مضامین سلسبیل

فتویٰ نویسی سے متعلق خصوصی ہدایات

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

شیخ الحدیث و نائب صدر دارالعلوم کراچی

(پہلی قسط )
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت افاضاتہم،نے دارالافتاء یوکے لندن(برطانیہ)میں اپریل ۲۰۱۸ء کو علماومفتیان کرام سےخطاب فرمایا،اس کاعنوان ’’اصول وآدابِ افتاء‘‘ہے۔فتوی نویسی کے ضروری اوراہم ضابطوں سے متعلق حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب عمت فیوضہم کاخطاب سن کر ارادہ ہواکہ اسے تحریرکرکے قارئین سلسبیل کے افادے کے لئے قسط وار پیش کیا جائے تاکہ ہرخاص وعام اس کلیدی خطاب سے محظوظ ہوں ۔اس خطاب کو سپردقرطاس کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ اس میں جوآدابِ افتاء ہیں،وہ بڑے حضرت علامہ شاہ ابوالسعود احمدؒصاحب بانی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلوراور حکیم الملت حضرت مولانامفتی محمد اشرف علی صاحبؒ مفتیٔ سبیل الرشاد بنگلورکے مقررکردہ اصولِ افتاء کے عین مطابق ہیں۔ان ہی اصولوںکی تلقین حضرت مفتی صاحب ؒہم خردوں کوفرماتے تھے اور حضرت امیر شریعت سوم حضرت مولانا مفتی صغیر احمد صاحب رشادی عمت فیوضہم بھی ان ہی اصولوں پر کار بند اور اسی کے مطابق فتوی لکھنے کی تعلیم وترغیب فرماتے ہیں ۔
محرر: مولانا محمد اعجاز خان رشادی 
معاون دارالافتاء سبیل الرشاد بنگلور

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین وامام المرسلین وقائد الغرالمحجلین وعلی اٰلہ واصحابہ اجمعین وعلی کل من تبعہم باحسان الی یوم الدین امابعد 

حضراتِ علمائے کرام ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
مولانا محمد بن آدم صاحب اس مجلس کے لئے عرصۂ دراز سے مجھ سے فرمائش کررہے تھے اور کچھ موضوعات توخود انہوں نے انتخاب کئے ، ان میںسے میں چند مسائل کے بارے میںاپنے بزرگوں کو جس طرح دیکھااور بزرگوں کاجوطرزعمل اللہ تبارک وتعالی نے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائی، اس کے بارے میںکچھ گذارشات پیش کرتاہوں۔
پہلی بات شرائط اوراہلیتِ افتاءہے،یعنی شرائط کیاہیں اور فتوی دینے کی اہلیت کب پیدا ہوتی ہے ،یہ اس لیے بھی ضروری ہوگیاہے کہ اس موضوع پر بات کرنا کہ آج کل -اگربے تکلفی میں کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگاکہ-  تھوک کے حساب سے مفتی موجود ہیں ۔یعنی ہروہ شخص کہ جس نے درسِ نظامی پڑھ لیا،اور آج کل درسِ نظامی کے بعد تخصص فی الفتوی  کی ایک ریل پیل ہے۔
پاکستان میںکم ازکم میرے علم کے مطابق سب سے پہلےتخصص فی الافتاء  کادرجہ ہمارے والدماجدحضرت مولانامفتی محمد شفیع صاحبؒ نے قائم فرمایاتھا،میںاورمیرے بڑے بھائی حضرت مولانامفتی محمد رفیع صاحب (صدردارالعلوم کراچی)اس کے پہلے طالب علم ہیں، اِس وقت تک کہیں اور تخصص فی الافتاء   نہیں ہواکرتاتھا،بعد میں جب شروع ہواتویہ صورتِ حال ہوگئی کہ سال بھر بلکہ سال بھرمیں بھی نومہینے کسی جگہ کچھ جزئیات یاد کرلئے اوراس کے بعد آدمی مفتی کہلانے لگا،بلکہ مفتی کالفظ اب اتنازیادہ عامیانہ اورصوفیانہ ہوگیاہے کہ ہراُس شخص کے ساتھ کہ جس کا علم کے ساتھ کوئی تعلق ہو تواس کو مفتی کے ساتھ یادکیاجانے لگا کہ مفتی فلاں صاحب ، مفتی فلاں  صاحب ۔اورابھی کچھ دنوں پہلے ایک صاحب جومجھ سے دورۂ حدیث میں پڑھے ہوئے تھے ،اُن کاکوئی ایک کلپ میرے پاس آیا،اس میں ان کے نام کے ساتھ لکھا ہواتھا کہ مفتی فلاں ۔اور’مفتی فلاں‘ لکھنے کی وجہ یہ کہ میں نے درجۂ تخصص فی الفتوی میں داخلہ لے لیاہے ،تودرجۂ تخصص میں داخلہ لینے کے بعدہی سے انہوںنے اپنے آپ کو مفتی تصور کرلیا۔ لوگوں کی زبانوں پر بھی مفتی کالفظ اتناعام اورصوفیانہ ہوگیاہے کہ ہرایک شخص کے ساتھ مفتی کالفظ لگا ہوا ہے ۔
اس لئے اس دور میں خاص طور پراس بات کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ مفتی کیاچیزہے ؟۔
یہ صرف درس نظامی پڑھ لینے کانام نہیں ، یہ صرف جزئیاتِ فقہ یاد کرلینے کانام نہیں ۔یہ صرف کتابوں کے الفاظ ونقوش یاد کرلینے کانام نہیں ۔ یہ فتوی کی اہلیت صرف کتاب پڑھنے سےحاصل نہیں ہوتی ۔کتاب توبہرحال وہ ایک ذریعہ ہے ، جو لازمی ہے ، لیکن جب تک کسی شخص نے مدتوں کسی ماہرمفتی کی صحبت میں رہ کر فتوی کا مزاج ومذاق نہ سیکھاہو،اس وقت تک اس کو مفتی کہنااورکہلانا،اِس کی کوئی گنجائش نہیں ۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کاقول میں نے اپنی کتاب ’’اصول الافتاء‘‘ میں نقل کیاہے کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے فتوی دینایامفتی کہلانا جب تک کہ اس نے ماہراساتذہ کی صحبت میں رہ کر فتوی کامزاج ومذاق پیدانہ کیاہو ، اب یہ مزاج ومذاق یہ ایک ایسالفظ ہے کہ جس کی جامع ومانع ’’حدِّ تام ‘‘کرنامشکل ہے۔یہ ملکہ ہے ، ملکۂ فقہیہ ہے ، جو اللہ تبارک وتعالیٰ ماہر حضرات کی صحبت سے عطافرماتے ہیں ان کے ساتھ ممارست کےذریعےعطافرماتے ہیں ،کتابیںدیکھ لینے سے یاکتابوں کے فقہی جزئیات محض یاد کرلینے سے وہ ملکہ حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ کسی ماہر مفتی کے زیرتربیت انسان نے کام نہ کیاہو۔
میں اپنے والد ماجد قدس اللہ تعالی سرہ کی یہ بات نقل کرتاہوں کہ ہمارے یہاں (دارالعلوم کراچی میں) تخصص فی الفتوی -سب جانتے ہیں -تین سال کاہوتاہے ،اس میں تین سال لگتے ہیں اورطالب علم جب داخل ہوتاہے تواس کویہ کہہ دیاجاتاہے کہ تین سال کایہ کورس ضرور ہے اوراس تین سال کے کورس کے بعد آپ کو یہ تصدیق نامہ تو بے شک دیدیاجائے گاکہ آپ نے تین سال تک یہاں فتوی کی تربیت لی ہے ، لیکن مفتی کی سرٹیفکیٹ ہم اس وقت نہیں دے سکتے جب تک کہ ہمیں اس بات کااطمینان نہ ہوجائے کہ فتوی کاصحیح مزاج ومذاق آپ تک پہنچ گیاہے،آپ کے اندر پیدا ہوگیا ہے ۔ بعض ایسے بھی پاکستان کے ہمارے ساتھی ہیں جو ہمارےتخصص فی الفتوی کے درجے کے اندرآئے، صرف چھ مہینے انہوں نے ہمارے ساتھ کام کیااورچھ مہینے کے بعد ہم نے ان کو مفتی قراردیدیا۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جوتین تین سال تک ہمارے ساتھ رہے ہم نے انہیں مفتی قرار نہیں دیا،ان کو ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں تصدیق نامہ دیتے ہیں کہ انہوں نے تین سال ہمارے پاس پڑھاہے ، لیکن مفتی کاخطاب یہ ان کو دینے کے ہم پابند نہیں ۔باوجود تخصص فی الافتاء کرنے کے ۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ صرف کتابیں پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتا ۔ بلکہ یہ درحقیقت ایک خاص مزاج ہے ، مذاق ہے ، ملکہ ہے ، جو مفتی کے لئے ضروری ہے، اس کے بغیر مفتی نہ بنتاہے اور نہ کہلانے کامستحق ہوتاہے۔ یہ مزاج ومذاق کیاہے ،تو میں نے جیسے عرض کیاکہ اس کی کوئی ’’حدِّ تام‘‘جامع مانع تعریف نہیں کی جاسکتی ۔یہ ایک خوشبو ہے،ایک ذائقہ ہے جو اللہ تبارک وتعالی صرف ’’ماہر اساتذہ کی صحبت‘‘ کے نتیجے میں عطافرماتے ہیں۔ 
میںکہاکرتاہوںجیسے گلاب کی خوشبواورچنبیلی کی خوشبو ان دونوں کے درمیان فرق ہے کہ نہیں ۔لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ گلاب کی خوشبو کی کوئی جامع مانع تعریف کروجواس کو چنبیلی سے ممتازکردے تو یہ کسی کے بس میں نہیں۔کوئی بڑے سے بڑامنطقی گلاب کے خوشبو کی تعریف نہیں  کرسکتا ۔ آم بھی میٹھاہوتاہے اورخربوزہ بھی میٹھاہوتاہے،لیکن آم کی مٹھاس اورخربوزہ کی مٹھاس میں کیافرق ہے،اس کی اگرکوئی جامع مانع تعریف کرناچاہے کہ خربوزہ کی مٹھاس کی تعریف یہ ہے اورآم کی مٹھاس کی تعریف یہ ہے تو وہ کرنہیں سکتا۔اس کاواحد حل کیاہے ؟۔ حل یہ ہے کہ اگر گلاب کوسمجھناہے تو اس کوسونگھناہوگااورچنبیلی کی تعریف معلوم کرنی ہے تواس کو سونگھناہوگا۔آم کی مٹھاس سمجھنی ہے توآم کو چوسناہوگا۔یہ محض کتاب اورمحض الفاظ کے ذریعےاس کاعلم حاصل نہیں ہوسکتا۔
یہی بات فتوی کے اندریہ ہے کہ فتوی کاایک مزاج ہوتاہے اوراس کاایک مذاق ہوتا ہے ، اس مزاج ومذاق کے تحت اللہ تبارک وتعالی جو ملکہ عطافرماتے ہیں وہ صرف صحبت سے حاصل ہوتا ہے ۔جس کی صحبت میں رہ کر بندہ نے افتاء کی تربیت حاصل کی ہو،اُسی کواللہ تبارک وتعالی وہ مزاج ومذاق عطافرماتے ہیں ۔
اسی لئے سب سے پہلے اس بات پرمتنبہ -میں اپنے آپ کو پہلے ۔اوراپنے واسطے سے دوسرے حضرات کوکرناچاہتاہوں کہ سچی بات ہے کہ مفتی جوہے وہ بہت بڑامنصب ہے، اتنا بڑا منصب ہے کہ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ اورعلامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو توقیع عن رب العالمین سے تعبیر فرمایاہے ۔ 

توقیع عن رب العالمین یعنی کہ جب کوئی مفتی فتوی دیتاہے تووہ درحقیقت رب العالمین  کی طرف سے دستخط کررہا ہوتاہےکہ جب کسی انسان سے پوچھاجائے کہ یہ چیزحلال ہے یاحرام ہے تو

وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ (النحل:116)

اللہ تعالی نے یہ فرمایاکہ یہ انسان کاکام نہیں ہے کہ یہ کہے کہ یہ حلال ہے یایہ حرام ہے ۔یہ کام تو کس کاہے ؟ ۔ اللہ جل جلالہ کاہے۔اگرہم یہ کہہ رہے ہیں کہ شریعت میں یہ حلال ہے تو ہم اللہ جل جلالہ کی طرف سے نائب بن کر ،اُس کے وکیل بن کر ہم دستخط کررہے ہوتے ہیں ۔تویہ توقیع عن رب العالمین ہے ، تو درحقیقت اتنانازک کام ہے ۔

حضرت امامِ مالک ؒ جیساشخص -میں نے چاروں فقہ کامطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے ، خاص طور سے جب میں ’’فقہ البیوع‘‘لکھ رہا تھا اورتکملۃ فتح الملہم لکھنے کے دوران بھی میں نے چاروں فقہ کاجائزہ لینے کی کوشش کی ، جس قدرتدقیق امام مالک ؒ کے مذہب میں نظر آئی ، کسی مذہب میں نہیں ہے،جتنی تفریعات ان کےمذہب میں نظرآئی کسی اورمذہب میںنہیں۔لیکن وہ امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ جب تک مجھے اپنے وقت کے سترعلماء نے اجازت نہیں دیدی اس وقت تک میں نے فتوی دیناشروع نہیں کیا۔سترعلمائے وقت نے جب یہ کہہ دیاکہ ہاں تم اب فتوی دے سکتے ہو تو میں فتوی دینے کے لئے بیٹھا ۔میں نے یہ بات کتاب میں نقل کی ہے کہ اس کے باوجود ان کو کبھی’’ لاادری ‘‘کہنے سے کوئی شرم محسوس نہیںہوئی ،اتنابڑاامام -ان کے ایک شاگرد کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بیٹھاہواتھا۔ 

لوگ آرہے تھے، سوالات کررہے تھے،پوچھ رہے تھے، توہرایک سوال کے جواب میں کہہ رہے تھے  لاادری،لاادری تو میں نےاس کاعدد کتاب میں لکھاہے ، ان کے شاگردنے ذکرکیاہے کہ امام مالک ؒ نے اکثر سوالوں کے جواب میں’’ لا اد ری  ‘‘کہاہے ،میں نہیں جانتا، مجھے نہیں معلوم ۔ اوراللہ تبارک وتعالی نے ان سے پھر وہ کام لیاکہ اس کا شمارکرنا ممکن نہیں ہے ۔اورحضرت امام مالک ؒ کے تلامذہ نے ان کاعلم پھیلایااورساتھ میں رہنے والے کسی شخص نے ایک مسئلے کے بارے میں ان سے کہاکہ حضرت یہ تو خفیف سامسئلہ ہے ۔معمولی سامسئلہ ہے ، تو فرمایاکہ لیس فی الفقہ شئ خفیف کہ فقہ میں کوئی چیز خفیف نہیں ہوتی ۔اس واسطے یہ کہہ کرمیں اس وقت تک جواب نہیں دے سکتاجب تک کہ اس کاعلم یقینی درجےمیں حاصل نہ ہوجائے ۔ اتنے بـحرذخار ہونے کے باوجود ان کی احتیاط کایہ عالم تھا ۔اللہ تبارک وتعالی اپنی رحمت سے ہمیں اِس خطرہ سے کہ جب کوئی شخص مستفتی بنتاہے ،سوال کرتاہے تو بزرگوں نے فرمایاکہ وہ مفتی کو ،جواب دینے والے کو، اپنے اورجہنم کے درمیان ایک واسطہ بناتاہے ۔کہ میں جہنم میں نہ جائوں اورجوکچھ ذمہ داری ہے وہ اِس شخص کے کاندھے پرہے۔
امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھاگیاکہ آپ کو ہم ہروقت دیکھتے ہیں کہ فکر مند رہتے ہیں، مغموم رہتے ہیں۔توایساجیسے کوئی آدمی ہشاش بشاش ہواکرتاہے، اُس طرح کی کیفیت نہیں ہوتی ۔یہ میں نے اپنے والد ماجد رحمہ اللہ سے سناہواواقعہ ہے کہ امام محمد ؒ نے جواب دیاکہ  مَابَالُ رَجُلٍ جَعَلَ النَّاسُ عُنُقَہٗ قَنْطَرَۃً اِلَی الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ اس شخص کاکیاحال پوچھتے ہو، جس کی گردن کو لوگوں نے جنت وجہنم کے درمیان ایک پل بنالیاہے ،اس پل سے گذرکے جنت یاجہنم میں جاتے ہیں اورساری ذمہ داری اس گردن کے اوپر ہے ،اوروہ گردن قنطرہ بنی ہوئی ہے ، پل بنی ہوئی ہے۔
ایک طرف تو یہ عالَم اِن حضرات کاہے ، امام مالک ؒ کا،امام ابوحنیفہؒ کا،اما م شافعی ؒکا۔ حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ جب بھی مجھ سے کوئی مسئلہ پوچھتاہے توتھوڑی دیر کے لئے میں اپنے آپ کو جنت اورجہنم دونوں پر پیش کرتاہوں کہ میرایہ جواب مجھے جنت میں لے جائے گایاجہنم میں لے جائے گا ۔ ایک طرف تویہ حال ہے ۔
دوسری طرف فتوی کو آج کل ایسابنالیاگیاہے کہ ہرایک آدمی مفتی بننے کے لئے تیار ہے ،میری رائے یہ ہے ۔I Think that is halal w haram اوریہ کہتاہے کہ یہ چیزحلال ہے یاحرام ، ہرایک آدمی اپنی رائے پیش کرنے کو تیارہے ،اورمفتی بننے کو تیارہے ۔
مجھے کچھ ایسایاد پڑتاہے کہ پہلے زمانے میں حضرت والد صاحبؒ فتوی تولکھاہی کرتے تھے، لیکن ٹیلیفون پربھی لوگ بہت مسائل  پوچھاکرتے تھے ،توجب کوئی ٹیلی فون پر مسئلہ پوچھتاتھاتومیں سائل سے سوال سن کر حضرت والد صاحب ؒ سے ذکرکرتاتھاکہ یہ سوال پوچھ رہاہے و ہ شخص، تو والد صاحب نے فرمایاکہ ٹیلی فون مجھے دو ،میں جواب دوں گا،تم مجھ سے سوال بیان نہ کرو،اس لئے کہ پتہ نہیں کہ اس نے کیا کہا ہوگا ،تم نے کیاسمجھااورکیاسوال کردیا ۔ پھر میںجوجواب دوں گا توپھرپتہ نہیں تم کتناسمجھوگے ۔ اورکتنااس کو سمجھائوگے۔ والد صاحب ٹیلی فون پرمستفتی سے براہ ِراست با ت کرتے تھے ۔
پھرایک وقت ایساآیاکہ فرمانے لگے تم سوال فون پر ان سے سن کر مجھ سے ذکرکردیا کرو ، تو میں نےان سے سوال سنا اور حضرت والد صاحبؒسے ذکرکیاانہوں نےجواب دیااورمیں نے نقل کردیا۔
کسی ایک موقع پرایساہواکہ ایک معمولی سی بات کسی نے پوچھی،جوبالکل سامنے کامسئلہ تھاتو میں نے جواب بتادیااورحضرت والد صاحبؒسے ذکر کیاکہ فلاں صاحب کافون آیاتھااورانہوں نے یہ مسئلہ پوچھاتھاتومیں نے یہ جواب دیدیاچونکہ یہ جواب آپ سے باربار سنا ہوا تھا ،اس لئےمیں نے جواب دے دیا فرمایا:کیوں جواب دیا،جب تم مفتی نہیں ہو توجواب کیوں دیا؟اگرچہ صحیح جواب دیاہو،تب بھی تنبیہ فرمائی ۔ خطاگرراست آید ہم خطااست۔ اگرغلطی صحیح ہوجائے توبھی وہ غلطی ہے ۔ تمہیں ابھی حق نہیں ہے کہ تم جواب دو ۔تم کسی سوال کافتوی دو۔اس طرح کرکےمیری تربیت فرمائی۔
پھرایک وقت آیاتوفرمانے لگے جومعمول کےسامنےکے اورمشہورومعروف مسائل ہوتے ہیں  ان کے جواب تم دے سکتے ہو۔ اس طریقے سے والد صاحبؒ نے تربیت فرمائی اور پھر تحریروتقریر کے ذریعے مدتوں؛ جب تک حضرت والد ماجد ؒ حیات رہے تو میں نے کوئی تحریر حضرت والد ماجد کو سنائے بغیر یااُن کو دکھائے بغیر نہ کوئی فتوی جاری کیا، نہ کوئی کتاب یاکوئی مضمون شائع کیا۔ایک ایک لفظ حضرت والد ماجدؒ دیکھاکرتے تھے۔
اس وقت پہلی بات تو یہ عرض کرنی ہے کہ فتوی معمولی چیز نہیں ہے۔یہ ہرایک کے بس کاکام نہیںہے ،اِس کے لئے ممارست ضروری ہے اورملکۂ فقہیہ ضروری ہے ۔
(جاری )

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا