تاریخ سبیل الرشاد
(چوتھی قسط)
۷؍ شوال ۱۳۸۶ ھ (۱۹ جنوری ۱۹۶۷ء ) کو دارالعلوم نے اپنی زندگی کے ساتویں سال میں قدم رکھا ۔ ساتواں سال کسی بھی نو خیز ادارے کی تاریخ میں بے حد اہمیت رکھتا ہے ، جیسے کوئی کسان بیج بو کر محنت کرنے کے بعد فصل کاٹنے کا جب وقت آتاہے تو جو خوشی وہ محسوس کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ خوشی اور مسرت مدرسہ والوںکو ہوتی ہے ، کیونکہ درسِ نظامی کا سات سالہ نصاب مکمل کرکے طلبہ عالمیت کی سند لینے کے قابل ہوتے ہیں۔
چنانچہ دارالعلوم کی زندگی کے ساتویں سال پہلی مرتبہ جلسہ دستاربندی طے پایا، حسنِ اتفاق سے سات ہی طلبہ فارغ التحصیل ہونے جارہے تھے ، جن کی دستار بندی کا تاریخی جلسہ مورخہ ۱۰؍ شوال ؍ ۱۳۸۶ ھ مطابق ۲۲ جنوری ۱۹۶۷ ء بروز یکشنبہ بعد نماز ظہر ۲ بجے انعقاد پذیر ہوا۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ(مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے فارغین کی دستاربندی فرمائی اور سند فراغت تقسیم فرمائی ، ملک کے مشاہیر علما ء کرام و اکابر حضرات تشریف لائے ، سند حاصل کرنے والے خوش نصیب جو دارالعلوم کے اولین فارغین ہوکر تاریخ رقم کیے ان کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں ۔
؍۱) مولوی محمد ولی اللہ رشادی ،بلنجپور،جو بانی دارالعلوم سبیل الرشاد بڑے حضرتؒ کے دوسرے فرزند ہیں۔
؍۲)مولوی محمد اسماعیل رشادی ۔۔ کانجار
؍۳) مولوی محمد اشرف علی رشادی ۔۔آتور
؍۴) مولوی نور محمد رشادی۔۔ کلکونی
؍۵) مولوی محمد صدیق رشادی۔۔ کانجار
؍۶) مولوی سید عباس رشادی۔۔ بنگلور
؍۷) مولوی محمد عیسیٰ رشادی۔۔ ایرومیل
| ،بلنجپور،جو بانی دارالعلوم سبیل الرشاد بڑے حضرتؒ کے دوسرے فرزند ہیں۔ | مولوی محمد ولی اللہ رشادی | ۱ |
|---|---|---|
| کانجار | مولوی محمد اسماعیل رشادی | ۲ |
| آتور | مولوی محمد اشرف علی رشادی | ۳ |
| کلکونی | مولوی نور محمد رشادی | |
| کانجار | مولوی محمد صدیق رشادی | ۵ |
| بنگلور | مولوی سید عباس رشادی | ۶ |
| ایرومیل | مولوی محمد عیسیٰ رشادی |
اس تاریخ ساز موقع پر مختلف مقامات سے مبارکبادی کے پیغامات موصول ہوئے ، بانی سبیل الرشاد کے دو قدیم شاگرد مولوی محمد اسماعیل ندوی وشارمی اور مولوی عبداللہ باشا باقوی جدوالی نے جامعہ ازہر مصر سے پیغامات روانہ کیے ، مقامی اخبارات نے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جلسہ کی مکمل روائداد شائع کی ، روزنامہ سلطان بنگلور نے جو حضرت مولانا عبدالباری عمری کی زیر ادارت شائع ہورہا تھا، حسب ذیل اداریہ سپردِ قلم فرمایا ۔
جلسۂ دستار بندی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور
’’ریاست میسور (جس کو آج ریاست کرناٹک کہاجاتاہے ) میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پچیس لاکھ ہے لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے کہ یہاں کے مسلمان ایک عرصے تک دینی تعلیم کے مکمل اور معقول انتظام سے یکسر غافل رہے ، آس پاس کی ریاستوں میں دینی تعلیم کے لئے بڑے بڑے مدارس قائم تھے لیکن اس ریاست میں ایسا کوئی جامعہ نہیں تھا جس میں کوئی طالب علم عربی کا دینی نظامی کورس باقاعدہ ختم کرسکے ، اس میں شک نہیں کہ ریاست کے کئی مخلص اور دیندار حضرات نے عربی جامعہ کے لئے بارہا کوششیں کیں لیکن ان کی ساری کوششیں دینی مکاتب یا نا مکمل عربی مدارس کی حد تک پہنچ کر رک گئیں۔
پھر اس کے بعد یہ مکاتب یا نا مکمل مدارس یا تو ختم ہوگئے یا سرکاری مدارس کی صورت میں بدل گئے ۔ ان ناگوار حالات کے باوجود ریاست میں بعض ایسے مخلص حضرات بھی موجود تھے جنہیں مدارس عربیہ کی اس تباہی و بربادی کا انتہائی رنج و ملال تھا اور وہ سرکاری مدارس کے ساتھ ساتھ عربی مدارس کی نشاۃ ثانیہ کے لئے طاقت بھر کوشش کرتے تھے اوراللہ تعالیٰ سے مخلصانہ دعائیں مانگتے تھے کہ وہ پردۂ غیب سے کوئی ایسی صورت پیدا کردے جو دینی عربی جامعہ کے لئے قوی و مؤثر سبب کا کام دے سکے ۔
اللہ کا شکر وا حسان ہے کہ اس نے ان مخلصین کی پُر درد اور پُر خلوص دعاؤں کو شرف قبولیت سے سرفراز کیا اور مدرسۂ باقیات صالحات ویلور سے ایک عالم با عمل خدا ترس بزرگ کے دل میں اپنے قدیم ماحول سے مکمل طورپر الگ ہوجانے کا پر زورجذبہ پیدا کیا ، جس کے نتیجے میں آپ مدرسۂ باقیات صالحات سے الگ ہوکر بغیر کسی تجویز و تدبیر کے بنگلور تشریف لانے پر مجبور ہوگئے ، یہاں آنے کے بعد آپ کو اپنے قدیم رفقاء کا ایک ایسا ماحول ملا جو قدرت کی پوشیدہ کار فرمائیوں کی بدولت دینی مدرسہ قائم کرنے کے لئے ابتداء ہی سے سازگار تھا ، مگر ایک حرکت کی ضرورت تھی ، اس کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مولانا ابوالسعود احمد صاحب ؒ کی ذاتِ گرامی کو منتخب فرمایا ۔
آپ کی ایک معمولی حرکت سے سارا ماحول دینی مدرسہ قائم کرنے کے لئے سازگار ہوگیا ، دینی تعلیمی مدرسہ کی راہ میں جس قدر رکاوٹیں تھیں وہ ساری دور ہوگئیں ، چاروں طرف سے اسباب و ذرائع فراہم ہونے لگے ۔ ایک ہفتے کی قلیل مدت میں بارہ ایکڑ کا پلاٹ خریدلیا گیا اور وہاں پورے عزم و توکل کے ساتھ دارالعلوم کی بنیاد ڈال دی گئی ۔ مولانا کے انتظامی معاملات کی مہارت نے یہاں بھی اپنا جوہر دکھایا ،دیکھتے دیکھتے مدرسہ ترقی کے منازل طے کرتا چلا گیا ، نئی نئی عمارتیں کھڑی ہوگئیں ، قابل اساتذہ کا اسٹاف فراہم ہوگیا ،قیمتی اور نایاب کتابوں پر مشتمل لائبریری کی تشکیل ہوگئی ، دو سو طلبہ کے قیام و طعام کے لئے ہاسٹل بن گیا اور پورے زور و شور کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ چلنے لگا۔
ابتداء میں بعض حضرات کو یہ یقین تھا کہ دارالعلوم اپنی تکمیل کو پہنچنے سے پہلے ہی دو چار سالوں کے اندر اندر اپنا دم توڑ دے گا ، ان کا خیال تھا کہ اس دور میں جب کہ ہر ایک عصری علوم ہی کو اپنی دنیوی زندگی کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور خالص عربی علوم کی تحصیل کو اپنے لئے ننگ و عار کا باعث خیال کرتا ہے بھلا کون ایسا طالب علم ہوگا جو عصری علوم پر عربی علوم کو ترجیح دے سکے ۔ پھر ان کا یہ بھی تصور تھا کہ اس ماحول میں ایسے مخلص دیندار حضرات بھی کہاں سے فراہم ہوسکیں گے جو محض دینی جذبے کے تحت خالصۃً لوجہ اللہ ہزاروں روپے دینی مدرسہ پر صرف کرسکیں ۔ ان کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ جنوبی ہند میں ایسے اساتذہ بھی کہاں سے فراہم ہوسکتے ہیں جو طلبہ کو مکمل طور پر عربی کا نظامی کورس پڑھاسکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ ساری صورتیں بھی ممکن ہوجائیں تو ان کا بقا عارضی مدت کے لئے ہوگا اور قبل اس کے کہ دینی نصاب کی تکمیل ہو نئی نئی دقتیں پیداہوںگی اور سارا بنا بنایا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
لیکن الحمد للہ ! یہ سارے اندازے اور اندیشے ایک ایک کرکے غلط ثابت ہوگئے اور اخلاص و للہیت کا کرشمہ پوری تابانی کے ساتھ ظاہر ہوا ۔ دارالعلوم دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگا تاآنکہ اس سال اس مدرسے سے سات طلبہ نے نظامیہ کورس کی تکمیل کی اور کل ۲۲ جنوری ۱۹۶۷ ءفارغین اول کی دستار بندی کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا ۔ جس میں حکیم الاسلام حضرت علامہ قاری محمد طیب صاحبؒ (مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے اپنے ہاتھوں سے اسناد علمی تقسیم فرمائے ۔
دارالعلوم سبیل الرشاد کی اس عظیم کامیابی کو دیکھ کر اس کے بانیوں اورمعاونوں کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس عظیم کارنامے کے اجر میں دین و دنیا کی دولت سے مالامال کرے اور آئندہ ان کی ہمتیں بلند کرے کہ وہ اس خاص عربی جامعہ کو پروان چڑھانے میںپہلے سے زیادہ کوشش کریں ، نیز ہماری دعا ہے کہ جن طلبہ نے اس جامعہ سے فراغت حاصل کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے علم کو نہ خود ان کے لئے بلکہ تمام انسانوں کے لئے باعث رحمت بنائے ۔ (آمین )‘‘
روزنامہ سلطان بنگلور
مورخہ ۲۳ جنوری ۱۹۶۷ء
الحمد للہ ایسے بیسیوں نہیں سیکڑوں خیر خواہوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ہر سال فارغین کی تعداد بڑھتی رہی ، اساتذہ و ذمہ داروں کی محنت رنگ لاتی رہی ، ابھی ۲۵ رجب ۱۴۴۳ھ ۲۷ فروری ۲۰۲۲ء کو قمری سال کے مطابق پچپن ، چھپن اور ستاویں سال کے فارغ طلبہ کا عظیم الشان جلسۂ دستار بندی و تقسیم اسناد منعقدہوا تھا۔
لاک ڈاؤن اور چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر رکاوٹیں پیدا ہوگئیں تھیںلہٰذا تین سالوں کے فارغین کو بیک وقت جمع کرنا پڑا۔
اس جلسہ میں مہمانِ خصوصی عارف باللہ شیخ التصوف حضرت مولانا شاہ محمد قمر الزماں صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رحمہ اللہ کو مدعو کیا گیا تھا ، اسی طرح قدیم فارغین کو بھی شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی تھی ۔ اس میں ۱۴۴۰ھ، ۱۴۴۱ھ اور ۱۴۴۳ھ کے فضلاء، علماء، حفاظ ، قرائے سبعہ اور قرائے حفص کے علاوہ شعبہ افتاء سے فارغ ہونے والے اولین طلبہ نے بھی دستار اور سند فراغت حاصل کیا ۔ فارغین کی کل تعداد ۲۵۳ تھی ، یہ دو روزہ کامیاب اجلاس بحسن وخوبی انجام پایا اور یوں ہی تا قیام قیامت سلسلہ چلتا رہے گا انشاء اللہ اور یہ اسلامی قلعے زندہ تابندہ و پائندہ رہیں گے ۔
اس جلسے میں جن احباب نے ہمارا اپنی وسعت و صلاحیت کے مطابق تعاون فرمایا ، ہم ان کے دل کی گہرائیوں سے شکر گذارہیں۔ اللہ انہیں دنیاوآخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے۔ آمین ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ مناسب ہوگا کہ ۱۴۴۲ھ کو جماعت ہفتم (تحصیل) والوں کو درس و تدریس کا مکمل تعلیمی سال نہ مل پانے کی وجہ سے نہیں بلایا گیا تھا ۔ ۱۴۴۳ھ میں دو سال کے طلبہ نے جماعت ہفتم میں داخلہ لیا ، اس طرح ۶۴ علماء فارغ ہوئے تھے ۔ اللہ کرے یہ چمن اسی طرح اپنی بہاریں لاتا رہے اور یہ علمی ، دینی ، تربیتی و تبلیغی خدمات تا قیامت باقی رہے، جاری و ساری رہے ۔ آمین ۔
(جاری)