مضامین سلسبیل

مولانا افتخار احمدمحسن رشادی

مدرس- دارالعلوم سبیل الرشاد ، بنگلور

اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ(۱) فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ(۲) اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ( ۳)(سورۃ الکوثر )

ترجمہ:(اے پیغمبرؐ)یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے ،(۱ )لہٰذا تم اپنے پروردگار(کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔(۲) یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔(۳)

تشریح:کوثر :یہ کثرت سے مبالغہ کا صیغہ ہے ، اس کے لغوی معنی بے انتہاء کثرت کے ہیں، اس لئے اس لفظ کی مراد کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیںجو آگے مذکور ہیں لیکن سب سے جامع مفہوم حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا ہے  ھو الخیر الذی اعطاہ اللہ ایاہ (بخاری)یعنی یہ ایسی بھلائی اور خیر ہے کہ اللہ نے صرف آ پ ہی کو عطا کی ہے ، یعنی خیر کثیر ، یعنی دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں۔ ابوبشر کہتے  ہیں کہ میں نےحضرت ابن عباس کے شاگرد سعید بن جبیرؒ سے یہ سن کر کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے ، تو سعید نے فرمایا : وہ بھی ان بھلائیوں اور خیر میں داخل ہے جو آپ کو اللہ کی طرف سے عنایت ہوئی ہیں۔ 
شَانِیٌٔ : یہ  شَنْ ءٌ سے ماخوذ ہے ،اس کے لغوی معنی دشمنی رکھنا ، دشمنی کرنا، بغض رکھنا ، نفرت کرنا کے ہیں۔ 
اَبْتَرْ   :کے لغوی معنی دُم کٹا ، مقطو ع النسل ، بے اولاد ، جس کے مرنے کے بعد کوئی نام لینے والا باقی نہ رہے ۔ کفارِ قریش رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالی نے سورۂ کوثر نازل فرمائی۔

فرمایا کہ اے نبی، ابتر آپ نہیں بلکہ آپ کے یہ دشمن ہی ابتر ہیں۔حالات کی سختیوں سے پریشان نہ ہوں ، عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والاہے، اس سورت کے ذریعے آپ کو تسلی اور خوشخبری دی اور مخالفین کی تباہی و بربادی کی پیشین گوئی بھی کی جو حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ 

چنانچہ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت محمد بن علی بن حسینؓ سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کی اولاد ذکور مرجائے اس کو عرب ابتر کہا کرتے تھے یعنی مقطوع النسل ۔ جس وقت نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے قاسم یا ابراہیم کابچپن ہی میں انتقال ہوگیا تو کفار مکہ آپ کو ابتر کہہ کر طعنہ دینے لگے ایسا کہنے والوں میں عاص بن وائل کا نام خاص طور پر ذکر کیا جاتاہے ، اس کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو کہتا کہ ان کی بات چھوڑو ، یہ کچھ فکر کرنے کی چیز نہیں ،کیونکہ وہ ابتر (مقطوع النسل) ہیں، جب ان کا انتقال ہوجائے گا ، ان کا کوئی نام لینے ولا بھی نہ رہے گا ، اس پر سورۂ کوثر نازل ہوئی ۔ ( ابن کثیر و مظہری) 
بعض روایات میں ہے کہ کعب بن اشرف یہود ی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آیاتو قریش مکہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ آپ اس نوجوان کو نہیں دیکھتے جو کہتا ہے کہ وہ ہم سب سے (دین کے اعتبار سے) بہتر ہے حالانکہ ہم حجاج کی خدمت کرنے والے ہیںاور بیت اللہ کی حفاظت کرنے والےہیں،اور لوگوں کو پانی پلانے والے ہیں ، کعب نے یہ سن کر کہا کہ نہیں تم لوگ ہی اس سے بہتر ہو، اس پر یہ سورۂ کوثر نازل ہوئی ۔ (ابن کثیر)
اس وقت آپ کے ظاہری جوحالات تھے ان کو دیکھ کر دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر حیثیت سے تباہ ہو چکے ۔ قوم سے کٹ کر بے یارو مددگار رہ گئے ۔ تجارت بر باد ہوگئی ۔ اولاد ِنرینہ تھی، جس سے آگے ان کا نام چل سکتا تھا، وہ بھی وفات پا گئی۔ بات ایسی لے کر اٹھے ہیں کہ چند گنے چنے آدمی چھوڑ کر مکہ تو درکنار، پورے عرب میں کوئی اس کو سننا تک گوارا نہیں کرتا۔ اس لیے ان کے مقدر میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ جیتے جی ناکامی و نامرادی سے دوچار رہیں، اور جب وفات پا جائیں تو دنیا میں کوئی ان کا نام لیوا بھی نہ ہو۔ اس حالت میں جب الله تعالی کی طرف سے یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تمھیں کوثر عطا کر دیا، تو اس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ تمھارے مخالف بے وقوف تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ تم بر باد ہوگئے اور نبوت سے پہلے جو نعمتیں تمھیں حاصل تھیں وہ بھی تم سے چھن گئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمھیں (کوثر)بے انتہا خیر اور بے شمار نعمتوں سے نواز دیا ہے۔
لفظِ کوثر کے بارے میں حضراتِ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں،ان کی رو سے اس میں اخلاق کی وہ بے نظیر خوبیاں بھی شامل ہیں جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بخشی گئیں۔اس میں نبوت اور قرآن اورعلم و حکمت کی وہ عظیم نعمتیں بھی شامل ہیں جو آپ کو عطا کی گئیں۔ اس میں توحید اور ایک ایسے نظام زندگی کی نعمت بھی شامل ہے جس کے سیدھے سادھے، عام فہم ،عقل وفطرت کے مطابق اور جامع و ہمہ گیر اصول ہیں جو تمام عالم میں پھیل جانے اور ہمیشہ پھیلتے ہی چلے جانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس میں رفعِ ذکر کی نعمت بھی شامل ہے جس کی بدولت حضورؐکا نام نامی چودہ سو برس سے دنیا کے گوشے گوشے میں بلند ہو رہا ہے اور قیامت تک بلند ہوتا رہے گا۔ اس میں یہ نعمت بھی شامل ہے کہ آپ کی دعوت سے بالآخر ایک ایسی عالم گیر امت وجود میں آئی جو دنیا میں ہمیشہ کے لیے دین حق کی علمبردار بن گئی، جس سے زیادہ نیک اور پاکیزہ اور بلند پایہ امت کبھی پیدا نہیں ہوئی، اور جو بگاڑ کی حالت کو پہنچ کر بھی دنیا کی سب قوموں سے بڑھ کرخیر اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس میں یہ نعمت بھی شامل ہے کہ حضور ؐنے اپنی آنکھوں سے اپنی حیات مبارکہ ہی میں اپنی دعوت کو انتہائی کامیاب دیکھ لیا اور آپ کے ہاتھوں سے وہ جماعت تیار ہوگئی جو دنیا پر چھا جانے کی طاقت رکھتی تھی۔ اس میں ہے یہ نعمت بھی شامل ہے کہ اولاد نرینہ سے محروم ہوجانے کی بنا پر دشمن تو یہ سمجھتے تھے کہ آپ کا نام ونشان دنیا سے مٹ جائے گا۔ لیکن اللہ نے صرف یہی نہیں کہ مسلمانوں کی صورت میں آپ کو وہ روحانی اولاد عطا فرمائی جو قیامت تک روئے زمین پر آپ کا نام روشن کرنے والی ہے، بلکہ آپ کی صرف ایک ہی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ سے آپ کو وہ جسمانی اولاد کی عطا کی جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کا سارا سرمایۂ افتخارہی حضور ﷺ سے اس کا انتساب ہے۔
یہ تو وہ نعمتیں ہیں جو اس دنیا میں لوگوں نے دیکھ لیں کہ وہ کس فراوانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائیں۔ ان کے علا وہ کوثر سے مراد دو ایسی عظیم نعمتیں بھی ہیں جو آخرت میں الله تعالی آپ کو دینے والا ہے۔ ان کو جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی خبر دی اور بتایا کہ کوثر سے مراد حوضِ کوثربھی ہے، جو قیامت کے روز میدان محشر میں آپؐ کو ملے گا۔ دوسرے نہرِ کوثر بھی ہے جو جنت میں آپ کو عطا فرمایا جائے گا ۔ ان دونوں کے متعلق اس کثرت سے احادیث حضورؐ سے منقول ہوئی ہیں اور اتنے کثیر راویوں نے ان کو روایت کیا ہے کہ ان کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ 
حوضِ کوثر کے تعلق سے حضورؐ نے جو ارشادات فرمائے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں: 
(۱)یہ حوض قیامت کے روز آپ کو عطا ہوگا اور اس سخت وقت میں جب کہ ہر ایک العطش العطش (پیاس پیاس)کر رہا ہو گا ،آپ کی امت آپ کے پاس اس پرحاضر ہوگی اور اس سے سیراب ہو گی۔ آپ اس پر سب سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور اس کے وسط میں تشریف فرما ہوں گے۔ آپ کا ارشاد ہے  هو حوض ترد عليه امتی یوم القيمة  وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز وارد ہوگی۔(مسلم) 
حضرت ابو برزہ اسلمی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے حوض کے تعلق سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک نہیں ،دو نہیں ، تین نہیں ، چار نہیں ، پانچ نہیں ، بار با رسنا ہے، جو اس کو جھٹلائے اللہ اسے اس کا پانی پینا نصیب نہ کرے۔ (ابوداؤد)
عبیداللہ بن زیاد حوض کے بارے میں روایات کو جھوٹ کہتا تھا حتی کہ اس نے حضرت ابو برزہ اسلمی ، براء بن عازب اور عائذ بن عمرورضی اللہ عنہم کی سب روایات کو جھٹلا دیا۔ آخر کار ابوبرزہ ایک تحریر نکال کر لائے جو انھوں نے حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص سے سن کر نقل کی تھی اور اس میں حضور کا یہ ارشاد درج تھا کہ الا إن موعد کم حوضی – آگاہ رہو، میری اورتمہاری ملاقات کی جگہ میرا حوض ہے۔“ (مسند احمد) 
(۲)اس حوض کی وسعت مختلف روایات میں مختلف بیان کی گئی ہے۔ مگر کثیر روایات میں یہ ہے کہ وہ ایلہ سے یمن کے صنعاء تک یاعدن سے عمان تک طویل ہو گا، اور اس کی چوڑائی اتنی ہوگی جتنا ایلہ سے جحفہ (جدہ اور رابغ کے درمیان ایک مقام )تک کا فاصلہ ہے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) 
(۳) اس حوض کے متعلق حضورؐ نے بتایا ہے کہ اس میں جنت کی نہر کوثر (جس کا ذکر آگے آرہا ہے) سے پانی پہنچایا جائے گا۔یعنی جنت سے دو نالیاں نکال کران سے پانی بہم پہنچایا جائے گا۔ (مسلم)  ایک اور روایت میں ہے: يفتح نهر من الكوثر الى الحوض، جنت کی نہر کوثر سے ایک نہر اس حوض کی طرف کھول دی جائے گی ۔ (مسند احمد )
(۴) اس کی کیفیت حضورؐ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کا پانی دودھ سے (اور بعض روایات میں ہے کہ چاندی سے، اور بعض میں برف سے زیادہ سفیداور برف سے زیا دہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا ، اس کی تہہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار | ہوگی ، اس پراتنےکوزے رکھے ہوں گے جتنے آسمان میں ستارے ہیں ۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھرکبھی پیاس نہ لگے گی، اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ پھر کبھی سیراب نہ ہو گا۔ یہ باتیں تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ بکثرت احادیث میں منقول ہوئی ہیں ۔ ( بخاری ،مسلم،ترمذی) 
حضور نے بار بار اپنی امت کو خبردار کیا ہےکہ میرے بعد تم میں سے جو لوگ بھی میرے طریقے کو بدلیں گے ، ان کو اس حوض سے ہٹادیا جائے گا اور اس پر انہیں آنے نہیںدیا جائے گا۔ میں کہوں گا کہ یہ میرے اصحاب ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا ہے۔ پھر میں بھی ان کو دفع کروں گا اور کہوں گا کہ دور ہوجاؤ۔
جنت میں کوثر نامی جو نہر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو عطا کی جائے گی، اس کا ذکر بھی بکثرت روایات میں آیا ہے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ معراج کے موقع پر حضورؐ کو جنت کی سیر کرائی گئی ، اس موقع پر آپ نے ایک نہردیکھی جس کے کناروں پر اندر سے تراشے ہوئے موتیوں یا ہیروں کے قبے بنے ہوئے تھے۔ اس کی تہ کی مٹی مشک اَذفرکی تھی ۔ حضور ﷺ نے جبرئیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا’’ یہ نہر کوثر ہے جو آپ کو الله تعالی نے عطا کی ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم ، ترمذی ) 
حضرت انس ہی کی روایت ہے کہ حضورؐ سے ایک شخص نے پوچھا :’’کوثر کیا ہے‘‘؟ آپ نے فرمایا:’’ ایک نہر ہے جو الله تعالی نے مجھے جنت میں عطا کی ہے ۔ اس کی مٹی مشک کی ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے‘‘۔ (ترمذی)۔
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے ارشاد فر مایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کے کنارے سونے کے ہیں ، وہ موتیوں اور ہیروں پر بہہ رہی ہے (یعنی کنکریوں کی جگہ اس کی تہہ میں ہیرے جواہرات پڑے ہوئے ہیں )، اس کی مٹی مشک سے ز یادہ خوشبودار ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سے زیادہ سفید ہے، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیاد ہ میٹھا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ اس کی مختلف تفسیریں منقول ہیں ۔ بعض نے نماز سے مراد پنج وقتہ فرض نمازلی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد بقر عید کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد قربانی کرنا ہے لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اے نبی جب آپ کےرب نے آپ کو اتنی کثیر اورعظیم بھلائیاں عطا کی ہیں تو آپ شکریہ میں عظیم بدنی عبادت یعنی نمازاسی کے لئے پڑھئےاورعظیم مالی عبادت یعنی قربانی اسی کے لیے کیجئے۔ یہ حکم اس ماحول میں دیا گیا تھا جب مشرکین قریش ہی نہیںبلکہ تمام عرب کے مشرکین اور دنیا بھر کے مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے تھے اور انہی کے آستانوں پر قربانیاں چڑھاتے تھے۔ پس حکم کا منشا یہ ہے کہ مشرکین کے برعکس آپ اپنے اسی طریقہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہئے تاکہ آپ کی نماز بھی اللہ ہی کے لیے ہو اور قربانی بھی اسی کے لیے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ۔

اے نبی، کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے ،جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سراطاعت جھکانے والاہوں (سورۃ الانعام ۱۶۲-۱۶۳)

   اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ جس وقت یہ پیشین گوئی کی گئی تھی، اس وقت لوگ حضور ؐہی کو ابتر سمجھ رہے تھے اور کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہو جائیں گے جو نہ صرف مکہ میں بلکہ پورے ملک عرب میں نامورتھے، کامیاب تھے، مال و دولت اور اولاد ہی کی نعمتیں نہیں بلکہ سارے ملک میں جگہ جگہ اپنے اعوان و انصار رکھتے تھے ،تجارت کے اجارہ دار اورحج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام قبائلی عرب سے ان کے وسیع تعلقات تھے ۔ لیکن چند سال نہ گزرے تھے کہ حالات بالکل پلٹ گئے ۔ یا تو وہ وقت تھا کہ غزوۂ احزاب ۵    ؁ھ کے موقع پر قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل کو لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور کو محصور ہو کر شہر کے گردخندق کھودکر مدافعت کرنی پڑی تھی،یا پھر اس کے صرف تین سال بعد ہی وہ وقت آیا کہ  ۸    ؁ھ میں جب آپ نے مکہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگارنہ تھا اور انہیں بے بسی کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے پڑے۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر پورا ملک عرب حضورؐ کے ہاتھ میں تھا، ملک کے گوشے گوشے سے قبائل کے وفود آ کر بیعت کر رہے تھے، اور آپ کے دشمن بالکل بے بس اور بے یارومددگار ہو کر رہ گئےتھے۔ پھر وہ بے نام و نشان ہوگئے، اگران کی اولاد دنیا میں باقی رہی بھی تو ان کوآج کوئی  نہیں جانتا کہ یہ ابوجہل یا ابولہب یا عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد ہے۔ اس کے برعکس آپؐ پر اور آپؐ کی آل پر برابر دنیا بھر میں درودوسلام بھیجا جا رہا ہے۔ کروڑوں مسلمانوں کو آپ سے نسبت پر فخر ہے۔ لاکھوں انسان آپ ہی سے نہیں بلکہ آپ کے خاندان اور آپ کے ساتھیوں کے خاندانوں تک سے انتساب کو باعث عزوشرف سمجھتے ہیں۔ چنانچہ تاریخ نے ثابت کردیا کہ ابتر حضورؐ  نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہی تھےاور ہیںاور رسولِ مقبول ﷺ کے ذکر کو حق تعالیٰ نے ایسی رفعت اور عظمت عطا فرمائی کہ آپ کے عہد مبارک سے آج تک پوری دنیا کے چپہ چپہ پر آپ کا نامِ مبارک پانچ وقت اللہ کے نام کے ساتھ مسجد کے میناروں سے پکارا جاتا ہے اور صبح قیامت تک پکارا جاتا رہے گا انشاء اللہ ،اور آخرت میں صرف آپؐ کوحوضِ کوثر عطا کیا جائے گا اور مقامِ محمود و شفاعت کبریٰ کے درجۂ علیا سے نوازا جائے گا۔

اللھم صل و سلم وبارک علی سیدنا و نبینا محمد ﷺ

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا