہے کہ موذن کا درجہ شہداء کے برابر ہے اور فرمایا کہ جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے وہاں تک سب چیزیں قیامت کے دن اذان دینے والے کے ایمان کی گواہی دیں گی اور یہ بھی ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان دینے میں کس قدر ثواب ہے اور پھر ان کو یہ منصب بغیر قرعہ ڈالے نہ ملے تو وہ ضرورقرعہ ڈالیں گے ، یعنی سخت کوشش کریں گے ، نیز فرمایا کہ اگر کوئی شخص سات برس تک محض ثواب کے واسطے اذان دے تو اس کے لئے جہنم سے نجات اور جنت کی خوشخبری ہے ۔
اذان کے وقت شیطان پر نہایت خوف اور ہیبت طاری ہوتی ہے جس سے وہ بد حواس ہوکر بھاگتا ہے ، اورجہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے نہیں ٹہرتا۔ جس مقام پر اذان دی جاتی ہے ، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور وہ مقام آفات و بلاؤں سے محفوظ رہتاہے ۔
خواب پہلی اذان پر ٹوٹا
ہم تھے دریا میں کودنے والے
کیا اذان لاؤڈ اسپیکر میں دینا ضروری ہے ، جی نہیں ، نبی کریم ﷺ کے مبارک دور میں اور بعد میں تابعین وتبع تابعین کے بعد بھی لاؤڈ اسپیکر نہیں تھا
مرے کانوں کو دستک کی ضرورت نہیں
مجھے عشق اٹھاتا ہے اذاں سے پہلے
اس وقت اذان مسجد کے مینارے سے یا چبوترے پر کھڑے ہوکر دی جاتی تھی تاکہ دور تک اذان کی آواز پہنچ سکے ،
خواب گاہوں سے اذانِ فجر ٹکراتی رہی
دن چڑھنے تک خامشی منبر پہ چلاتی رہی
اذان لاؤڈ اسپیکر پر دینے کی ممانعت بھی نہیں ہے ، ہاں اسلام میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ لوگوں کو تنگ نہیں کیا جائے ، کسی کو ہماری طرف سے ذرا برابر بھی تکلیف نہ پہنچے ، خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم ۔ جیسا کہ حجرِ اسود کابوسہ لینا مسنون ہے لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت عمرؓ کو اس بات کی تاکید فرمائی کہ تم قوی آدمی ہو ،لوگوں کو تکلیف دو گے ، لہٰذا آواز کم سے کم رکھی جائے تاکہ مقصد بھی پورا ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف بھی نہ ہو۔
اذان سے نیند میںخلل پڑنے یا اس سے ڈسٹرب ہونے کی شکایت حالیہ دنوں میں جس طرح سامنے آئی ہے ، اس کا فلسفہ سمجھ سے باہر ہے ۔ چونکہ آج کل ٹماٹر فروخت کرنے والا ہو یا چوہوں کو مارنے کی دوا بیچنے والا ہو ، ہر پھیری والا ،یہاںتک کہ کچرا کوڑالے جانے والا بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے لگا ہے ، کیا حکومت ان پر بھی پابندی لگانے پر غور کرے گی ؟
ناقوس کی صداؤں سے اور نہ اذاں سے
نفرت ہے اس کو ملک کے امن و اماں سے
جہاں تک اذانِ فجر کا معاملہ ہے ، اگر اس علاقے میں برادرانِ وطن بھی رہتے ہوں تو ضرور اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ ہماری طرف سے کسی کو اذیت نہ ہو ، اسلام کی تعلیمات میں اعتدال اور میانہ روی کا بہت زیادہ خیال رکھا گیا ہے، شریعت نے بلا ضرورت حد اعتدال سے بڑھ کر آواز بلند کرنے کو ناپسند کیا ہے ، قرآن مجید میں خود اللہ کا ارشاد ہے واقصد من مشیک و اغضض من صوتک چال میں اعتدال رکھو اور آواز کو ہلکی رکھو۔(سورۂ لقمان ، آیت ۱۹)
قرآن کریم کی تلاوت سے بڑھ کر کیا عمل ہوسکتا ہے ،لیکن اس میں بھی میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہوا ہے ۔ مسلمانانِ ہند کو ذرا ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے اور ہوش و حواس سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ پابندی لاؤڈ اسپیکر پر لگی ہے ، اذاں پر نہیں ۔ جہاں مسجدوں کو حکم ہوا ہے وہیں دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے روکا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ساری دنیامیں ہر وقت توحید و رسالت کی گواہی دی جاتی رہتی ہے ، ایک لمحے کے لئے بھی یہ بند نہیں ہوتا ، قدرت کا عجیب و غریب نظام ہے کہ پورے عالم میں چوبیس گھنٹے اذان کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے اور یہ سلسلہ تا قیام قیامت جاری رہے گا ، جب تک اذان ہوتی رہے گی تب تک یہ دنیا باقی رہے گی ، جب یہ سلسلہ بند ہوگا تو قیامت قائم ہوگی ۔
نہ نکلنے پر تھا بضد سورج
پھر کسی کی اذاں سے نکلا