مضامین سلسبیل

قرآنی فارمولے

مولانا غیاث احمد رشادی

صدر صفابیت المال انڈیا

نہرِ سبیل ’’سلسبیل‘‘ کے قارئین کی خدمت میں قسط وار قرآنی فارمولے پیش کرنے کی احقر سعادت حاصل کررہا ہے۔ تیسرے شمارے میں احقر نے حصولِ جنت کا فارمولہ، قربِ الٰہی کا فارمولہ نیز حصولِ توبہ کا فارمولہ آیاتِ قرآنی کی روشنی میں پیش کیا تھا ۔جو شمارہ آپ کے ہاتھوں کی زینت بنا ہوا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت پانے کے قرآنی فارمولے پیش کرنے کا زرین موقع مجھے مل رہا ہے۔ 
ایک نیک بخت بندے کے لئے سب سے بڑی سعادت اور خوشی اسی میں ہوگی کہ اس کا حقیقی پروردگار اس سے محبت کا اعلان کردے اور نیک بخت بندوں کیلئے تنبیہ ہے ان آیتوں میں جن میں یہ اعلان کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت نہیں کرتا ۔ ذیل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پانے کے فارمولے پیش کئے جارہے ہیں: 
اللہ کی محبت پانے کا ایک فارمولہ یہ ہے کہ اپنے گناہوں پر سچی توبہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں ، اگر کوئی بندہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب حقیقی کا محبوب بن جائے تو چاہئے کہ وہ اپنے چھوٹے بڑے گناہوں پر سچی توبہ کرے اور ہر اعتبار سے پاک رہے ، چاہے وہ پاکی ظاہری ہو یا باطنی۔
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۲۲ میں حیض سے متعلق احکامات بیان کرتے ہوئے یوں کہاگیا اِنَّ  اللہَ  یُحِبُّ  التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۱۰۸ میں مسجدوں کی بنیاد تقویٰ پر رکھے جانے کی بات کرتے ہوئے اور اس مسجد کے ماحول میں ایسے لوگوں کے رہنے کی بشارت دیتے ہوئے کہ اس میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ خوب پاک صاف رہیں، یہ بات کہی گئی کہ وَاللہُ   یُحِبُّ  الْمُطَّھِّرِیْنَ اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ بندۂ مومن تقویٰ کی روش اختیار کرے۔ سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۴ میں یہ کہاگیا کہ اِنَّ  اللہَ   یُحِبُّ  الْمُتَّقِیْنَ بیشک اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں  سے محبت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو وہ فاسق و فاجر پسند نہیں ہیں جن کے دل تقویٰ کی کیفیت سے محروم ہیں۔ جب اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ کے لئے پرہیزگاری اختیار کرتا ہے اور حلال چیزوں پر اکتفاء کرتا ہے اور حرام امور سے گریز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ بندہ نیک کاموں میں لگا رہے۔ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۴۸ میں یوں کہا گیا فَاٰتٰھُمُ اللہُ  ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ ط  وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کا ثواب بھی دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی بھی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ جب بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی محبت میں نیک اعمال کرتا ہے اور نیکو کاری کو اپنا شعار بنالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بندہ محبت کا حقدار بن جاتا ہے۔ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۱۳ میں بنی اسرائیل کی عہدشکنی کا تذکرہ کیاگیا اور ان کی خیانت کا بھی ذکر کیاگیا اور یہ بات بتلائی گئی کہ اِنَّ اللہَ  یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ بیشک اللہ نیک کام کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۹۳ میں بھی یہ بات کہی گئی وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اور اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے ۔ 
اللہ تعالیٰ کی محبت پانے کا ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ بندہ مومن زندگی کے تمام امور میں صبر و تحمل سے کام لے اور ناموافق حالات میں برداشت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے۔ اللہ کی راہ میں جہاد اور بوقت جہاد صبر و برداشت کا تذکرہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۴۶ میں کیاگیا اور یہ خوشخبری دی گئی کہ وَاللّٰہُ  یُحِبُّ  الصّٰبِرِیْنَ اور اللہ صبر کرنے والوں کو ہی چاہتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کی محبت کو پانے کا ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ بندۂ مومن اس زندۂ جاوید رب ذوالجلال پر توکل کرے جس کے ہاتھ میں کُل کائنات ہے۔ جب بندہ دنیا کی اس زندگی میں دنیوی اسباب اختیار کرتے ہوئے رب ذوالجلال پر بھروسہ کرلیتا ہے تو اس کا یہ بھروسہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بنادیتا ہے۔ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۵۹ میں رسولِ رحمت ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے یوں کہا گیا فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں ،بیشک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ اس کا بندہ اس کے علاوہ کسی اور پر نظریں جمائے اور اس سے امیدیں وابستہ رکھے اور اس کے علاوہ کسی اور سے کاموں کے بننے کا یقین رکھے بلکہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا بندہ اسی پر بھروسہ اور توکل کرے۔ اگر ہم واقعی اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں محبت کی نظر سے دیکھے تو ہمیں اس ایک رب پر توکل کرنا ہوگا اور جب ہم اس رب حقیقی پر توکل کرلیں گے تو وہ رب ذوالجلال ہم سے محبت کرے گا۔ 
اللہ تعالیٰ کی محبت کو پانے کا ایک اور فارمولہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی اس زندگی میں آدمی عدل و انصاف کو اختیار کرلے اور ظلم و بربریت کے بجائے عدل و انصاف کا وطیرہ اختیارکرلے۔ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۴۲ میں رسولِ رحمت ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے یہ حکم دیاگیا کہ وَاِنْ  حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ اگر تم فیصلہ کرو تو ان میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو یقیناً عدل کرنے والوں کے ساتھ اللہ محبت رکھتا ہے۔ لوگوں کے معاملات میں جب کبھی فیصلہ کرنے کی نوبت آئے تو ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ اگر ہمارے فیصلوں میں عدل و انصاف نہیں ہوگا تو یقینا ہم اللہ کی محبت سے محروم ہوجائیں گے۔ سورۂ حجرات کی آیت نمبر ۹ میں دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو تو مصالحت کا حکم دیتے ہوئے یہ حکم دیاگیا کہ انصاف کے ساتھ صلح کردو اور عدل سے کام لو فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ   وَاَقْسِطُوْا ط  اِنَّ   اللہَ   یُحِبُّ   الْمُقْسِطِیْنَ  پھر انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور عدل کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا