مضامین سلسبیل

درس حدیث جلد ۱ شمارہ ۴

عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اِلَّا قَالَ لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، مشکوۃ)

ترجمہ: حضرت انس ؓ نے ارشاد فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےہمیں خطبہ دیا ہو اور یہ بات ارشاد نہ فرمائی کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہواور اس شخص کا دین نہیں جس نے عہدپورا نہ کیا ہو۔

اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کمالِ ایمان کا تقاضہ ہے کہ امانت ادا کرے ، اگر کسی کے پاس کوئی چیز امانت رکھی گئی ہے تو لازم ہے کہ جب امانت دینے والا اپنی دی ہوئی چیز مانگتا ہے تو فوراً اس کو واپس کردے ۔ امانت کی پوری حفاظت کرنا اور اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرنا ،اس میں کسی بھی طرح رد و بدل نہ کرنا اور مانگنے پر ٹال مٹول کے بغیر واپس کرنا یہی امانتداری ہے ۔ 
یہودیوں میںیہ عادت تھی کہ امانت میںخیانت کرتے تھے اور فصلِ خصومات میں رشوت کی وجہ سے کسی کی خاطر رعایت کرکے خلافِ حق حکم دیتے اور غلط فیصلہ صادر کرتے، اس لئے مسلمانوں کو ان دونوں باتوں سے روکا گیا ہے ، فرمانِ خداوندی ہے

ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (والمحصنت) ا

 اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کردو، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ صادر کرو تو انصاف والا فیصلہ صادر کرو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امانت داری کا حکم فرمایا ہے ۔ 
منقول ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ کےاندر داخل ہونا چاہا تو عثمان بن طلحہ کلید بردارِ خانہ کعبہ نے کنجی دینے سے انکار کردیا تو حضرت علیؓ نے اس سے چھین کر دروازہ کھولا ۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوکر باہر تشریف لائے تو حضرت عباسؓ نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ یہ کنجی مجھ کو مل جائے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی  ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا  اور حضور ﷺ نے کنجی عثمان بن طلحہ کے حوالے کردی۔ 
ان اللہ نعما یعظکم بہ  یعنی اللہ نے جو تم کو ادائے امانت اور عدل کے موافق فیصلہ دینے کا حکم فرمایا ہے یہ تمہارے لئے سراسر مفید ہے ۔(علامہ شبیر احمد عثمانیؒ)
اس آیت کا شانِ نزول تفسیر جلالین میں اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے وقت مکہ میں تشریف لائے اور عثمان بن طلحہ حجبی نے کعبہ کی چابی دینے سے انکار کیا تو حضرت علی ؓ نے ان سے زبردستی چابی لے لی ، بعد میںجب عثمان بن طلحہ کو معلوم ہوا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو کہا  لو علمتُ انہ رسول اللہ لم امنعہ اگر مجھے پہلے ہی معلوم ہوجاتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میںانکار نہ کرتا ۔ رسول اللہ ﷺ نے چابی عثمان بن طلحہ کےحوالے کرنے کا حکم فرمایا اورفرمایا کہ یہ چابی ہمیشہ کےلئے اپنے پاس رکھو، اس سے عثمان بن طلحہ کو تعجب ہوا اور حضرت علیؓ نے یہ آیت ان کو سنائی تو عثمان بن طلحہ مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔ اپنے انتقال کے وقت عثمان بن طلحہ نے چابی اپنے بھائی شیبہ کو دی ، چنانچہ کلید برداری کا شرف آج بھی ان کے اہل خاندان کو ہی حاصل ہے ۔ کعبۃ اللہ کی چابی دورِ جاہلیت سے حضرت عثمان بن طلحہ اوران کے اجداد کے پاس رہتی تھی ، یہ چابی ان کی امانت تھی ، اللہ نے حکم دیا کہ امانت اہل امانت تک پہنچادو ، رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی کا حکم فرمایا ، اس آیت کا نزول اگرچہ ایک خاص سبب سے متعلق ہے لیکن صیغہ کے قرینے سے آیت عموم پر دلالت کرتی ہے ۔
لفظ امانت کی مختلف مرادیں حضراتِ صحابہ کرام اور دیگر اکابر علماء سے ہمیں ملی ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ امانت سے مراد اطاعت ہے ، انہی کی ایک روایت میں فرائض مراد ہیں ، یہی جمہور کا مذہب ہے ۔ حضرت قتادہؒ نے فرمایا امانت سے مراد دین ، فرائض اور حدود ہیں۔ بعض نے کہا کہ عہد الست مرادہے جس کو اللہ تعالیٰ نےیوں ذکر فرمایا  واذا اخذ ربک من بنی آدم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلیٰ ۔ بعض نے فرمایا کہ امانت سے مراد عقل دے کر مکلف بنانا ہے ۔ علامہ ادریس کاندھلوی ؒ نے فرمایا :امانت جو مخلوق سے متعلق ہے وہ تو ظاہر ہے باقی امانت مع اللہ  فھی ما کلف بہ من الطاعۃ  یعنی جس طاعت کا مکلف بنایا گیا وہ لازم الوجود اور امانت لازم الاداء ہے ۔ (التعلیق الصبیح)
حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا  العاریۃ مؤدا عاریت لی ہوئی چیز کو (جو امانت کا حکم رکھتی ہے ) پوری حفاظت سے واپس کردیں ۔ فرمایا  والدین مقضی جو قرض کسی سے لیا ہو اس کو ادا کردے ، ایک موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا چار خصلتیں ہیں اگر وہ تجھ میں ہوں تو دنیا کی کسی چیز کے کم ہوجانے میں کچھ حرج نہیں ۔ (۱) خوش خلقی(۲) اکل حلال (۳) صدق مقال (۴) حفاظت امانت ۔ 
امانت صرف روپے پیسے میں منحصر نہیں ہے ، چنانچہ حاکم محکوموں کا امین ہے ، ان کا بھی حق امانت داری ادا کرنا لازم ہے ۔ حضرت عمرؓ نے اس امانت کا پورا پورا حق ادا کیا، جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
حضرت عمرؓ کے دورِخلافت میں ایک قافلہ مدینہ منورہ آیااور شہرکے باہر نزول کیا ۔ حضرت عمرؓ کو اس قافلے کی خبر ملی تو اس کی خبر گیری کےلئے حضرت عمرؓ خود تشریف لے گئے ،پہرہ دیتے رہے ،اچانک ایک جانب سے رونے کی آواز آئی ، آپ وہاں تشریف لے گئے ،دیکھا ایک بچہ شیر خوار ہے ، وہ اپنی ماں کی گود میں رورہا تھا۔ماں کو تاکید کی کہ بچے کو دودھ پلائے ، تھوڑی دیر بعد ادھرسے دوبارہ امیر المومنین گذرے تو بچہ بدستور رو رہا تھا ، آپ نے غصہ سے فرمایا کہ تو بچے کی نگرانی نہیں کرتی، ماں نے عرض کیا کہ آپ کو حقیقت کا علم نہیں ہے ، خواہ مجھے ڈانٹ رہے ہو ، آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ امیر المومنین نے حکم دیا ہے کہ جب تک بچہ دودھ نہ چھوڑے بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے ، میں اسی غرض سے دودھ چھڑا رہی ہوں اور بچہ رو رہا ہے ۔ جب امیر المومنین نے یہ سنا تو ان پر بہت رقت طاری ہوئی اور کہا کہ عمر تم نے کتنے بچوں کو رلایا ہوگا اور اسی دن منادی کرادی کہ بچہ کی پیدائش ہی کے دن سے اس کا وظیفہ جاری کردیا جائے ۔ 
اگر تمام حکام اپنے ماتحتوں کو اپنی امانت سمجھیں تو ان کی حفاظت اور غمخواری کے جذبات ان کے اندر ابھریں گے اور ہر ایک بات کا خیال کریں گے ۔ اگر ان کے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو بلکہ وہ ما تحتوں کی خیرخواہی کے بجائے بد خواہی کریں تو وہ حاکم ہونے کے لائق نہیں ہیں۔اے کاش، آج کے حکام چاہے وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں یا ادنی عہدوں پر ، ان کے اندر ایسے جذبات پیدا ہوجائیں ۔
امانت اعلیٰ عہدوں پر فائز حکام ، افسران ، اہل حکومت و سلطنت کےساتھ مختص نہیں بلکہ کسی مجلس میں جو باتیں ہوتی ہیں وہ بھی امانت ہیں ، وہ باہر نہ بتائی جائیں ، اس کو فاش کرنا خیانت ہے ۔ حدیث میں ہے کہ  اذا حدث الرجل الحدیث ثم التفت فھی امانۃ یعنی جب کوئی بات کرکے چلا جائے وہ بات امانت ہے ، اس کو فاش نہ کرنا چاہئے ، اگر وہ راز کو ظاہر کردے تووہ خیانت ہے ۔ 
ہر مومن کو چاہئے کہ اپنی زندگی امانت داری کے ساتھ گذاریں ، چاہے دینی لائن کی بات ہو یا دنیوی ، خلوت میں ہو یا جلوت میں ، سب امانت ہے ۔ اس کے خلاف کرنا خیانت ہے ۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا